حضرت سید عبداللہ علیہ السلام
حضرت سید عبداللہ علیہ السلام
والدِ رسولِ خدا ﷺ، موحد علی ملتِ ابراہیم
حضرت سید عبداللہ علیہ السلام کا مکمل نام عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کلاب ہے۔ آپ کا نسب نہایت معزز اور بلند پایہ ہے جو سلسلہ وار حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم علیہما السلام تک پہنچتا ہے۔ اسی پاکیزہ اور منتخب خانوادے کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے لیے منتخب فرمایا۔
والدین:
آپ کے والد ماجد حضرت عبدالمطلب بن ہاشم علیہ السلام مکہ معظمہ کے رئیس، قریش کے سردار، حاجیوں کو پانی پلانے اور کھانا کھلانے کی عظیم خدمت انجام دینے والے، صاحبِ وقار اور موحد شخصیت تھے۔
آپ کی والدہ محترمہ حضرت فاطمہ بنت عمرو علیہا السلام قبیلہ بنی مخزوم سے تعلق رکھتی تھیں اور اپنے زمانے کی نہایت باوقار، عاقل اور شریف خاتون شمار ہوتی تھیں۔
تاریخِ ولادت:
مؤرخین کے مطابق حضرت سید عبداللہ علیہ السلام کی ولادت عامِ فیل سے چند سال قبل مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ بچپن ہی سے حسنِ اخلاق، متانت، شرافت اور پاکیزگی میں ممتاز تھے۔
القابات و اوصاف:
سیرت و تاریخ کی کتب میں آپ کے لیے متعدد اوصاف و القابات بیان کیے گئے ہیں، جن میں نمایاں یہ ہیں:
صاحبِ نور، طاہر و مطہر، افضلُ اولادِ عبدالمطلب، حاملِ نورِ نبوت، امین و صادق، اور موحدِ کامل۔
اہلِ مکہ اس بات پر متفق تھے کہ حضرت عبداللہ علیہ السلام اپنے وقت کے حسین ترین، باوقار ترین اور بااخلاق نوجوانوں میں شمار ہوتے تھے۔
ازواج:
آپ کی واحد زوجہ محترمہ حضرت آمنہ بنت وہب سلامُ اللہ علیہا تھیں، جو نسب، حسب، عقل اور طہارت میں قریش کی منتخب ترین خواتین میں شمار ہوتی تھیں۔ یہ نکاح قریش کے معززین کی موجودگی میں انجام پایا۔
اولاد:
حضرت سید عبداللہ علیہ السلام کی اولاد میں صرف ایک فرزند ہوئے :حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ آپ اپنے فرزند کی ولادت سے قبل ہی وصال فرما گئے۔
اہم واقعہ: نذر اور فدیہ
حضرت عبدالمطلب علیہ السلام نے نذر مانی تھی کہ اگر ان کے دس بیٹے ہوئے تو وہ ایک کو اللہ کی راہ میں قربان کریں گے۔ قرعہ اندازی کے ذریعے حضرت عبداللہ علیہ السلام کا نام نکلا، مگر بعد ازاں اللہ تعالیٰ کے حکم سے اونٹوں کو فدیہ بنا کر حضرت عبداللہ علیہ السلام کی جان بچائی گئی۔ یہ واقعہ تاریخ میں فدیۂ عبداللہ کے نام سے معروف ہے۔
تجارت اور سفر:
نکاح کے کچھ ہی عرصہ بعد حضرت عبداللہ علیہ السلام ایک تجارتی قافلے کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہوئے۔ واپسی کے دوران مدینہ منورہ میں بیمار ہو گئے اور وہیں قیام پذیر رہے۔
تاریخِ وفات اور مدفن:
حضرت عبدالمطلب علیہ السلام نے اپنے سب سے بڑے بیٹے حارث کو مدینہ منورہ بھیجا، مگر ان کے پہنچنے سے قبل ہی حضرت عبداللہ علیہ السلام کا وصال ہو چکا تھا۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً پچیس برس تھی۔
آپ کو مدینہ منورہ کے محلہ بنی النجار میں دفن کیا گیا، جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ننہال بنا۔
ترکہ:
وصال کے وقت حضرت عبداللہ علیہ السلام نے چند اونٹ، چند بکریاں اور ایک باندی ترکہ میں چھوڑیں۔ یہی باندی بعد میں ام ایمن رضی اللہ عنہا کے نام سے معروف ہوئیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں رہیں۔
شان و مقام:
روایات کے مطابق حضرت عبدالمطلب علیہ السلام نے اپنے فرزند کے وصال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے بیٹوں میں عبداللہ سب سے زیادہ صاحبِ نور اور معزز تھے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ علیہ السلام کی پیشانی میں وہ نورِ نبوت جلوہ گر تھا جو بعد میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس میں ظاہر ہوا۔ حضرت عبداللہ علیہ السلام شرک، بت پرستی اور جاہلی رسوم سے مکمل بیزار تھے اور دینِ ابراہیمی پر قائم تھے یہ بات اکثر سیرت کی معتبر کتب میں صراحتاً ملتی ہے۔
اگرچہ حضرت سید عبداللہ علیہ السلام کی حیاتِ ظاہری مختصر رہی، مگر ان کا کردار، توحید پر کامل ایمان اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدِ ماجد ہونے کا شرف انہیں تاریخِ اسلام میں ہمیشہ کے لیے عظمت و امتیاز کا نشان بنا گیا۔
Comments
Post a Comment