حضرت امام حسن بن علی علیہما السلام

 حضرت امام حسن بن علی علیہما السلام

امامِ صبر، امامِ صلح، سیدُ شبابِ اہلِ جنّت

حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے دوسرے امام، نبیِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بڑے نواسے، امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور سیدہ فاطمہ الزہرا سلامُ اللہ علیہا کے فرزندِ ارجمند ہیں۔ آپ کا نسب ہر اعتبار سے شرف و طہارت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے، کیونکہ آپ براہِ راست بیتِ نبوت، معدنِ وحی اور مرکزِ عصمت سے تعلق رکھتے ہیں۔

ولادت باسعادت

حضرت امام حسن علیہ السلام کی ولادت پندرہ رمضان المبارک، سنِ تین ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ جب آپ دنیا میں تشریف لائے تو رسولِ خدا ﷺ بنفسِ نفیس تشریف لائے، آپ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی، ساتویں دن عقیقہ کیا، سر کے بال منڈوائے اور ان کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کی۔

نبی کریم ﷺ نے آپ کا نام حسن رکھا، جو اس سے پہلے عرب میں رائج نہ تھا۔ یہ نام اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب کیا گیا۔

بچپن اور تربیت

امام حسن علیہ السلام نے اپنی آنکھیں رسولِ اکرم ﷺ کی آغوش میں کھولیں۔ نبی ﷺ آپ سے بے پناہ محبت فرمایا کرتے تھے اور اکثر فرمایا کرتے: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ اے اللہ! میں حسن سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما 

اور مشہور حدیث ہے: حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ آپ رسولِ خدا ﷺ کے اخلاق، حلم، عبادت اور شفقت کا مکمل عکس تھے۔

امامت کا آغاز

سنِ چالیس ہجری میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد، اہلِ کوفہ، مدینہ، حجاز، یمن اور ایران کے مؤمنین نے متفقہ طور پر حضرت امام حسن علیہ السلام کی بیعت کی۔ اس طرح آپ ظاہری و باطنی دونوں حیثیتوں سے امت کے امام قرار پائے۔

سیاسی حالات اور صلحِ امام حسنؑ

امام حسن علیہ السلام کا دورِ امامت نہایت پُرآشوب تھا۔ ایک طرف بنو امیہ کی منظم سازشیں تھیں، دوسری طرف کوفہ کے لشکر کی بے وفائیاں، دنیا پرستی اور نفاق تھا۔ امام حسن علیہ السلام پر بارہا قاتلانہ حملے ہوئے، حتیٰ کہ آپ کو نماز کے دوران زخمی بھی کیا گیا۔

ان حالات میں امام حسن علیہ السلام نے سنِ اکتالیس ہجری میں امتِ مسلمہ کے خون کو بچانے، دینِ اسلام کے بقاء، اور اصل چہرۂ باطل کو بے نقاب کرنے کے لیے صلح کو اختیار فرمایا۔ یہ صلح اعلیٰ ترین حکمت، بصیرت اور قربانی تھی۔ امام حسن علیہ السلام نے فرمایا: میں نے صلح اس لیے کی تاکہ محمد ﷺ کی امت محفوظ رہے یہی صلح بعد میں واقعۂ کربلا کی فکری بنیاد بنی۔

عبادت و اخلاق

امام حسن علیہ السلام عبادت میں بے مثال تھے۔ آپ نے پچیس مرتبہ پیدل حج ادا فرمایا۔ آپ کی سخاوت ضرب المثل تھی؛ کئی مرتبہ اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دیا۔ آپ دشمنوں کے ساتھ بھی حلم اور درگزر کا سلوک فرماتے تھے۔

ازواج

تاریخی مصادر میں امام حسن علیہ السلام کی متعدد ازواج کا ذکر ملتا ہے۔ مشہور اور مستند نام درج ذیل ہیں:

حضرت خَولہ بنتِ منظور رضی اللہ عنہا

حضرت اُمِّ بشیر بنت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہا

حضرت اُمِّ اسحاق بنت طلحہ رضی اللہ عنہا

جعدہ بنتِ اشعث بن قیس جن کے بارے میں معتبر تاریخی مصادر میں آیا ہے کہ انہوں نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو زہر دیا،

اولادِ امام حسن علیہ السلام امام حسن علیہ السلام کی اولاد میں کئی فرزند شامل تھے، جن میں نمایاں یہ ہیں:

حضرت حسن مثنیٰ رضی اللہ عنہ  واقعۂ کربلا میں زخمی ہوئے، بعد میں زندہ رہے

حضرت قاسم رضی اللہ عنہ  شہیدِ کربلا، نوجوانی میں عظیم قربانی

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کربلا میں شہادت

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ  شہیدِ کربلا

حضرت زید رضی اللہ عنہ

حضرت عمرو رضی اللہ عنہ

متعدد صاحبزادیاں جن میں حضرت فاطمہ بنت حسن مشہور ہیں

شہادت 

بنو امیہ کے اشارے پر جعدہ بنت اشعث کے ذریعے امام حسن علیہ السلام کو زہر دیا گیا۔ کئی دن شدید تکلیف میں رہنے کے بعد، حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اٹھائیس صفر، سنِ پچاس ہجری کو مدینہ منورہ میں شہید ہو گئے۔

تدفین

آپ کی وصیت تھی کہ اگر ممکن ہو تو رسولِ خدا ﷺ کے پہلو میں دفن کیا جائے، مگر بنی امیہ کی مخالفت اور تیر اندازی کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔ آخرکار آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

نتیجہ حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام صبر، حلم، قربانی اور حکمتِ الٰہی کا مجسم نمونہ ہیں۔ آپ کی صلح نے دین کو محفوظ کیا، اور آپ کی مظلومانہ شہادت نے اہلِ بیتؑ کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔




فضائل و افضلیتِ پنجتنِ پاکؑ

 غدیرِ خم

یہ واقعہ اٹھارہ ذوالحجہ سن دس ہجری کا ہے، جب رسولِ اکرم ﷺ حجۃ الوداع ادا فرما کر مکہ سے مدینہ واپس تشریف لا رہے تھے۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے جسے غدیرِ خم کہا جاتا ہے، جو اس وقت قافلوں کے جدا ہونے کی آخری جگہ تھی۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم نازل ہوا کہ جو پیغام دیا جانا ہے وہ اسی مقام پر دیا جائے، ورنہ رسالت کا فریضہ ادھورا رہ جائے گا۔ اس حکم کی سنگینی کو قرآن نے غیر معمولی انداز میں بیان کیا۔

رسولِ اکرم ﷺ نے اسی مقام پر قافلے کو رکوانے کا حکم دیا۔ جو آگے جا چکے تھے انہیں واپس بلایا گیا، اور جو پیچھے تھے ان کا انتظار کیا گیا۔ شدید گرمی تھی، لوگ اپنی چادریں پیروں کے نیچے اور سروں پر رکھے کھڑے تھے۔ اونٹوں کے کجاووں سے ایک منبر بنایا گیا۔ یہ سب انتظام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاملہ غیر معمولی اور فیصلہ کن تھا۔

خطبۂ غدیر  اصل ترتیب اور مفہوم

رسولِ اکرم ﷺ نے خطبہ کا آغاز اللہ کی حمد و ثنا سے کیا، پھر فرمایا کہ عنقریب مجھے اللہ کی طرف سے بلاوا آنے والا ہے اور میں اس پر لبیک کہوں گا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے حاضرین سے سوال کیا:

کیا میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ تمام حاضرین نے بلند آواز میں کہا:

جی ہاں، یا رسول اللہ یہاں رسول ﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا، اتنا بلند کیا کہ دونوں کے بازوؤں کی سفیدی نظر آنے لگی اور پھر وہ تاریخی، صریح اور غیر مبہم الفاظ ارشاد فرمائے:

من کنت مولاہ فهذا علی مولاہ، اللھم والِ من والاہ، و عادِ من عاداہ، و انصر من نصرہ، و اخذل من خذلہ

یہ اعلان صرف محبت یا دوستی کا نہیں تھا، کیونکہ اس سے پہلے  کا سوال کیا جا چکا تھا۔ عربی زبان، سیاق و سباق، اور اجتماع کا انداز واضح کرتا ہے کہ یہاں مولیٰ کا معنی ولی، صاحبِ اختیار اور قائد ہے۔

صحابہ کا ردِعمل اور بیعت اس اعلان کے فوراً بعد صحابہ نے حضرت علیؑ کو مبارک باد دی۔  دین کے مکمل ہونے کا اعلان اسی مقام پر قرآن کی آیت نازل ہوئی:

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور اپنی نعمت پوری کر دی، اور اسلام کو تمہارے لیے دین پسند کیا اہلِ سنت کے متعدد مفسرین نے اس آیت کو غدیر کے اعلان سے مربوط کیا ہے، کیونکہ اس سے پہلے شریعت کے تمام احکام نازل ہو چکے تھے، اب مکمل ہونے کا اعلان قیادت کے تعین کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

رسول ﷺ کی آخری تاکید  پیغام کی ترسیل

خطبے کے آخر میں رسولِ اکرم ﷺ نے وہ جملہ فرمایا جسے اکثر مختصر کر دیا جاتا ہے، مگر کتابی امانت کے لیے اس کا ذکر ضروری ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: خبردار! جو یہاں موجود ہیں وہ یہ پیغام ان تک پہنچائیں جو یہاں موجود نہیں ہیں یہ تاکید اس بات کی دلیل ہے کہ یہ پیغام وقتی یا مقامی نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے تھا، اور اس کی ذمہ داری خود رسول ﷺ نے امت پر ڈالی۔

اصل متنِ خطبۂ غدیر م

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ ہم اسی کی حمد و ثناء کرتے ہیں، اسی پر ایمان رکھتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اور اپنے نفسوں کے شر اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اسی کی پناہ مانگتے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

اے لوگو! میں عنقریب تمہیں چھوڑ کر جانے والا ہوں، اور میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں، اگر تم ان دونوں سے وابستہ رہے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے: ایک اللہ کی کتاب (قرآن) اور دوسری میری عترت، یعنی میرے اہلِ بیت۔ اور بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں، قرآن اور اہلِ بیت، ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس وارد ہوں گے۔ پس غور کرنا کہ تم میرے بعد ان دونوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو۔

اے لوگو! اللہ میرا مولا ہے، اور میں تمام مؤمنوں کا مولا ہوں، اور میں تم پر تمہاری جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہوں۔ پس جس کا میں مولا ہوں، یہ علی بھی اس کے مولا ہیں۔

اے اللہ! جو علی کو دوست رکھے، تو بھی اسے دوست رکھ، اور جو علی سے دشمنی کرے، تو بھی اس سے دشمنی رکھ۔ جو علی کی نصرت کرے، تو اس کی مدد فرما، اور جو علی کو بے یار و مددگار چھوڑ دے، تو اسے بے یار و مددگار چھوڑ دے۔ اور حق کو ہمیشہ علی کے ساتھ رکھ، جدھر وہ جائیں حق بھی ادھر ہی جائے۔

اے لوگو! یہ مقام پیغام پہنچانے کے لیے نہایت اہم ہے، لہٰذا جو یہاں موجود ہیں وہ غیر موجود تک اسے پہنچا دیں، اور جو موجود نہیں وہ بھی اسے اپنی آنے والی نسلوں تک منتقل کریں، کیونکہ یہ حکم قیامت تک کے لیے ہے۔

اے لوگو! میں تم سے پہلے حوضِ کوثر پر پہنچوں گا، اور تم سب وہاں میرے پاس آؤ گے۔ پس دیکھنا کہ تم میرے بعد ان دو گراں قدر چیزوں، یعنی قرآن اور اہلِ بیت، کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہو۔

اے اللہ! تو گواہ رہ، تو نے مجھے حکم دیا اور میں نے پہنچا دیا۔

اے اللہ! جو علی کی مدد کرے، تو اس کی مدد فرما، اور جو علی کو چھوڑ دے، تو اسے ذلیل و رسوا کر دے، اور جو علی سے دشمنی کرے، تو اسے نیست و نابود کر دے۔

اے لوگو! سنو اور اطاعت کرو، بے شک یہ اللہ کا حکم ہے، اور جو اس میں شک کرے گا وہ گمراہی میں مبتلا ہو جائے گا۔

حدیثی مصادر

حدیثِ غدیر متعدد معتبر اہلِ سنت و اہلِ تشیع کتبِ حدیث و تاریخ میں منقول ہے، جن میں شامل ہیں:

صحیح مسلم (حدیث 2408)، سنن ترمذی (حدیث 3713)، مسند احمد (جلد 5، ص 366)، مستدرک الحاکم (جلد 3، ص 109)، المعجم الکبیر للطبرانی (جلد 5، ص 166)، تاریخ دمشق (جلد 42، ص 212)، خصائص نسائی (ص 96)، مسند ابی یعلیٰ (حدیث 4785)، البدایہ والنہایہ (جلد 5، ص 210)، طبقات ابن سعد (جلد 2، ص 194)، نیز اس کے علاوہ متعدد دیگر مصادر۔

یہ کثرتِ اسناد اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حدیثِ غدیر ایک ثابت شدہ اور مسلم تاریخی و حدیثی واقعہ ہے۔

خطبۂ غدیر کی حیثیت

یہ خطبہ نبی اکرم ﷺ کے اہم ترین اور آخری عوامی خطبات میں شمار ہوتا ہے، جو حجۃ الوداع کے بعد، اٹھارہ ذوالحجہ سن دس ہجری کو مقامِ غدیرِ خم پر ارشاد فرمایا گیا۔ اس خطبے میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں اپنی امت پر ولایت کا اعلان فرمایا۔

حدیث کے الفاظ میں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

من كنت مولاه فهذا علي مولاه جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے

یہ اعلان حضرت علیؑ کے دینی و روحانی مقام، اور رسول اللہ ﷺ کے بعد امت کے ساتھ ان کے تعلقِ ولایت کو واضح کرتا ہے۔ شیعہ مکتبِ فکر کے مطابق یہی ولایت، امامت اور خلافت کی بنیاد ہے، جبکہ اہلِ سنت محدثین بھی اس اعلان کو فضیلت اور ولایت کے باب میں ثابت مانتے ہیں۔

قرآنی تائید

اس واقعہ سے قبل سورۂ المائدہ کی آیت 67 نازل ہوئی:

﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ﴾

اے رسول ﷺ! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے

اہلِ تشیع کے مفسرین، اور متعدد اہلِ سنت مفسرین (جیسے امام فخر رازی، سیوطی، اور ابن جریر طبری کی بعض روایات میں کے نزدیک یہ آیت اعلانِ ولایتِ علیؑ کے موقع پر نازل ہوئی، جس سے خطبۂ غدیر کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔

حجۃ الوداع اور تکمیلِ دین

نو ذوالحجہ سن دس ہجری کو میدانِ عرفات میں نبی اکرم ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا، اور اسی دن سورۂ المائدہ کی آیت 3 نازل ہوئی:

﴿اليوم أكملت لكم دينكم﴾

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا

یہ آیت شریعت کے تکمیلِ احکام کی خبر دیتی ہے، جبکہ اس کے بعد غدیرِ خم میں اعلانِ ولایت کو دین کے عملی تحفظ اور قیادت کے تسلسل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

تاریخی پس منظر  غدیرِ خم

حجۃ الوداع کے بعد نبی اکرم ﷺ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب قافلہ مقامِ غدیرِ خم (جہاں مختلف راستے جدا ہوتے تھے) پر پہنچا، تو رسول اللہ ﷺ کو حکمِ الٰہی کے مطابق قافلہ روکنے اور اہم اعلان کرنے کا حکم دیا گیا، تاکہ یہ پیغام تمام حاضرین تک پہنچے اور وہ اسے آگے منتقل کریں۔

سورۃ المائدہ، آیت 67   آیتِ تبلیغ

نصِّ قرآنی

﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴾ المائدہ: 5:67

ترجمہ

اے رسول ﷺ! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے، اسے لوگوں تک پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اس کی رسالت ہی ادا نہیں کی، اور اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔ بے شک اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

تفسیر  اہلِ سنت کا مؤقف

اہلِ سنت مفسرین کے مطابق اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو نہایت تاکید کے ساتھ حکم دیا ہے کہ وحیِ الٰہی کو مکمل طور پر امت تک پہنچائیں اور کسی مخالفت یا اندیشے کو مانع نہ بننے دیں۔ بعض مفسرین (جیسے امام طبری، ابن کثیر، رازی) کے مطابق نبی ﷺ کو بعض احکام کے اعلان کے وقت کفار، منافقین یا اہلِ کتاب کی طرف سے مخالفت یا اذیت کا خدشہ لاحق ہو سکتا تھا، جس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تبلیغ میں کمی کی گئی تو گویا رسالت کا فریضہ ادا ہی نہ ہوا۔

اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو تسلی دی کہ وہ آپ کو لوگوں کے شر، سازشوں اور ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھے گا۔ اس تفسیر کے مطابق یہ آیت عمومی طور پر تبلیغِ دین کی فرضیت، کمال اور نبی ﷺ کی عصمت و حفاظت پر دلالت کرتی ہے، اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دین کا کوئی حکم چھپایا نہیں بلکہ مکمل طور پر امت تک پہنچا دیا۔

تفسیر  اہلِ تشیع اثنا عشری کا مؤقف

اہلِ تشیع اثنا عشری کے مطابق یہ آیت اٹھارہ ذوالحجہ سن دس ہجری کو مقامِ غدیرِ خم پر نازل ہوئی، اور اس میں رسول اللہ ﷺ کو حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کے اعلان کا حکم دیا گیا۔ شیعہ مفسرین (جیسے طبرسی، طوسی، علامہ طباطبائی) کے نزدیک نبی اکرم ﷺ کو یہ اندیشہ لاحق تھا کہ اس اعلان کے بعد بعض لوگ مخالفت کریں گے یا امت میں اختلاف پیدا ہوگا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے تاکید فرمائی کہ اگر یہ اعلان نہ کیا گیا تو گویا رسالت کا مقصد مکمل نہیں ہوا۔

اسی حکمِ الٰہی کی تعمیل میں نبی اکرم ﷺ نے غدیرِ خم کے مقام پر ارشاد فرمایا :من كنت مولاه فهذا علي مولاه  جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے اہلِ تشیع کے نزدیک یہ اعلان حضرت علیؑ کی دینی ولایت، امامت اور قیادت کے اثبات کی بنیاد ہے۔

سورۃ المائدہ، آیت 3  تکمیلِ دین

نصِّ قرآنی (آخری حصہ)

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾ المائدہ: 5:3

ترجمہ

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند فرما لیا۔

تفسیر   اہلِ سنت کا مؤقف

اہلِ سنت مفسرین کے مطابق یہ آیت نو ذوالحجہ سن دس ہجری کو میدانِ عرفات میں حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی۔ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ شریعتِ اسلام کے بنیادی احکام، حلال و حرام، اور دینی نظام مکمل ہو چکا، اور اب اسلام ایک کامل دین کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس تکمیلِ دین کا تعلق شریعت اور احکام کی تکمیل سے ہے، نہ کہ کسی خاص فرد کے تقرر کے اعلان سے۔

نہایت اہم علمی وضاحت

آیت 67 اور آیت 3 کے نزول کے مواقع میں اختلاف تفسیری اور تاریخی نوعیت کا ہے

اہلِ سنت اور اہلِ تشیع دونوں نے اپنے اپنے معتبر مصادر کی بنیاد پر الگ الگ فہم پیش کیا ہے

اس متن میں کسی ایک مؤقف کو دوسرے پر زبردستی مسلط نہیں کیا گیا

سورۃ المائدہ، آیت 3  تکمیلِ دین

تفسیر: اہلِ سنت کا مؤقف

اہلِ سنت کی تفاسیر کے مطابق سورۃ المائدہ کی آیت ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾

نو ذوالحجہ سن دس ہجری کو حجۃ الوداع کے موقع پر میدانِ عرفات میں نازل ہوئی۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن اسلام کو ایک مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر تمام انسانیت کے لیے مکمل فرما دیا۔ شریعتِ اسلام کے تمام بنیادی احکام، جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، جہاد، معاملات، اخلاقیات اور حلال و حرام کے اصول، اس وقت تک مکمل ہو چکے تھے۔

اسی پس منظر میں صحیح بخاری میں یہ روایت منقول ہے کہ ایک یہودی عالم نے حضرت عمر بن خطابؓ  سے کہا:

اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔

جواب دیا: ہم اس دن اور اس مقام کو خوب جانتے ہیں جس دن یہ آیت نازل ہوئی، وہ عرفات کا دن تھا اور جمعہ کا دن تھا۔

سورۃ المائدہ، آیت 3  تفسیر: اہلِ تشیع اثنا عشری کا مؤقف

اہلِ تشیع اثنا عشری کے مطابق اسی آیت کا ایک گہرا تعلق واقعۂ غدیرِ خم سے ہے، اور بعض شیعہ مفسرین کے نزدیک یہ آیت اٹھارہ ذوالحجہ سن دس ہجری کو غدیرِ خم کے موقع پر، حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کے اعلان کے بعد نازل ہوئی۔

اثنا عشری عقیدے کے مطابق دین اس وقت حقیقی معنوں میں کامل ہوا جب قیادت اور رہبری (ولایت) کا واضح اعلان کر دیا گیا، تاکہ دینِ اسلام قیامت تک تحریف، انحراف اور قیادتی خلا سے محفوظ رہے۔ اس تفسیر کے مطابق نعمت کی تکمیل سے مراد ولایتِ علیؑ کا اعلان ہے، اور اسی نسبت سے اہلِ تشیع اٹھارہ ذوالحجہ کو عیدِ غدیر کے طور پر مناتے ہیں۔

قرآن کی ترتیب اور جمع  علمی وضاحت

قرآنِ مجید کی موجودہ ترتیب نزول کی ترتیب کے مطابق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے، نبی اکرم ﷺ کی ہدایت اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کی رہنمائی میں حکمت، موضوع اور معنوی ربط کے تحت مرتب کی گئی۔ اسی لیے بعض آیات، جیسے سورۃ المائدہ کی آیت 67 (آیتِ تبلیغ)، نزول کے اعتبار سے بعد میں نازل ہوئیں لیکن مصحف میں آیت 3 (آیتِ اکمالِ دین) سے پہلے یا بعد میں رکھی گئیں۔ یہی فرق ترتیبِ نزولی اور ترتیبِ مصحفی کے درمیان پایا جاتا ہے۔

خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفانؓ کے دور میں قرآنِ مجید کو ایک متحدہ اور سرکاری مصحف کی صورت میں جمع کیا گیا، جس میں تمام متواتر اور صحیح قراءات کو محفوظ رکھا گیا۔ بعد ازاں اموی دور میں، تعلیمی اور قراءتی سہولت کے لیے قرآن کو تیس (30) پاروں میں تقسیم کیا گیا، جس سے قرآن کی اصل ترتیب یا متن میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی، بلکہ صرف مطالعہ اور حفظ میں آسانی پیدا ہوئی۔

عقیدۂ تحفظِ قرآن (اجماعی مؤقف)

یہ بات اہلِ سنت اور اہلِ تشیع دونوں کے ہاں عقیدے کا حصہ ہے کہ:

قرآنِ مجید میں نہ کبھی تحریف ہوئی ہے

نہ ہو سکتی ہے

نہ کسی آیت کے الفاظ یا معانی بدلے جا سکتے ہیں

اگرچہ قرآن کی ترتیب نزولی نہیں، لیکن قرآن کی ہر آیت اور ہر لفظ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی ترتیب میں محفوظ ہے جسے اللہ نے خود پسند فرمایا ہے۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ سورۃ الحجر: 15:9

ترجمہ:

بے شک ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

مصحح و منقح علمی متن

پس نہ اس میں کوئی زیادتی ہو سکتی ہے، نہ کمی، اور نہ ہی تحریف۔ یہ اللہ تعالیٰ کی محفوظ کتاب ہے۔ اللہ اکبر۔

یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو ایک نہایت اہم اور خاص حکم کے پہنچانے کا سختی کے ساتھ حکم دیا گیا تھا۔ اسی حکمِ الٰہی کی تعمیل میں رسول اللہ ﷺ نے غدیرِ خم کے مقام پر قافلے کو روکنے کا حکم فرمایا، اور ایک بلند جگہ پر منبر یا اجتماع کے لیے انتظام کیا گیا، تاکہ یہ پیغام تمام حاضرین تک پہنچایا جا سکے۔

اسی موقع پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کا اعلان فرمایا۔ یہ اعلان ایک ایسا تاریخی اور حدیثی واقعہ ہے جسے نہ صرف اہلِ تشیع نے، بلکہ متعدد معتبر اہلِ سنت محدثین، مؤرخین اور مفسرین نے بھی روایت کیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

من كنت مولاه فهذا علي مولاه  جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے

یہ حدیث سنن ترمذی (حدیث 3713)، صحیح مسلم (حدیث 2408)، مسند احمد بن حنبل (جلد 5، ص 366)، اور المستدرک للحاکم (جلد 3، ص 109) میں منقول ہے، جہاں امام حاکم اور امام ذہبی دونوں نے اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے۔

اسی موقع پر رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا بھی فرمائی:

اللهم والِ من والاه، وعادِ من عاداه، وانصر من نصره، واخذل من خذله

یہ دعا بھی انہی معتبر مصادر میں روایت ہوئی ہے۔

حدیثِ غدیر کو روایت کرنے والے اہلِ سنت محدثین میں امام طبرانی (المعجم الکبیر)، امام نسائی (خصائص علی)، امام ابو یعلی، امام ابن حجر عسقلانی (الاصابہ، فتح الباری)، امام سیوطی (الدر المنثور، جلد 2، ص 259)، امام ابن عبد البر (الاستیعاب)، امام بیہقی (السنن الکبری)، علامہ ابن اثیر (الکامل فی التاریخ)، اور امام ذہبی (تلخیص المستدرک) جیسے اکابر شامل ہیں۔

اسی طرح متعدد مفسرین، جن میں امام نسفی (مدارک التنزیل)، امام فخر الدین رازی (تفسیر کبیر)، اور امام ابن جریر طبری (تاریخ و تفسیر) شامل ہیں، سورۃ المائدہ کی آیت:

﴿إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا﴾ المائدہ: 5:55

کو حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کے حق میں نازل شدہ قرار دیتے ہیں، جیسا کہ متعدد روایات میں منقول ہے۔

خطبۂ غدیر پر سب سے جامع اور مفصل تحقیق علامہ عبد الحسین امینی کی شہرۂ آفاق تصنیف الغدیر (جلد اوّل) میں موجود ہے، جس میں ایک سو دس سے زائد اہلِ سنت مصادر سے حدیثِ غدیر کی اسناد، رواۃ اور متون کو جمع کیا گیا ہے۔

اہلِ تشیع کے مصادر میں بھی، جیسے الکافی (کلینی)، الاحتجاج (طبرسی)، عیون اخبار الرضا (شیخ صدوق)، مناقب آل ابی طالب (ابن شہر آشوب)، اور بحار الانوار (علامہ مجلسی)، حدیثِ غدیر کو مختلف تفصیلات کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں، صحیح مسلم، مسند احمد، اور مستدرک حاکم میں حدیثِ ثقلین (قرآن اور اہلِ بیت سے وابستگی کی تاکید) بھی اسی خطبے کے ضمن میں منقول ہے۔

یہ تمام حدیثی، تاریخی اور تفسیری شواہد اس حقیقت کو مستحکم کرتے ہیں کہ واقعۂ غدیرِ خم نہ صرف ثابت شدہ، معتبر اور متواتر ہے، بلکہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کے اعلان اور امت کے لیے دینی رہنمائی کی ایک بنیادی اساس بھی ہے، جسے رسول اللہ ﷺ کے ایک اہم ارشاد اور ہدایت کے طور پر محفوظ رکھا گیا ہے۔

حدیثِ ثقلین اسی تسلسل کا دوسرا ستون

اسی خطبے میں (اور دیگر مواقع پر بھی) رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں: ایک اللہ کی کتاب، اور دوسری میرے اہلِ بیت۔ اگر تم ان دونوں سے وابستہ رہو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے، اور یہ دونوں حوضِ کوثر پر مجھ سے آ کر ملیں گے یہاں تین باتیں غیر معمولی طور پر واضح ہیں: اوّل: قرآن اور اہلِ بیت کو الگ نہیں کیا گیا دوم: ہدایت کی ضمانت دونوں سے مشروط کی گئی

سوم: قیامت تک ان کی ہمراہی کا اعلان کیا گیا یہ حدیث اہلِ بیتؑ کو محض محترم خاندان نہیں بلکہ دینی اتھارٹی ثابت کرتی ہے۔

حوالہ جات: مسند احمد بن حنبل، صحیح مسلم، سنن ترمذی، المستدرک للحاکم النیشاپوری، تاریخِ طبری، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، تفسیرِ طبری، تفسیرِ فخرالدین رازی، خصائص النسائی، الغدیر (علامہ عبدالحسین امینی)

آیتِ تطہیر اور حدیثِ کساء  اہلِ بیتؑ کی الٰہی تعیین اور عصمت

آیتِ تطہیر قرآنِ مجید کی وہ صریح آیت ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اہلِ بیتؑ کو خصوصی طہارت اور روحانی مقام عطا کیا۔ یہ آیت رسولِ اکرم ﷺ کے گھر میں ایک مخصوص موقع پر نازل ہوئی، جس کا پس منظر حدیثِ کساء کے ذریعے تفصیل سے محفوظ ہے۔ روایت کے مطابق رسولِ اکرم ﷺ نے حضرت علی علیہ السلام، حضرت فاطمہ الزہرا سلامُ اللہ علیہا، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کو ایک چادر (کساء) میں جمع فرمایا اور اللہ کی بارگاہ میں دعا کی: اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں، تو ان سے ہر رجس کو دور رکھ اور انہیں مکمل طور پر پاک فرما۔ اسی دعا کے ساتھ آیت نازل ہوئی جس میں اہلِ بیتؑ کی طہارت کا اعلان کیا گیا۔

قرآنی آیت کے الفاظ میں اہلِ بیتؑ کے لیے جو اسلوب اختیار کیا گیا، وہ عام نہیں بلکہ خصوصی ہے۔ عربی قواعد کے مطابق ضمیروں کا مذکر کی طرف منتقل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ خطاب ازواجِ رسولؐ سے ہٹ کر ایک خاص جماعت کی طرف ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ سنت کے بڑے مفسرین اور محدثین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ آیتِ تطہیر کا مصداق وہی ہستیاں ہیں جنہیں رسولِ اکرم ﷺ نے چادر میں جمع فرمایا۔ اس واقعے نے اہلِ بیتؑ کی شناخت کو قطعی طور پر متعین کر دیا اور ان کے دینی مقام کو قرآن کے ذریعے محفوظ کر دیا۔

آیتِ تطہیر اور حدیثِ کساء کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اہلِ بیتؑ محض رسول ﷺ کے قریبی رشتہ دار نہیں بلکہ وہ ہستیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دین کی حفاظت، صحیح فہم اور اخلاقی معیار کے لیے منتخب فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ حدیثِ ثقلین میں قرآن کے ساتھ اہلِ بیتؑ کو جوڑا گیا، کیونکہ جنہیں اللہ نے ہر رجس سے پاک قرار دیا ہو، وہی قرآن کی صحیح تشریح اور عملی تطبیق کے سب سے زیادہ اہل ہوتے ہیں۔ اس طرح آیتِ تطہیر اور حدیثِ کساء مل کر اہلِ بیتؑ کی عصمت، اتھارٹی اور رہنمائی کو ایک مضبوط قرآنی و نبوی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ آیتِ تطہیر  سورۃ الاحزاب، آیت 33 صحیح مسلم، مسند احمد بن حنبل، سنن ترمذی، تفسیر طبری، تفسیر فخرالدین رازی، خصائص النسائی

واقعۂ مباہلہ  پنجتنِ پاکؑ کی صداقت اور مقامِ الٰہی

واقعۂ مباہلہ سن دس ہجری میں پیش آیا، جب نجران (یمن) سے تعلق رکھنے والا ایک عیسائی وفد مدینہ منورہ آیا تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیثیت کے بارے میں رسولِ اکرم ﷺ سے مناظرہ کرے۔ طویل مکالمے کے باوجود جب وہ حق قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن میں مباہلہ کا حکم نازل ہوا۔ مباہلہ عربی روایت میں اس فیصلے کو کہا جاتا ہے جس میں دونوں فریق اللہ کے حضور دعا کرتے ہیں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت نازل ہو۔ یہ مرحلہ انتہائی سنگین اور فیصلہ کن ہوتا ہے، کیونکہ اس میں اپنی جان، خاندان اور حقانیت کو براہِ راست اللہ کے فیصلے کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

قرآنِ مجید میں مباہلہ کا حکم ان الفاظ میں آیا کہ رسول ﷺ اپنے بیٹوں، عورتوں اور اپنی جانوں کو لے کر میدان میں آئیں۔ تاریخ متفق ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ اس حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے ساتھ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کو بطور ابناء، سیدہ فاطمہ الزہرا سلامُ اللہ علیہا کو بطور نساء، اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو بطور انفسنا لے کر تشریف لائے۔ یہاں قرآن کی زبان میں حضرت علیؑ کو رسول ﷺ کی جان کے برابر قرار دیا جانا ایک ایسا مقام ہے جو کسی اور صحابی کو نصیب نہیں ہوا۔ یہ انتخاب خود اس بات کی دلیل تھا کہ اہلِ بیتؑ ہی دین کی صداقت کے حقیقی نمائندہ ہیں۔

جب نجران کے عیسائیوں نے رسول ﷺ کو صرف انہی پاک ہستیوں کے ساتھ مباہلہ کے لیے آتے دیکھا تو وہ خوف زدہ ہو گئے۔ ان کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے کہا کہ اگر یہ لوگ نبی نہ ہوتے تو اپنے عزیز ترین افراد کو اس خطرناک دعا کے لیے کبھی نہ لاتے۔ چنانچہ انہوں نے مباہلہ سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا اور جزیہ پر صلح کر لی۔ اس طرح مباہلہ عملی طور پر واقع نہیں ہوا، مگر اہلِ بیتؑ کی صداقت، پاکیزگی اور اللہ کے نزدیک مقام پوری دنیا پر واضح ہو گیا۔

واقعۂ مباہلہ کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ واحد قرآنی واقعہ ہے جس میں رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی حقانیت کے اثبات کے لیے پوری امت میں سے صرف پنجتنِ پاکؑ کو منتخب فرمایا۔ اگر اہلِ بیتؑ میں کسی قسم کی فکری، اخلاقی یا دینی کمزوری ہوتی تو انہیں اس انتہائی نازک موقع پر ہرگز شامل نہ کیا جاتا۔ اسی بنا پر اہلِ سنت و شیعہ مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ مباہلہ اہلِ بیتؑ کی افضلیت، طہارت اور دینی نمائندگی کی قطعی قرآنی دلیل ہے۔

صحیح مسلم، تفسیر طبری، تفسیر فخرالدین رازی، اسباب النزول واحدی، سیر اعلام النبلاء ذہبی، المستدرک للحاکم النیشاپوری

اہلِ بیتؑ کی دشمنی اور اعمال کی عدمِ قبولیت  مستند مفہوم کے ساتھ

رسولِ اکرم ﷺ سے متعدد معتبر روایات میں یہ بات منقول ہے کہ اہلِ بیتؑ سے بغض اور دشمنی انسان کے اعمال کو ضائع کر دیتی ہے، خواہ وہ ظاہری طور پر کتنی ہی بڑی عبادت کیوں نہ کرتا ہو۔ اس مفہوم کی ایک مشہور روایت میں نبی کریم ﷺ نے مثال کے طور پر حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان عبادت کا ذکر فرمایا، جو عبادت کے سب سے مقدس مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔

روایت کا مستند مفہوم یہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

اگر کوئی شخص حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان کھڑا ہو کر پوری زندگی نماز پڑھے، روزے رکھے اور عبادت کرتا رہے، لیکن اس کے دل میں میرے اہلِ بیت سے بغض ہو، تو وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ یہاں رسول ﷺ نے عبادت کی نفی نہیں کی بلکہ قبولیت کی نفی کی ہے۔ یعنی ظاہری اعمال اس وقت تک بارگاہِ الٰہی میں وزن نہیں رکھتے جب تک دل اہلِ بیتؑ کی ولایت اور محبت سے خالی یا اس کا منکر ہو۔ یہی اصول قرآن کی اس تعلیم سے ہم آہنگ ہے کہ ایمان، نیت اور ولایت کے بغیر اعمال بے جان ہوتے ہیں۔

یہ مضمون کئی طرق سے نقل ہوا ہے، بعض روایات میں حضرت علیؑ کی دشمنی کو نفاق کی علامت قرار دیا گیا، اور بعض میں اہلِ بیتؑ سے بغض کو ہلاکت کا سبب بتایا گیا ہے۔ محدثین کے نزدیک ان روایات کا مجموعی مفہوم قطعی ہے، چاہے الفاظ مختلف ہوں۔

آیتِ مودّت اہلِ بیتؑ کی محبت کو اجرِ رسالت قرار دینا

یہ وہ واحد قرآنی دلیل ہے جس میں اہلِ بیتؑ کی محبت کو براہِ راست فرض اور دین کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم ﷺ سے فرمایا کہ آپ امت سے اپنی رسالت کا کوئی اجر طلب نہ کریں، سوائے اس کے کہ وہ آپ کے قریبی اہلِ بیتؑ سے محبت کریں۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

کہہ دیجئے: میں تم سے اس (رسالت) پر کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے قرابت داروں کی محبت کے

سورۃ الشوریٰ، آیت 23 اہلِ سنت کے بڑے مفسرین جیسے ابن عباس، طبری، زمخشری اور فخرالدین رازی سب نے نقل کیا ہے کہ جب صحابہؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ قرابت دار کون ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:

علی، فاطمہ، حسن اور حسین۔

یہ آیت اس لیے غیر معمولی ہے کہ: محبت کو ثواب نہیں بلکہ اجرِ رسالت کہا گیا اجر مانگنا نبی کے  مگر یہاں اللہ نے خود حکم دیا اس سے ثابت ہوا کہ اہلِ بیتؑ کی محبت اختیاری نہیں بلکہ دینی تقاضا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

تقسیمِ ہند ہجرت روحانی ورثہ اور قربانیوں کی داستان

گلزارِ جلالیہ | Gulzar-e-jalalia | Gulzar-e-jalaliya | Gulzar E Jalaliya

سید محبت علی اور سید حفیظ علی کی مکمل اولاد نسل در نسل تفصیل