امیر المومنین حضرت سید امام مولا علی علیہ السلام

 امیر المومنین حضرت سید امام مولا علی علیہ السلام 

امیرُالمؤمنین، وصیِّ رسولِ خدا ﷺ، نفسِ رسول ﷺ، بابُ مدینۃِ العلم، اسدُ اللہِ الغالب، حیدرِ کرار، مرتضیٰ، ابو الحسن، ابو تراب، مولیٰ المؤمنین، ولیُّ اللہ، امامُ المتقین، قائدُ الغرّ المحجلین، اوّلُ المؤمنین، اوّلُ المسلمین، زوجِ بتولؑ، والدِ حسنینؑ، وارثِ علمِ نبوی، قسیمُ الجنۃ و النار، شاہِ ولایت

حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ و علیہ السلام، امیر المؤمنین، وصیّ رسول، امام المتقین، باب مدینۃ العلم، اور اہل بیت علیہم السلام کے سرداروں میں سے ہیں۔ آپ علیہ السلام، حضرت ابوطالب علیہ السلام اور حضرت فاطمہ بنت اسد سلامُ اللہ علیہا کے فرزند تھے، اور نبی اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائی، داماد، اور پہلے وصی ہیں۔ آپ کی ولادت 13 رجب، 30 عام الفیل کو کعبہ کے اندر ہوئی، جو تاریخِ انسانیت میں ایک منفرد اعزاز ہے، جس پر اہل سنت و اہل تشیع دونوں کا اجمالی اتفاق ہے۔

آپ نے بچپن سے نبی کریم ﷺ کے سایۂ تربیت میں پرورش پائی، سب سے پہلے اسلام قبول کیا، اور تمام غزوات و مہمات میں نبی ﷺ کے دست راست بنے رہے۔ غزوہ بدر، احد، خندق، خیبر اور حنین سمیت ہر میدان میں آپ کی شجاعت، اخلاص اور قربانی بے مثال تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں، اور علی اس کا دروازہ ہے (ترمذی، مستدرک حاکم، 3/126؛ شیعہ حوالہ: عیون اخبار الرضا، شیخ صدوق، ج 2، ص 57)۔

غدیر خم کے مقام پر نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع سے واپسی پر اعلان فرمایا:

 مَن کُنتُ مَولاهُ فَهذا عَلِيٌّ مَولاهُ

 (جس کا میں مولا ہوں، علی اس کا مولا ہے)  یہ ایک مکمل خطبہ ہے جو طویل ہے۔  یہ حدیث متواتر ہے اور اہل سنت کے بھی 110 سے زائد محدثین و مفسرین نے اسے روایت کیا ہے۔

 (حوالہ جات: مسند احمد، ج 4، ص 281؛ سنن ترمذی؛ المناقب، ابن المغازلی؛ الغدیر، علامہ امینی)

حضرت علی علیہ السلام خلیفۂ چہارم بنائے گئے، مگر شیعہ عقیدہ کے مطابق آپ پہلے خلیفہ اور امامِ برحق ہیں جنہیں نبی ﷺ نے اللہ کے حکم سے مقرر فرمایا۔ آپ کا دور خلافت عدل، علم اور تقویٰ کا مظہر تھا، اور فتنے کے دور میں بھی آپ نے شریعت محمدی ﷺ کی حفاظت فرمائی۔ کوفہ کو دارالخلافہ بنایا، اور وہاں جامع حکومت قائم کی۔

وصال: آپ پر 19 رمضان 40 ہجری کو مسجد کوفہ میں قاتلانہ حملہ ہوا، اور 21 رمضان کو آپ کی شہادت واقع ہوئی۔

 مدفن: نجف اشرف، عراق  جہاں آپ کا روضۂ اقدس اہل ایمان کا مرکز عقیدت ہے۔

مستند حوالہ جات:

اہل تشیع: نہج البلاغہ؛ کمال الدین، شیخ صدوق؛ عیون اخبار الرضا، شیخ صدوق

اہل سنت: سیر اعلام النبلاء (ذہبی)، الاستیعاب (ابن عبد البر)، البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)، مسند احمد، صحیح ترمذی، المستدرک علی الصحیحین (حاکم)

امیر المومنین حضرت سید امام مولا علی علیہ السلام کی ازواج و اولاد

آپ کی ازواج اور اولاد کا ذکر کتبِ تاریخ و سیرت میں متعدد جگہ تفصیل سے موجود ہے۔ اہلِ تشیع کے مطابق آپ کی ازواج اور اولاد کی تفصیل درج ذیل ہے:

ازواج:

1. حضرت فاطمہ الزہرا سلامُ اللہ علیہا

 سب سے پہلی اور افضل زوجہ، نبی کریم ﷺ کی دخترِ مکرمہ، سیدہ نساء العالمین، جن سے امام حسنؑ، امام حسینؑ،  امام محسن علیہ السلام، حضرت زینبؑ اور ام کلثومؑ پیدا ہوئیں۔

2. فاطمہ بنت حزام (ام البنین) سلامُ اللہ علیہا

بافضیلت خاتون، جن سے حضرت عباسؑ، جعفرؒ، عبداللہؒ، اور عثمانؒ پیدا ہوئے۔

3. خولہ بنت جعفر الحنفیہ

جن سے حضرت محمد بن حنفیہ علیہ الرحمہ پیدا ہوئے۔

4. اسماء بنت عمیس سلامُ اللہ علیہا

حضرت جعفر طیارؑ اور حضرت ابوبکر کے بعد حضرت علیؑ سے نکاح فرمایا۔ ان سے یحییٰؒ اور عونؒ پیدا ہوئے۔

5. لیلیٰ بنت مسعود الثقفیہ  ان سے عبید اللہؒ اور ابو بکرؒ پیدا ہوئے۔

6. ام حبیب بنت ربیعہ  ان سے عمرؒ پیدا ہوئے۔

7. ام سعید بنت عروہ بن مسعود  بعض روایات میں ان کا ذکر بھی ازواج میں آتا ہے۔

بعض کتب میں دیگر دو ازواج کا ذکر الگ آیا ہے (جیسے: صحفیہ یا امامہ بنت ابی العاص) لیکن معروف و متفقہ ازواج سات (7) شمار ہوتی ہیں۔

اولادِ حضرت علی علیہ السلام:

اولادِ ذکور (بیٹے):

1.حسنؑ، 2. حسینؑ، 3. عباسؑ، 4. محمد بن حنفیہؑ، 5. عمرؑ، 6. عثمانؑ، 7. جعفرؑ، 8. عبداللہؑ، 9. عبیداللہؑ، 10. یحییٰؑ، 11. عونؑ، 12. ابو بکرؑ، 13. محمد الاصغرؑ، 14. ابراہیمؑ، 15. اسحاقؑ، 16. احمدؑ، 17. عبد الرحمنؑ، 18. عبد اللہ الاصغرؑ۔

اولادِ اناث (بیٹیاں):

 .1زینب کبریٰس، 2. ام کلثومس، 3. رقیہس، 4. رملہس، 5. خدیجہس، 6. میمونہس، 7. نافعہس، 8. ام ہانیس، 9. ام جعفرس، 10. فاطمہس، 11. اسماءس، 12. زینب صغریٰس، 13. حبیبہ س، 14. صفیہس، 15. عائشہس، 16. ام سلمہس، 17. ام کلثوم صغریٰس، 18. لیلیٰس، 19. ام عبد اللہس۔

نوٹ: بعض بیٹیوں کے اسماء مختلف کتب میں تھوڑے فرق سے ذکر ہوتے ہیں، لیکن یہ مجموعی طور پرتشیع کے مصادر میں ذکر کردہ تمام معروف اسماء کا احاطہ ہے۔

اعداد و شمار: ازواج مطہرات: 7 (معروف و متفقہ)، بیٹے (ذکور): 18، بیٹیاں (اناث): 19، کل اولاد: 37

مستند حوالہ جات: اعیان الشیعہ (سید محسن امین، جلد 1–2)، بحار الانوار (علامہ مجلسی، جلد 42–44)، الارشاد (شیخ مفید)، کشف الغمہ (علی بن عیسی اربلی)، رجال کشی، تاریخ یعقوبی؛ (اہل سنت مصادر برائے تقابل: طبقات ابن سعد، الاستیعاب، الاصابہ)۔


Comments

Popular posts from this blog

تقسیمِ ہند ہجرت روحانی ورثہ اور قربانیوں کی داستان

گلزارِ جلالیہ | Gulzar-e-jalalia | Gulzar-e-jalaliya | Gulzar E Jalaliya

سید محبت علی اور سید حفیظ علی کی مکمل اولاد نسل در نسل تفصیل