حضرت سید علم الدین بن ناصر الدین بن مخدوم جہانیاں بخاری رحمۃ اللہ علیہ
حضرت سید علم الدین بن ناصر الدین بن مخدوم جہانیاں بخاری رحمۃ اللہ علیہ
(سلسلہ بخاریہ نقوی - ساداتِ اوچ شریف)
نسب و تعارف
حضرت سید علم الدین رحمۃ اللہ علیہ سلسلہ جلالیہ کے ممتاز و موقر بزرگ تھے آپ، حضرت سید ناصرالدین بخاری رحمۃ اللہ علیہ (المعروف محمود نر ناصرالدین) کے فرزند اور حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے تھے۔ اس خانوادے کا شمار سلسلہ بخاریہ کے ان روشن چراغوں میں ہوتا ہے جنہوں نے علم و عرفان اور طریقت و حقیقت کو نسل در نسل آگے بڑھایا۔
آپ ایک متقی، فاضل، وارثِ مسند طریقت، سالکِ راہِ سلوک، اور صاحبِ فیض بزرگ تھے۔ آپ کے والد بزرگوار نے آپ کی تربیت طریقت و شریعت کی بنیادوں پر کی۔
سیرت و کردار
حضرت سید علم الدین رحمۃ اللہ علیہ نہایت سادہ مزاج، منکسر المزاج اور زہد و تقویٰ کے پیکر تھے۔ آپ نے اپنے والد محترم اور جد امجد حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے فیوض و برکات کو نہ صرف خود حاصل کیا بلکہ اپنے بیٹے اور مریدین کو بھی اس سے سیراب کیا۔
آپ کا تربیتی و روحانی نظام مکمل طور پر اہلِ بیتؑ کے مطابق تھا باوجود اس کے کہ آپ کے حالاتِ زندگی پر زیادہ تفصیلی تحریری شواہد موجود نہیں، تاہم آپ کے فرزند اور بعد کی نسلوں کے ذریعہ آپ کے روحانی فیضان و عرفان کی موجودگی ثابت ہے۔
اولاد
آپ کے صاحبزادے کا تاریخی طور پر ذکر محفوظ ہے:
سید چلبی حسن رحمۃ اللہ علیہ
آپ کے فرزند اور خلیفہ، جنہوں نے حضرت سید جلال الدین (ابنِ مخدوم جہانیاں) سے تعلیم حاصل کی۔
علم و تربیت کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔
ان کی نسل کے مشہور افراد میں:
1. سید بدرالدین حسن
2. سید خضرالدین
3. سید سلطان احمد دیوروی (قلعہ دیورہ کے مشہور بزرگ)
اس تسلسل سے معلوم ہوتا ہے کہ سید علم الدین رحمۃ اللہ علیہ کی نسل میں کئی علمی و روحانی شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے ہندوستان میں اسلام، سلوک، اور روحانیت کو فروغ دیا۔
ماخذ و مراجع
تذکرہ مخدوم جہانیاں جہاں گشت
بحر المطالب فی انساب آل ابی طالب از سید کرم حسین بخاری اوچوی
تصویر شائع شدہ نساب صفحہ (آپ کی اولاد کے 27 افراد میں شامل)
Jalalians ویب سائٹ کے ساداتِ جلالیہ سے متعلقہ حوالہ جات
حضرت سید علم الدین رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد آج بھی برصغیر کے مختلف علاقوں خصوصاً قلعہ دیورہ، اوچ شریف، گجرات، جھنگ، اور بہاولپور میں موجود ہے اور سلسلہ جلالیہ کے روحانی اور نسبی ورثہ کی امین ہے۔ ان کے روحانی فیضان کا تسلسل ان کے صاحبزادے سید چلبی حسن اور ان کی نسل کے ذریعے جاری رہا۔
Comments
Post a Comment