سید شاکر علی شاہؒ بن سید امیر علی شاہؒ
سید شاکر علی شاہؒ بن سید امیر علی شاہؒ
فیروز آباد میں دینی و روحانی خدمات
سید شاکر علی شاہؒ نے فیروز آباد میں تبلیغِ دین اور اہلِ بیت کی محبت کو عام کرنے کا کام جاری رکھا۔ ان کا دینی پیغام تمام مکاتبِ فکر کے لیے تھا، اور وہ فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر اسلام کی حقیقی روح کو پھیلانے کے قائل تھے ان کی تبلیغ میں محبتِ اہلِ بیت کا رنگ نمایاں تھا، اور ان کا جھکاؤ سلسلہ چشتیہ بعض فکری اشاروں سے سلسلۂ ذہبیہ یا نعمت اللہی کے اثرات بھی نمایاں طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔
نَسب
سید شاکر علی شاہؒ بن سید امیر علی شاہؒ سید حیدر شاہؒ بن سید قطب شاہؒ بن سید کبیر شاہؒ بن سید شرف الدین شاہؒ بن سید شمس الدین شاہؒ بن سید جہانگیر شاہؒ بن سید یار شاہ حیدرؒ بن سید شاہ نظامؒ بن سید زین العابدینؒ بن سید علم الدینؒ بن سید جلال الدین حیدرؒ بن سید صفی الدینؒ بن سید نظام الدینؒ بن سید علیم الدینؒ بن سید جلال الدین بنؒ سید علم الدین بخاریؒ بن سید محمود نر ناصر الدینؒ بن سید جلال الدین حسین المعروف مخدوم جہانیاں جہانگشتؒ بن سید سلطان احمد کبیرؒ بن سید قطب کمال حضرت سخی سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ ۔
سید شاکر علیؒ: تاریخی اختلافات
تاریخی حوالے اس بات کو مکمل طور پر ثابت نہیں کرتے کہ سید شاکر علیؒ کس فقہ سے تھے، لیکن درج ذیل نکات کو مدنظر رکھا جا سکتا ہے:
سید شاکر علیؒ سلسلہ چشتیہ وجلالیہ سے وابستہ تھے سلسلہ جلالیہ برصغیر کی صوفیانہ تاریخ کا ایک مستند، معتبر اور جامع روحانی سلسلہ ہے، جس کا آغاز 13ویں صدی عیسوی میں سید شاکر علی کے جدعظیم بزرگ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ متوفی 1295ء سے اوچ شریف میں ہوا اس سلسلے کی بنیاد اگرچہ سہروردی سلسلے کی روحانی روایت پر رکھی گئی، تاہم اس کی تشکیل و ارتقاء میں چشتی سلسلے کی روحانی لطافت، جذب کی کیفیت، اور فقر و محبت پر مبنی باطنی طرزِ عمل نے بھی گہرا اثر ڈالا۔ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ کی شخصیت ان دونوں سلاسل کے امتزاج کا مظہر تھی جہاں سہروردی نظم و ضبط اور شریعت پسندی موجود تھی، وہیں چشتی رنگ میں ڈوبا ہوا عشقِ الٰہی، توکل، خدمتِ خلق اور وجدانی کیفیات بھی ان کے اندازِ تربیت کا حصہ تھیں۔ ان کی تعلیمات میں روحانیت اور عرفان دونوں کی جھلک نمایاں تھی ایک طرف تزکیۂ نفس، ذکر و فکر اور مجاہدہ، اور دوسری جانب باطنی معرفت، سلوک کی راہ، اور حقیقت تک رسائی کے رموز یہی ہم آہنگی اور فکری توازن اس سلسلے کو ایک منفرد پہچان عطا کرتے ہیں یوں سلسلہ جلالیہ، سہروردی اور چشتی دونوں سلاسل کے روحانی اثرات کو یکجا کرتے ہوئے، برصغیر میں ایک مستحکم، بااثر اور ہمہ جہت سلسلے کے طور پر قائم ہوا، جو آج تک صوفیانہ روایت کا روشن حصہ ہے بعد ازاں، سلسلہ جلالیہ اور سلسلہ قلندریہ کے درمیان روحانی قربت اور باطنی میلان پیدا ہوا، جو بعض فکری و سلوکی پہلوؤں میں نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ آپ کا تعلق تشیعی صوفی سلاسل سے بھی محسوس ہوتا ہے، جیسے ذہبیہ، نعمت اللہی یا صفویوں کے باقی رہ جانے والے صوفی حلقوں سے ظاہر ہوتا ہے وہ ائمۂ اہل بیتؑ کے پیروکار تھے اور ان کے عقائد اہلِ تشیع کے بنیادی نظریات سے ہم آہنگ سنے گئے تھے ان کی تصوف پر مبنی تعلیمات سنی عقائد کی مکمل ترجمانی کرتی ہیں اور ان کے مکتبِ فکر کی سنی حیثیت کو ثابت کرتی ہیں، لیکن چشتیہ سلسلے میں بھی سادات صوفی بزرگ آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل کرتے لہٰذا، ان کے کسی عقیدے پر ہونے کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔
فیروزآباد کے بعض مقامی افراد کا خیال تھا کہ چند سادات اسماعیلی نسب کے افراد ان کی درگاہ سے عقیدت رکھتے تھے، لیکن اس کا کوئی مستند تاریخی ثبوت موجود نہیں سید شاکر علیؒ یا ان کی اولاد کا اس عقیدے سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ وہ تصوف اور ائمۂ اہل بیتؑ کے پیروکار تھے اور اس مکمل نسل نے اب تک چودہ معصومینؑ ہی کی پیروی کی ہے، اور آئندہ بھی اس نسل کے لیے یہی نصیحت اور تلقین رہی ہے۔ یاد رہے کہ اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ اصل درگاہ یہی ہے یا وہ جو سید جاوید علی نے کسی محلے میں چھوٹی درگاہ بتائی تھی آپ کے خلیفہ اور مرید کے طور پر صرف ایک نام معلوم ہوتا ہے، وہ حضرت حیدر علاؤ الدین چشتیؒ کا ہے۔
سید شاکر علیؒ اور ان کے روحانی جانشین حضرت حیدر علاؤ الدین چشتیؒ
سید شاکر علیؒ کی زندگی انتہائی مختصر مگر اثر انگیز تھی وہ زیادہ تر عام لوگوں سے دور رہے اور اپنی زندگی عبادت، روحانی ریاضت اور دینی تبلیغ میں بسر کی وہ طب، روحانیت، ولایت اور قضا (عدل و انصاف) کے علم سے بہرہ مند تھے، اور ان کے وجود میں وہی حکمت اور روحانی تاثیر نظر موجود تھی جو ان کے والدسید امیر علیؒ میں پائی جاتی تھی ان کی زندگی کا ایک اور پہلو اہلِ بیت کی محبت اور سلسلہ چشتیہ سے گہری وابستگی تھا انہوں نے کسی مخصوص فرقے کی ترویج کے بجائے تصوف اور محبتِ اہلِ بیت کو فروغ دیا، جبکہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ان کے خونی رشتوں میں اکثریت اثنا عشریہ کی رہی ہے یہی وجہ تھی کہ ان کے پیروکار ان کے قریب رہے، مگر وہ اپنی طبیعت کے باعث زیادہ تر خلوت نشین رہے۔
سید شاکر علیؒ کے خاص مریدین اور چہیتے شاگردوں میں حضرت حیدر علاؤ الدین چشتی ایک نمایاں شخصیت تھے وہ آخری وقت تک سید شاکر علیؒ کے ساتھ رہے اور ان کی تعلیمات کو زندہ رکھا اور یہی وہ شخصیت تھے جنہوں نے سید شاکر علیؒ کی قبر کو درگاہ تک کے سفر میں گامزن کر دیا تھا، جبکہ سید شاکر علیؒ کے بیٹے، سید عاشق علی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
سید شاکر علیؒ کی وفات کے بعد ان کے عقیدت مندوں کی آمد و رفت کے نتیجے میں ان کی درگاہ کا قیام عمل میں آیا۔ ان کی قبر پر اہلِ محبت کا آنا جانا جاری رہا اور یوں یہ مقام ایک روحانی مرکز کی صورت اختیار کر گیا۔ حضرت حیدر علاؤ الدین چشتیؒ اپنے مرشد کے نقشِ قدم پر قائم رہے، اور ان کے انتقال کے بعد انہیں سید شاکر علیؒ کے مزار کے قریب دفن کیا گیا۔ آج دونوں کی قبریں ایک دوسرے کے قریب موجود ہیں جو ان کے باہمی روحانی تعلق کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ مزید برآں سید شاکر علیؒ کی قبر کے ساتھ ان کے بھائی سید ذاکر علیؒ کی قبر بھی واقع ہے۔
کچھ مخالفین کی جانب سے یہ بھی گمان کیا جاتا ہے کہ حضرت حیدر علاؤالدین چشتیؒ نے ہی سید شاکر علی کی قبر کو ایک صوفی چشتی بزرگ کے طور پر مشہور کیا تھا، حالانکہ بعد میں سید شاکر علی کے پوتے کو اپنی دوسری بیوی کے ہمراہ قتل کر دیا گیا تھا یہ واقعہ فقیہی تناظر میں اس بات سے جڑا ہوا ہے کہ ان کے معاملات ان کے دادا کی قبر سے تعلق رکھتے تھے۔
درگاہ کی موجودہ حیثیت اور بین المذاہب عقیدت
سید شاکر علیؒ اور سید ذاکر علیؒ کی درگاہ فیروزآباد میں نہر یا دریا کے قریب واقع بتائی جاتی ہے یہ ایک مقدس روحانی مقام بن چکی ہے، جہاں نہ صرف مختلف مکاتبِ فکر کے مسلمان بلکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے عقیدت مند بھی احترام کے ساتھ آتے ہیں یہ درگاہ ایک بین المذاہب روحانی مرکز ہے، جہاں لوگ اپنی مرادیں مانگنے، روحانی فیض حاصل کرنے اور تصوف کی برکتوں سے مستفید ہونے کے لیے حاضر ہوتے ہیں اس درگاہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں فرقہ واریت کے بجائے محبت، امن اور صوفی تعلیمات کی روشنی عام کی جاتی ہے ہر سال عرس کا انعقاد ہوتا ہے، عرس کے موقع پر ایک میلہ بھی لگتا ہے، جہاں زائرین کی ایک بڑی تعداد شرکت کرتی ہے اس عرس کی سب سے اہم روایت قوالی ہے، جو چشتیہ سلسلے کی قدیم روایت کا حصہ ہے صوفیانہ کلام، اللہ اور رسول ﷺ کی مدح، اور اہلِ بیت کی محبت پر مبنی قوالی کے ذریعے درگاہ میں روحانی کیف اور وجدانی کیفیت پیدا ہوتی ہے چشتیہ سلسلے کا ہمیشہ سے قوالی اور صوفی موسیقی سے گہرا تعلق رہا ہے، اور یہی روایت آج بھی اس درگاہ میں قائم ہے۔
خاندانی روایت کے مطابق تاریخی حوالوں میں اس درگاہ کو سید شاکر علیؒ شاہ صاحب کی درگاہ کہا جاتا تھا، سوائے سید جاوید علی بن سید محبت علی کے، جن کا کہنا تھا کہ جب وہ بچپن میں ہندوستان گئے تھے تو انہیں جس درگاہ پر لے جایا گیا تھا، وہ درگاہ علاقے یا بازار میں موجود تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ شاہ صاحب کی درگاہ کے نام سے مشہور ہو گئی اس کا ایک سبب یہ ہے کہ درگاہ کے ارد گرد رہنے والے عقیدت مندوں اور زائرین نے انہیں صوفی شاہ کے القاب سے یاد کرنا شروع کیا جو ان کی روحانی عظمت کی علامت بن گئے، ۔ تقسیمِ ہند سے قبل، عوام، خصوصاً سادات گھرانے، سید شاکر علیؒ کے بارے میں گہرا علم رکھتے تھے، کیونکہ اس وقت صرف تین سے چار نسلیں ہی آگے بڑھی تھیں مگر جب تقسیمِ ہند ہوئی تو یہاں کے زیادہ تر افراد، خصوصاً سید خاندان، پاکستان ہجرت کر گئے، جو کہ ایک اسلامی ریاست کے طور پر لا الہ الا اللہ کے نام پر وجود میں آ رہی تھی اس سے کئی برس قبل، سید شاکر علیؒ کی نسل آگرہ ہنگ منڈی میں سکونت اختیار کر چکی تھی، لیکن تقسیمِ ہند کے موقع پر ان کی نسل نے پاکستان کے صوبہ سندھ، شہر حیدرآباد ہجرت کی، جہاں مولا علی علیہ السلام کی قدم گاہ موجود ہے آگرہ اور فیروز آباد سے زیادہ تر ہجرتیں حیدرآباد، سندھ کی طرف ہوئیں، خاص طور پر سادات خاندانوں کی، اور اسی طرح شیعہ اثنا عشری کی ایک بڑی تعداد بھی حیدرآباد میں آباد ہو گئی اس وجہ سے ہندوستان میں نہ ان کی نسل باقی رہی اور نہ ہی ان سے متعلق زیادہ معلومات محفوظ رہیں یوں، سید شاکر علیؒ کی نسل آج پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہے، جبکہ ہندوستان میں ان کی نسل کے باقی نہ رہنے کے باعث ان کی درگاہ سے وابستگی بھی ختم ہو گئی۔خاندان کے بعض افراد کے مطابق سید شاکر علی اور سید ذاکر علی کی قبریں ایک ہی مقام پر ہیں، جبکہ حیدر علاؤالدین چشتی کی قبر درگاہ سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ جبکہ تمام شواہد اسی درگاہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو دریاۓ یمنا کے قریب واقع ہے اور جہاں دو قبریں ساتھ ساتھ موجود ہیں جنہیں سید شاکر علیؒ اور سید ذاکر علیؒ کی قبریں بتایا جاتا ہے، تاہم دو ہزار دس کے بعد سے مزار کی محراب پر ایک نیا نام "حمید الدین صوفی چشتی" درج نظر آنے لگا، جس کے بعد وہاں سے متعلق نئی نئی تاریخیں بھی بیان کی جانے لگیں۔ اس کے نتیجے میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید سید شاکر علیؒ اور سید ذاکر علیؒ کی اصل درگاہ فیروزآباد میں کسی اور مقام پر رہی ہو، مگر انٹرنیٹ یا دیگر ذرائع سے اس بارے میں کوئی مستند معلومات دستیاب نہ ہو سکیں۔ مزید یہ کہ جو نئی تاریخیں اس مقام سے منسوب کی جا رہی ہیں، اگر واقعی وہاں سید شاکر علیؒ اور سید ذاکر علیؒ کی قبریں موجود ہیں تو وہ تاریخیں اس خاندانی بیان سے مطابقت نہیں رکھتیں جو اس خاندان کی روایت میں بیان کی جاتی ہے اس لیے اصل تاریخ وہی معتبر سمجھی جانی چاہیے جو خاندان کے پاس محفوظ ہے، کیونکہ بھارت میں بعض گروہوں کے لیے ایسی نسبتیں معاشی فائدے کا ذریعہ بن سکتی ہیں، جبکہ پاکستان میں خاندان کو کسی نئی یا من گھڑت روایت سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، اس بنا پر خاندانی روایت کو ہی زیادہ مستند تصور کیا جاتا ہے، سید جاوید علی کا کہنا تھا کہ وہ درگاہ یہ نہیں تھی، بلکہ کوئی اور درگاہ تھی جو زمین پر موجود تھی اور فیروزآباد میں واقع تھی ممکن ہے کہ وہ کسی اور بزرگ کی درگاہ کا ذکر کر رہے ہوں اکثر لوگ سوشل میڈیا پر اس درگاہ کو 800 سال پرانی بتاتے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ البتہ اس کا زمانہ سے 1800 کے بعد کا تھا ہاں، یہاں قدیم قبریں ضرور موجود تھیں جو اس درگاہ کے احاطے میں مختلف مقامات پر پائی جاتی تھیں خاندان کے مطابق ان کے کئی بزرگوں کی قبریں فیروزآباد کے دیگر مقامات پر بھی موجود تھیں، جن کا ذکر اس نسخے میں بھی تھا جو حکیم سید فرّخ حسین لے گئے تھےگزشتہ 30 برسوں میں ہندوستان میں کئی قبریں اور درگاہیں مسمار کر دی گئی ہیں، اس لیے اکثر حقائق معلوم کرنا ناممکن ہو گیا ہے تاہم سید محبت علی ہمیشہ یہ بتایا کرتے تھے کہ فیروزآباد کا سب سے بڑا عرس ہمارے جد، سید شاکر علی کی درگاہ پر ہوتا تھا، جہاں قریب میں ایک اور دَرگاہ ہے جس کا نام حیدر علاؤالدین ہے، مگر سید جاوید علی کے مطابق یہ سید شاکر علی فیروز آباد ی کی وہ دَرگاہ نہیں، اصل دَرگاہ ایک محلے میں تھی سید شاکر علی فیروز آبادی جو چھوٹی تھی مگر اُس کا عرس لازمی ہوتا تھا آبادی کے بیچ میں تھی، جس پر تقریباً 45 سے40 سال قبل جانا ہوا تھا جدید دور میں رابطوں اور انٹرنیٹ کے ذریعے تلاش کے باوجود ایسی دَرگاہ نہیں ملی ممکن ہے یہ کسی بزرگ یا رشتہ دار کی ہو یا کوئی غلط فہمی ہو دَرگاہ کے درست مقام کے علاوہ سید شاکر علی سے متعلق تمام روایات متفقہ طور پر درست بیان کی گئی ہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ سید شاکر علی کو شاہ صاحب فیروز آبادی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور یہ بھی بعید نہیں کہ گزشتہ 30 برسوں میں بھارت میں کئی چھوٹی دَرگاہیں علاقوں، گلیوں اور محلّوں سے ختم ہو چکی سید شاکر علی کی اصل درگاہ فیروز آباد میں، چاہے جس مقام پر بھی ہو، اس کے بارے میں متعدد مستند دستاویزات اور کچھ تبرکات موجود تھے، جو سید محبت علی کے انتقال کے وقت چوری ہونے والے تبرکات میں شامل تھے۔
Comments
Post a Comment