تذکرہ اولیاءِ کرام و مشائخِ طریقت

 تذکرہ اولیاءِ کرام و مشائخِ طریقت

ساداتِ نقوی مودودی شاخ مشائخِ چشت

حضرت خواجہ سید ابو یوسف ناصرالدین چشتیؒ،حضرت خواجہ سید قطب الدین مودود چشتیؒ

ساداتِ حسینیہ کی برگزیدہ شاخ نقوی مودودی کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس سے وابستہ مشائخ نے نہ صرف روحانیت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں بلکہ سلسلہ چشتیہ کے قیام، استحکام اور اشاعت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اسی سلسلے کے دو جلیل القدر بزرگ، حضرت خواجہ ابو یوسف ناصرالدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے فرزند حضرت خواجہ سید قطب الدین مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جن کی روحانی عظمت، نسبی شرافت اور سلسلہ چشتیہ میں مرکزی حیثیت مسلمہ ہے۔

حضرت خواجہ ابو یوسف ناصرالدین چشتیؒ حضرت خواجہ ابو محمد چشتیؒ کے مرید تھے اور سلسلہ چشتیہ کے ابتدائی مشائخ میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نہایت زاہد، عبادت گزار، باکمال ولی اللہ، اور صاحبِ کشف و کرامت بزرگ تھے۔ آپ کی روحانی زندگی تقویٰ، طہارت، اور تصرفاتِ باطنی سے لبریز تھی۔ آپ کے وصال کے وقت آپ نے اپنے صاحبزادے حضرت قطب الدین مودود چشتیؒ کو بلایا، انہیں اپنا روحانی جانشین مقرر فرمایا اور سلسلہ چشتیہ کی ذمہ داریاں منتقل فرمائیں۔ آپ کا وصال 4 ربیع الاول 459 ہجری کو 64 سال کی عمر میں ہوا، اور آپ کو چشت، ہرات (افغانستان) میں دفن کیا گیا۔

آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام علی نقی علیہ السلام سے یوں ہے:

 حضرت خواجہ ابو یوسف ناصرالدین چشتیؒ بن سید ابو محمد سمعان شقلانیؒ بن سید ابراہیمؒ بن سید محمدؒ بن سید عبداللہؒ بن سید علی اصغرؒ بن سید جعفر ثانیؒ بن حضرت امام علی نقی علیہ السلام۔

 اس طرح آپ کا تعلق ساداتِ نقوی کی اس ممتاز شاخ سے ہے جسے بعد میں مودودی بھی کہا جاتا ہے، نسبتاً حضرت قطب الدین مودود چشتیؒ کی طرف۔

حضرت خواجہ سید قطب الدین مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ نہایت ممتاز روحانی شخصیت تھے، جنہیں سلسلہ چشتیہ میں محوری مقام حاصل ہے۔ آپ حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے پردادا پیر و مرشد تھے۔ آپ کی سیرت پاکیزگی، عبادت، باطن نوازی اور روحانی کمالات سے مزین تھی۔ اگرچہ آپ کا تفصیلی سوانحی احوال کتب میں محدود ہے، تاہم معتبر تذکروں میں آپ کی ولایت و کمالات کا ذکر ملتا ہے۔ آپ کے وصال کا وقت ایک روحانی واردات سے وابستہ ہے: ایک نورانی شخصیت حالتِ نزع میں تشریف لائیں، ایک ریشمی پارچہ پیش کیا جس پر پیغامِ الٰہی درج تھا، آپ نے وہ پارچہ آنکھوں سے لگایا، تبسم فرمایا اور روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ جنازے کے وقت غیبی ندا آئی: سب لوگ پیچھے ہٹ جائیں، یہ اللہ کا ولی اور پیشوائے عالم ہے، جس کے بعد مردانِ غیب نے نمازِ جنازہ ادا کی، اور آپ کا جنازہ ہوا میں بلند ہو کر جائے مدفن تک پہنچا۔ آپ کا وصال ماہ رجب 5بیس ہجری میں ہوا اور مدفن چشت، ہرات (افغانستان) میں ہے۔

یہ دونوں مشائخ نہ صرف سلسلہ چشتیہ کی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں بلکہ ساداتِ نقوی مودودی شاخ کی روحانی عظمت کا مظہر بھی ہیں، جن کا نسبی شرف اور روحانی فیضان آج تک جاری ہے۔

بعد از حضرت خواجہ سید قطب الدین مودود چشتیؒ

ائمۂ تصوف کے چار عظیم سلاسل اور ان کے نمائندہ اولیاء

یہ باب مکمل طور تاریخی و تذکرہ جاتی مواد کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس میں کسی قیاسی، غیر ثابت یا مخلوط روایت کو شامل نہیں کیا گیا۔ ہر بزرگ کا تعارف، سوانح، شجرۂ نسب اور شجرۂ طریقت الگ، واضح اور ترتیب میں پیش کیا گیا ہے۔

حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

سلطان الہند، امامِ سلسلۂ چشتیہ فی الہند

حضرت خواجہ سید معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کے سب سے عظیم صوفی بزرگ، سلسلۂ چشتیہ کے سب سے نمایاں امام اور روحانیتِ اسلام کے عالمگیر نمائندہ ہیں۔ آپ فارسی نژاد، اہلِ سنت، متصوف، عالم، واعظ اور زاہد تھے۔ آپ نے برصغیر میں تصوفِ چشتیہ کو محبت، خدمت اور رواداری کے ذریعے فروغ دیا ولادت آپ کی ولادت چودہ رجب 536 ہجری بمطابق 1141/1143ء کے قریب سیستان خراسان، ایران میں ہوئی۔ بچپن کا نام حسن تھا۔ والدین والد: سید غیاث الدین تاجر، زاہد و متقی والدہ: بی بی سیدہ ماہ نور صالحہ و عابدہ

شجرۂ نسب : حضرت خواجہ سید معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ بن سید غیاث الدین بن سید سراج الدین عبد اللہ بن سید الکریم عبد الرحمٰن بن سید محمد اکبر بن سید علی بن سید جعفر بن سید باقر بن سید محمد بن سید علی بن سید احمد بن سید ابراہیم المرتضیٰ الاصغر بن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام

تعلیم و تربیت : ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ کم عمری میں والدین کا وصال ہوا۔ وراثت میں ملنے والا باغ و چکی فروخت کر کے مال راہِ خدا میں تقسیم کیا۔ علومِ ظاہری کے لیے سمرقند و بخارا تشریف لے گئے جہاں قرآن، حدیث، فقہ اور تفسیر میں کمال حاصل کیا۔

بیعت و سلوک :بعد ازاں حضرت خواجہ عثمان ہارونی چشتیؒ سے بیعت کی۔ تقریباً اڑھائی سال مرشد کی خدمت، مجاہدہ اور ریاضت میں گزارے۔ حرمِ نبوی ﷺ میں روحانی بشارت حاصل ہوئی: "وعلیکم السلام یا سلطان الہند"۔

اسفار :بغداد، تبریز، اصفہان، خراسان، ہرات، سبزوار، استرآباد اور دیگر علاقوں میں قیام فرمایا۔ شیخ نجم الدین کبریٰ، شیخ عبد القادر جیلانیؒ اور دیگر اکابر سے ملاقاتیں ہوئیں۔

ہندوستان میں آمد و دعوت :سلطان التتمش کے دور میں ہندوستان آئے اور بالآخر اجمیر کو مرکز بنایا۔ محبت، مساوات، خدمتِ خلق اور اخلاق کے ذریعے لاکھوں افراد کو اسلام سے روشناس کرایا۔

خلفا :قطب الدین بختیار کاکی، بابا فرید الدین گنج شکر، حمید الدین ناگوری اور دیگر۔

تصنیفات :انیس الارواح، گنج اسرار، دلیل العارفین، بحر الحقائق، اسرار الواصلین، دیوانِ معین الدین چشتی (فارسی)

وصال :اختلافِ روایت کے ساتھ چھ رجب 627ھ تا 633ھ کے درمیان۔ مزار: درگاہ اجمیر شریف۔

شجرۂ طریقت (چشتیہ) :حضرت محمد ﷺ → حضرت علیؓ → حضرت حسن بصریؒ → حضرت عبدالواحد بن زیدؒ → حضرت فضیل بن عیاضؒ → حضرت ابراہیم بن ادہمؒ → حضرت ابو حفص حدّاد نیشاپوریؒ → حضرت حذیفہ مرعشیؒ → حضرت ابو ہبیرہ بصریؒ → حضرت ممشاد علوی دینوریؒ → حضرت ابو اسحاق شامیؒ → حضرت ابو احمد ابدالؒ → حضرت ابو محمد عبدل چشتیؒ → حضرت ناصرالدین ابو محمد چشتیؒ → حضرت قطب الدین مودود چشتیؒ → حضرت شریف زندانیؒ → حضرت عثمان ہارونیؒ → حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتیؒ

حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ

غوثِ اعظم، امامِ سلسلۂ قادریہ

ولادت  یکم رمضان 470ھ / 1078ء، گیلان (ایران)

 وصال :11 ربیع الثانی 561ھ / 1166ء، بغداد۔

شجرۂ نسب 

 پدری: حضرت سید عبد القادر جیلانی غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ بن سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست بن سید عبد اللہ بن سید یحییٰ الزاہد بن سید محمد بن سید داود بن سید موسیٰ ثانی بن سید عبد اللہ ثانی بن سید موسیٰ الجون بن سید عبد اللہ المحض بن امام حسن مثنّیٰ بن امام حسن مجتبیٰ بن حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ

 مادر: حضرت سید عبد القادر جیلانی غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ حضرت سیدہ اُمّ الخیر فاطمہ رحمۃ اللہ علیہا تھیں، جن کا نسب حسبِ روایت درج ذیل ہے: سیدہ اُمّ الخیر فاطمہ بنت سید عبد اللہ سومی بن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ

علمی و روحانی مقام 

فقہ حنبلی، حدیث، تصوف میں امام۔ بغداد میں وعظ و اصلاح کا مرکز قائم کیا حضرت شیخ عبد القادر جیلانی غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو یہ لقب ان کی ہمہ گیر روحانی قیادت، اصلاحِ باطن اور اولیائے امت پر فیض رسانی کے باعث عطا ہوا۔ آپ کی ذات نے نہ صرف سلسلۂ قادریہ کی بنیاد رکھی بلکہ بعد کے متعدد صوفی سلاسل اور اولیائے کرام، خصوصاً برصغیر کے مشائخ، آپ کے افکار سے متاثر ہوئے۔ بغداد میں آپ کی دعوت نے معاشرتی اصلاح، علمِ شریعت اور تصوف کو یکجا کیا، اور آپ کی روحانی عظمت کا اظہار اس مشہور قول سے بھی ہوتا ہے: “قدمی ھذا علی رقبۃ کل ولی اللہ”، جو آپ کے مقامِ غوثیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

غوثِ اعظم کا مشہور فرمان

حضرت شیخ عبد القادر جیلانی غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:

قبرِ امام حسینؑ پر اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتے مقرر کیے ہیں، جو قیامت تک  روتے رہیں گے۔

تصنیفات 

غنیۃ الطالبین، فتوح الغیب، الفتح الربانی، بہجۃ الاسرار، جلاء الخاطر

شجرۂ طریقت (قادریہ) 

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ → حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ → حضرت حسن بصریؒ → حضرت حبیب عجمیؒ → حضرت داود طائیؒ → حضرت معروف کرخیؒ → حضرت سری سقطیؒ → حضرت جنید بغدادیؒ → حضرت ابو سعید المبارک مخرمیؒ → حضرت شیخ عبد القادر جیلانی غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ

حضرت سید شاہ حسین عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ

علمبردارِ سلسلۂ قلندریہ

ولادت538 ھ / 1177ء، مروند (آذربائیجان/افغانستان)

وصال21 شعبان 673ھ / 1274ء، سیہون شریف۔

شجرۂ نسب 

 حضرت سید شاہ حسین مروندی المعروف لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ بن سید کبیر بن سید شمس الدین بن سید نور شاہ بن سید محمود شاہ بن احمد شاہ بن سید ہادی بن سید مہدی بن سید منتخب بن سید غالب بن سید منصور بن سید اسماعیل بن امام جعفر صادق علیہ السلام

مقام و دعوت 

سیہون شریف کو مرکز بنایا۔ مذہبی رواداری، عشقِ الٰہی اور فقر کی تعلیم دی، لعل شہباز قلندر آپ کا عرفی اور روحانی لقب ہے، جس سے آپ تاریخ اور عوام میں مشہور ہوئے کتبِ تذکرہ کے مطابق حضرت لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ سلسلۂ قلندریہ سے وابستہ تھے، جبکہ بعض معتبر مصادر میں آپ کی طریقتی نسبت سلسلۂ قادریہ سے بھی بیان کی گئی ہے مروند کو بعض مصادر میں مرند یا میوند بھی کہا گیا ہے، جو تاریخی طور پر آذربائیجان کے قدیم علاقوں میں شمار ہوتا ہے، اسی نسبت سے آپ مروندی کہلاتے ہیں آپ کی سیہون شریف میں اقامت نے اس خطے کو روحانی مرکز کی حیثیت دی، جہاں آپ کی دعوت کے ذریعے اصلاحِ معاشرہ اور باطنی تربیت کا سلسلہ قائم ہوا اگرچہ بعض کتب میں تاریخِ وصال کے حوالے سے اختلاف ملتا ہے، تاہم معتبر تحقیق کے مطابق 21 شعبان 673ھ کو آپ کا وصال تسلیم کیا جاتا ہے۔

شجرۂ طریقت (قلندریہ و قادریہ)

حکیم فتح محمد سیوہانی نے اپنی تصنیف ”قلندرنامہ“ میں حضرت لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ کے شجرۂ طریقت کو اس طرح بیان کیا ہے کہ حضرت قلندر مروندی سیوہانی کا سلسلۂ قلندری، حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے واسطے سے سرورِ کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچتا ہے۔ اس بیان کے مطابق یہ سلسلہ سید جمال کے ذریعے حضرت علی بن موسیٰ رضا، امام جعفر صادق، امام زین العابدین اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کریم سے ہوتا ہوا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک متصل ہے۔ 

حضرت لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ کے شجرۂ طریقت کے حوالے سے بعض اسماعیلی مصادر میں آپ کو اپنا صوفی بزرگ تسلیم کیا گیا اور بعض تاریخی بیانیوں میں آپ کا تعلق قرامطہ سے جوڑا گیا، بالکل اسی طرح جیسے حضرت شاہ شمس تبریز رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں بھی تاریخ میں ایسی فکری نسبتیں ملتی ہیں۔ یہ نسبتیں دراصل ان عظیم صوفی شخصیات کی فکری وسعت، انقلابی روح اور روایت شکن کردار کی عکاسی کرتی ہیں، نہ کہ کسی محدود مسلکی یا فقہی وابستگی کی نشاندہی۔

حقیقت یہ ہے کہ حضرت لعل شہباز قلندرؒ اور حضرت شاہ شمس تبریزؒ دونوں ایسی عالمگیر روحانی ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنے عہد کے فکری سانچوں کو توڑا اور محبت، رواداری اور انسانیت کا ایسا پیغام دیا جو ہر فقہ، ہر مسلک اور ہر مذہب کے انسان کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والے صرف کسی ایک مذہبی یا فقہی دائرے تک محدود نہیں، بلکہ مختلف عقائد اور تہذیبوں میں ان کی عقیدت یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ متعدد تذکرہ نگاروں نے حضرت لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ کی طریقتی نسبت سلسلۂ قادریہ سے بھی بیان کی ہے۔ شہزادہ دارا شکوہ نے اپنی تصنیف ”تذکرہ الفقرہ“ میں جو شجرۂ طریقت نقل کیا ہے، اس کے مطابق حضرت عثمان مروندی قلندر شہباز کا سلسلۂ طریقت بالواسطہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے مل جاتا ہے۔ 

ڈھائی قلندر اور مفہومِ قلندری

حضرت سید شاہ حسین عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ مشہور ڈھائی قلندروں میں شمار ہوتے ہیں، تصوفی روایت میں ڈھائی قلندر اُن عظیم صوفی شخصیات کے مجموعے کو کہا جاتا ہے جنہوں نے فقر، تجرد اور عشقِ الٰہی کے ذریعے قلندرانہ طرزِ حیات کو فروغ دیا۔ اس روایت کے مطابق ڈھائی قلندر میں تین بزرگ شامل ہیں: 

حضرت لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ

 حضرت بو علی شاہ قلندر رحمۃ اللہ علیہ 

حضرت بی بی رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہا۔

حضرت لعل شہباز قلندرؒ اور حضرت بو علی شاہ قلندرؒ کو دو مکمل قلندر تسلیم کیا جاتا ہے، جبکہ حضرت بی بی رابعہ بصریؒ کو آدھی قلندر قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں آدھی سے مراد کسی درجے یا مقام میں کمی نہیں، بلکہ اس سے حضرت رابعہ بصریؒ کی وہ منفرد روحانی شان مراد ہے جس میں انہوں نے ظاہری قلندرانہ مظاہر کے بجائے زہد، خاموش عبادت اور خالص عشقِ الٰہی کے ذریعے تصوف کو ایک نئی گہرائی عطا کی۔

یوں ڈھائی قلندر کی یہ روایت اس حقیقت کی نمائندہ ہے کہ تصوف میں روحانی کمال کا تعلق ظاہر یا رسم سے نہیں، بلکہ اخلاص، فقر اور محبتِ الٰہی سے ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ان تینوں ہستیوں کو مختلف ادوار میں قلندرانہ روح کا نمائندہ سمجھا گیا۔

علامہ آصف علوی بیان کرتے ہیں کہ وقت کے ایک عظیم فقیر کا نام حضرت شاہ حسین تھا بعض لوگوں نے سازش کے تحت ان کا نام عثمان مروندی بتایا مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا اصل نام حسین تھا یہ بزرگ، حضرت ابراہیم کبیر کے فرزند تھے، اور ابراہیم کبیر، حضرت ابراہیم مُجاب کے صاحبزادے تھے حضرت ابراہیم مُجاب وہ ہستی ہیں جو آج بھی امام حسینؑ کے پہلو میں آرام فرما ہیں انہیں مُجاب اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہیں جواب دیا جاتا تھا روایت ہے کہ حضرت ابراہیم مُجاب جب امام حسینؑ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر سلام عرض کرتے تو قبرِ مبارک سے جواب آتا :وعلیکم السلام ابراہیم یہ جواب صرف حضرت ابراہیم ہی نہیں سنتے تھے بلکہ جو بھی حرم میں نماز پڑھ رہا ہوتا، وہ سب اس آواز کو سنتے تھے اسی وجہ سے عربوں نے ان کا لقب ابراہیم مُجاب رکھا یہ وہی ابراہیم ہیں جنہیں امام حسینؑ جواب عطا فرمایا کرتے تھے ایک دن حضرت ابراہیم مُجاب، امام حسینؑ کی قبرِ مبارک پر بیٹھے ہوئے تھے  انہوں نے سلام عرض کیا، مگر سلام کے بعد ادب سے بے اختیار اسی لمحے امام حسینؑ کی آواز آئی :اے ابراہیم، واپس لوٹ جاؤ، میں تمہیں ایک بیٹا عطا کروں گا وہ بیٹا فرشتوں کے پروں کے صدقے پروان چڑھے گا،

جنت میں پرواز کرے گا،اور زمانہ اسے شہباز کہے گا۔

یہی وہ بشارت تھی جس سے آگے چل کر شہباز قلندرؒ  کی آمد ہوئی۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اولیاء کی عطا پیدا نہیں ہوتی، نازل ہوتی ہے۔ جس گھر پر عطا نازل ہو، وہاں عام حساب کتاب لاگو نہیں ہوتا۔

بعد ازاں یہ شہباز، سلطان دولت پور کے نواسے کہلائے، اور دولت پور سے ہجرت کر کے شاہ جمال مُجر کی درگاہ پر پہنچے وہاں قلندری دیوانے جمع تھے، اور دو عظیم فقیر بھی موجود تھے :حضرت جلال الدین حیدر سرخ پوشؒ ، جو ساداتِ نقوی بخاری کے جدِّ امجد تھے۔ اس درگاہ میں ایک دیگ مسلسل گرم رہتی تھی لوگ منتیں مان کر لکڑیاں ڈال جاتے تھے اور تیل ہمیشہ کھولتا رہتا تھا جب قلندر آئے تو انہوں نے اپنے قدم اس دیگ میں رکھ دیے۔

شاہ جمال مُجر نے فرمایا :اپنے پاؤں باہر نکالو، میں تمہارے ہی انتظار میں تھا۔

قلندر نے عرض کیا :میرے مرشد نے مجھے آپ کی بارگاہ میں بھیجا ہے میں فقیری لینے آیا ہوں۔

شاہ جمال مُجر نے فرمایا :فقیری لینی ہے تو اس دیگ میں اترنا ہوگا شریعت والوں سے میں معذرت چاہتا ہوں، اب عشق کی بات ہے جہاں شریعت رکتی ہے، وہاں عشق کی پرواز شروع ہوتی ہے۔

حضرت جلال الدین حیدر سرپوش آگے بڑھے، مگر شہباز قلندر نے ان کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا اور فرمایا:

آپ پیچھے رہیں، آپ کی پشت پر سوا لاکھ فقیر ہیں۔ قلندر وہ ہوتا ہے جس نے جس نے کبھی شادی نہ کی ہویہ کہہ کر شہباز قلندر نے گرم تیل کی دیگ میں چھلانگ لگا دی کتابوں میں اس قیام کی مدت مختلف بیان ہوئی ہے کسی نے چند ماہ لکھے، کسی نے برس، اور کسی نے طویل مدت آخرکار شاہ جمال مُجر نے فرمایا :باہر آ جاؤ، اب تم سرخ ہو چکے ہو اب تم لال ہو گئے ہو جیسے ہی قلندر باہر آئے، درختوں کے پتوں سے آوازیں آنے لگیں :ہاجا قلندر، ہاجا قلندر

یوں کائنات کے فقیر جمع ہو گئے، اور لال شہباز قلندر کی قلندری پہچان قائم ہوئی۔

حضرت سید جلال الدین حسین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ

امامِ سہروردیہ فی السند و پنجاب

حضرت سید جلال الدین حسین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ تاریخ میں میرِ سرخ، میرِ بزرگ، مخدوم الاعظم، سرخ پوش، حیدرِ ثانی اور جلال گنج جیسے القابات سے بھی معروف ہیں، جو آپ کے روحانی جلال، شجاعتِ باطن اور فقرِ قلندرانہ کی علامت سمجھے جاتے ہیں آپ برصغیر میں نقوی بخاری سادات کے اولین بزرگ شمار ہوتے ہیں، اور اسی نسبت سے آپ کو نقوی بخاری خاندان کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے، جس کی نسل بعد میں سندھ، پنجاب اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں پھیلی۔

ولادت595 ھ / 1199ء، بخارا

شجرۂ نسب :جلال الدین حسین سرخ پوش بخاری بن سید علی المؤید بن سید جعفر بن سید محمد بن محمود بن احمد بن عبد اللہ بن علی اصغر بن جعفر ثانی بن امام علی نقی الہادی علیہ السلام۔

دعوت و مرکز :اچ شریف، سندھ و پنجاب میں اسلام کی اشاعت۔

وصال19  :جمادی الاول 690ھ / 1291ء، اچ شریف۔

شجرۂ طریقت (سہروردیہ جلالیہ) محمد ﷺ → علیؓ → حسن بصری → جنید بغدادی → ابو القاسم قشیری → ابو علی فارمدی → ابو نجیب سہروردی → شہاب الدین عمر سہروردی → بہاء الدین زکریا ملتانیؒ → جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ

ہم عصر اولیاء کے ساتھ نسبت :آپ اُن عظیم اولیائے کرام میں شامل تھے جو ایک ہی دور میں 

حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی،  حضرت سید عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر 

حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمہم اللہ کے ساتھ ریاضت و مجاہدات میں مشغول رہے۔

طریقت کے اعتبار سے حضرت سید جلال الدین حسین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ سلسلۂ سہروردیہ سے وابستہ تھے، اور حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے علمی و روحانی حلقۂ ارادت میں تدریس اور مجاہدہ فرماتے رہے۔

حضرت سید جلال الدین حسین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد و نسل میں کثیر تعداد اُن سادات کی بھی پائی جاتی ہے جو فقہی و اعتقادی طور پر مکتبِ اثنا عشری تشیع سے وابستہ ہیں۔ اس ضمن میں نقوی بخاری سادات کے ہاں آپ کی شخصیت کے بارے میں دو نمایاں نظریات ملتے ہیں۔

پہلے نظریے کے مطابق حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ سلسلۂ سہروردیہ کے اکابر میں شمار ہوتے ہیں، اور آپ کو اس سلسلے میں خلافت حاصل تھی۔ اسی نسبت سے آپ کا روحانی حلقہ حق چار یار کے عنوان سے معروف رہا۔ اس نظریے کے حاملین کے مطابق آپ کی سب سے زیادہ قربت اور روحانی رفاقت حضرت سید عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ سے رہی، یہاں تک کہ اولیائے کرام کے مابین باہمی محبت اور دوستی کی مثال اکثر حضرت سرخ پوش بخاریؒ اور حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی رفاقت سے دی جاتی ہے۔

دوسرے نظریے کے مطابق حضرت سید جلال الدین حسین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ بنیادی طور پر ایک عارفِ کامل تھے اور فقہی و مسلکی اعتبار سے وہ نہ سنی تھے اور نہ ہی کسی صوفی سلسلے کی روایتی شناخت کے پابند، بلکہ وہ شیعہ امامیہ اثنا عشری عقیدہ رکھتے تھے۔ یہ نقطۂ نظر نقوی بخاری سادات کے بعض مستند شجروں اور تاریخی تصانیف میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ خصوصاً کتاب تاریخِ جلالیہ مع اضافۂ نقوی بخاری سادات اولاد حضرت سید محمد شاہ بخاری المعروف موجِ دریا بخاری رحمۃ اللہ علیہ: شجرہ و حالات، تالیف شہید سید بشیر حسین بخاری رحمۃ اللہ علیہ، مع حواشی و اضافات حافظ سید مہدی مرتضیٰ بخاری، صفحہ 115 پر اس امر کی صراحت ملتی ہے کہ حضرت سید جلال الدین البخاری النقوی رحمۃ اللہ علیہ شیعہ امامیہ اثنا عشری تھے اسی روایت کے مطابق آپ کو شہرِ بخارا میں ناصبی عناصر کی جانب سے شدید اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں آپ نے جلاوطنی اختیار کی اور کابل تشریف لے گئے، تاہم وہاں بھی اسی نوع کی مخالفتوں کے باعث بالآخر اوچ شریف کو اپنی مستقل سکونت کے لیے اختیار کیا مزید برآں اسی روایت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت سید مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ بھی اعتقادی طور پر اثنا عشری تھے، نہ کہ سنی اس موقف کی تائید میں مزید تاریخی حوالہ قاضی نور اللہ شوستری رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف مجالس المؤمنین سے بھی دی جاتی ہے، جہاں اسی مکتبِ فکر سے وابستگی کا ذکر ملتا ہے۔ نیز کتاب براہینِ انصاف صفحہ 47 کو بھی بطور حوالہ پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض نقوی بخاری شجرے اور خاندانی تواریخ اس روایت کو مزید آگے تک نقل کرتی ہیں۔ اس بات کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ یہاں زیادہ تر اختلافات پائے جاتے ہیں،  اور یہاں مؤلف کی جانب سے اپنا کوئی نظریہ پیش کرنے کے بجائے دوسروں کے عقائد بیان کیے گئے ہیں۔ سلسلۂ جلالیہ وقت کے ساتھ اس مرحلے تک پہنچ چکا ہے کہ اس میں پیری و مریدی کا ایک باقاعدہ اور منظم تسلسل اس انداز سے قائم ہو چکا ہے کہ جو بظاہر مکمل مکتبِ تشیع کے نظام سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔ اس تناظر میں یہ بھی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ متعدد ایسے پیر و مریدین موجود ہیں جو فقہی اعتبار سے اثنا عشری تشیع سے وابستہ ہونے کے باوجود تصوف کے مختلف سلاسل میں خلافت اور روحانی تربیت کا منصب بھی رکھتے ہیں۔ کئی علاقوں میں یہ صورتِ حال واضح طور پر نظر آتی ہے کہ تصوف کو اثنا عشری شرعی دائرۂ فکر کے اندر رکھ کر اختیار کیا جا رہا ہے۔ اسی طرز پر دیگر سادات خاندانوں میں بھی یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ سلاسلِ تصوف اور مکتبِ اثنا عشری کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت مضبوط ہو چکی ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال ساداتِ جعفری شمسی ہیں، جو ان دونوں روحانی و فکری تسلسلوں کو یکجا رکھتے ہوئے آگے بڑھا رہے ہیں۔

روایات اور خاندانی تواریخ کے مطابق حضرت سید جلال الدین حسین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی حیات میں متعدد اسفار اور ہجرتیں شامل رہیں۔ بخارا سے روانگی کے بعد آپ نے مختلف ادوار میں حجازِ مقدس (مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ)، ایران اور عراق کے علاقوں میں قیام فرمایا، جہاں آپ نے علمی و روحانی استفادہ بھی کیا اور دعوتِ دین کا فریضہ بھی انجام دیا۔ بعد ازاں آپ برصغیر تشریف لائے اور سندھ، پنجاب اور ہند کے متعدد علاقوں میں تبلیغ و ارشاد فرماتے ہوئے بالآخر اوچ شریف کو اپنی مستقل سکونت کے لیے اختیار کیا۔ اوچ شریف میں آپ کی اقامت نے اس خطے کو ایک اہم روحانی مرکز کی حیثیت عطا کی، جہاں سے آپ کی دعوت، نسبت اور نسل نے آگے چل کر وسیع دائرے میں اثرات مرتب کیے۔ ہوئی۔ 

تبلیغی اثرات :آپ نے سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں طویل تبلیغی اسفار کیے، جن کے نتیجے میں سومرو، چدڑ، مزاری، وارن اور دیگر قبائل کی بڑی تعداد دائرۂ اسلام میں داخل ہوئی۔

خلاصۂ جامع :یہ چاروں عظیم اولیاء چار مختلف سلاسل کے نمائندہ ہیں، مگر ان سب کا سرچشمہ قرآن، سنت اور اہلِ بیتؑ کی محبت ہے۔ یہی تصوفِ اسلامی کی وحدت اور امت کی روحانی طاقت کا اصل راز ہے۔

حوالہ جات: روضۃ الاقطاب (پیر ڈاکٹر سید فہیم رضا کاظمی چشتی اجمیری حفظہ اللہ)، المعقبون من آل ابی طالب (سید مہدی رجائی، جلد دوم، صفحات ۳۳۰–۳۳۲)، عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب (ابن عنبہ الحسنی)، المجدی فی انساب الطالبین (ابو الحسن عمری)، لباب الانساب (ابن فندق بہقی)، سیر الاولیاء چشتیہ، تذکرۃ الغوثیہ، فتاویٰ چشتیہ، تاریخِ جلالیہ مع اضافۂ نقوی بخاری سادات اولاد حضرت سید محمد شاہ بخاری المعروف موجِ دریا بخاری رحمۃ اللہ علیہ: شجرہ و حالات   تالیف: شہید سید بشیر حسین بخاری رحمۃ اللہ علیہ حواشی و اضافات: حافظ سید مہدی مرتضیٰ بخاری صفحہ نمبر 115، مجالس المؤمنین مصنف: قاضی نور اللہ شوستری رحمۃ اللہ علیہ (بحوالہ براہینِ انصاف، صفحہ نمبر 47)

آپ کی اولاد میں حضرت سید احمد کبیر اور حضرت سید محمد غوث جیسی شخصیات شامل ہیں، جبکہ آپ ہی کی نسل سے بعد میں حضرت سید جلال الدین جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ جیسے جلیل القدر بزرگ پیدا ہوئے۔

سادات خاندانوں کی تاریخ میں اہلِ تصوف اور مکتبِ اثنا عشری دونوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات پائی جاتی ہیں اسی بنا پر اس کتاب میں دونوں مکتبِ فکر کے جلیل القدر بزرگوں کا ذکر احترام کے ساتھ اور ان کے اپنے عقائد و فکری تناظر کے مطابق کیا گیا ہے۔ یہ اسلوب کسی ایک مکتب کی ترویج، دوسرے کی نفی یا برتری کے اظہار کے لیے نہیں، بلکہ خالصتاً تاریخی امانت، خاندانی نسبت اور علمی دیانت کے تقاضے کے تحت اختیار کیا گیا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

تقسیمِ ہند ہجرت روحانی ورثہ اور قربانیوں کی داستان

گلزارِ جلالیہ | Gulzar-e-jalalia | Gulzar-e-jalaliya | Gulzar E Jalaliya

سید محبت علی اور سید حفیظ علی کی مکمل اولاد نسل در نسل تفصیل