حضرت زینب بنت علی سلامُ اللہ علیہا

 حضرت زینب بنت علی سلامُ اللہ علیہا

سیدۂ کربلا، شریکۃُ الحسین، عقیلۂ بنی ہاشم

حضرت زینب بنتِ علی سلامُ اللہ علیہا، جنہیں تاریخِ اسلام میں حضرت زینبِ کبریٰ، سیدۂ کربلا، شریکۃُ الحسین، عقیلۂ بنی ہاشم اور عالِمۃٌ غیرُ معلَّمۃ جیسے جلیل القدر القابات سے یاد کیا جاتا ہے، خاندانِ نبوت کی وہ عظیم المرتبت خاتون ہیں جنہوں نے دینِ محمدی ﷺ کی بقا میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ آپ، امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ زہرا سلامُ اللہ علیہا کی دخترِ نیک اختر، اور نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نواسی تھیں۔

ولادت و نام گذاری

حضرت زینب سلامُ اللہ علیہا کی ولادت پانچ شعبان المعظم، سنِ پانچ ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ روایت ہے کہ جب یہ بچی رسولِ خدا ﷺ کی خدمت میں لائی گئی تو آپ ﷺ نے اللہ کے حکم سے ان کا نام زینب رکھا، جس کے معنی ہیں :زینِ اب یعنی باپ کی زینت۔

یہ نام مستقبل میں اپنی معنوی حقیقت کے ساتھ جلوہ گر ہوا، جب حضرت زینبؑ نے حضرت علیؑ کے علمی، اخلاقی اور روحانی ورثے کی کامل نمائندگی کی۔

تربیت و علمی مقام

حضرت زینب سلامُ اللہ علیہا کی تربیت براہِ راست نبی اکرم ﷺ، سیدہ فاطمہ زہراؑ اور حضرت علیؑ کی آغوشِ علم و عصمت میں ہوئی۔ 

آپ نے: علمِ قرآن، فہمِ شریعت، صبرِ فاطمی، شجاعتِ علوی، فصاحت و بلاغت، حیا و عفت، توکل و رضا


جیسی صفات بچپن ہی سے حاصل کیں۔

ائمۂ اہلِ بیتؑ سے منقول ہے کہ حضرت زینبؑ عالِمۃٌ غیرُ معلَّمۃ تھیں، یعنی وہ ایسی عالمہ تھیں جنہیں ظاہری طور پر کسی نے تعلیم نہ دی، بلکہ علم الٰہی آپ کے قلب میں ودیعت تھا۔

القابات

حضرت زینب سلامُ اللہ علیہا کے مشہور القابات درج ذیل ہیں:

زینبِ کبریٰ، سیدۂ کربلا، شریکۃُ الحسین، عقیلۂ بنی ہاشم، امّ المصائب، عالمۃٌ غیرُ معلَّمۃ، نائبةُ الحسین، خطیبۂ اسلام، بنتُ الولایہ، وارثۃُ فصاحتِ علوی، ترجمانِ کربلا، پاسبانِ حرمِ رسالت، علمدارِ صبر و استقامت

یہ تمام القابات آپ کی حیات کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔

ازدواجی زندگی

حضرت زینب سلامُ اللہ علیہا کا نکاح حضرت عبداللہ بن جعفر طیار علیہ الرحمہ سے ہوا، جو:

حضرت جعفر بن ابی طالب علیہ السلام (جعفرِ طیار) کے فرزند

نبی اکرم ﷺ کے چچا زاد

سخاوت، شرافت اور تقویٰ میں مشہور تھے۔

حضرت عبداللہ بن جعفرؑ نے ہمیشہ حضرت زینبؑ کے اہلِ بیتؑ سے قلبی تعلق اور امام حسینؑ سے وفاداری کی حمایت کی، حتیٰ کہ کربلا کے سفر میں اپنی زوجہ کو جانے کی اجازت دی۔

اولاد

حضرت زینب سلامُ اللہ علیہا کے بطن سے مشہور اولاد یہ ہے:

حضرت عونؑ بن عبداللہؑ

حضرت محمدؑ بن عبداللہؑ

یہ دونوں فرزند واقعۂ کربلا میں اپنے ماموں حضرت امام حسین علیہ السلام پر قربان ہوئے اور جامِ شہادت نوش کیا۔

حضرت زینبؑ نے اپنے بیٹوں کی شہادت پر صبر و رضا کی ایسی مثال قائم کی جو قیامت تک مظلوموں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

واقعۂ کربلا میں کردار

حضرت زینب سلامُ اللہ علیہا کا کردارِ کربلا محض ایک غم زدہ بہن کا نہیں بلکہ امام حسینؑ کے مشن کی امین کا تھا۔

عاشورا کے بعد آپ نے خیموں کی حفاظت کی

بیمار امام زین العابدینؑ کی جان بچائی

اہلِ حرم کی قیادت سنبھالی

شہداء کے پیغام کو دنیا تک پہنچایا

یہ کہنا بجا ہے کہ کربلا امام حسینؑ نے زندہ کی، اور کربلا کو حضرت زینبؑ نے باقی رکھا۔

خطبۂ کوفہ

کوفہ میں حضرت زینبؑ نے ایسا خطبہ دیا جس میں:

اہلِ کوفہ کی بے وفائی کو بے نقاب کیا

قرآن کی آیات سے استدلال کیا

ضمیرِ مردہ کو جھنجھوڑ دیا

راوی کہتے ہیں کہ یہ خطبہ حضرت علیؑ کے خطبات کی یاد دلا رہا تھا۔

دربارِ یزید میں خطبہ

شام میں یزید کے دربار میں حضرت زینبؑ نے حق گوئی، شجاعت اور توحید پر مبنی ایسا خطبہ دیا جو تاریخِ اسلام کا سنگِ میل ہے۔ آپ نے فرمایا (مفہوم):

اے یزید! تو سمجھتا ہے کہ ہم ذلیل ہو گئے؟ قسم بخدا! تو نہ ہمارا ذکر مٹا سکتا ہے اور نہ وحی کا چراغ بجھا سکتا ہے۔

یہ خطبہ یزید کی ظاہری فتح کو اخلاقی شکست میں بدل گیا۔

وفات

حضرت زینب سلامُ اللہ علیہا کی وفات کے بارے میں مورخین میں اختلاف ہے، تاہم مشہور اقوال کے مطابق آپ کی وفات پندرہ رجب، سن باسٹھ ہجری کے قریب ہوئی۔

مزار

حضرت زینب سلامُ اللہ علیہا کے مزار کے بارے میں تین مقامات منقول ہیں: دمشق (سیدہ زینبؑ کا مشہور روضہ) ، مدینہ منورہ، مصر، اکثر مؤرخین اور اہلِ تشیع کے نزدیک دمشق والا مزار زیادہ مشہور و معروف ہے۔

حضرت زینب سلامُ اللہ علیہا صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ:

صبر کی عملی تفسیر، حق گوئی کی زندہ مثال، مظلوم کی آواز ہیں۔ اگر امام حسینؑ نے کربلا میں خون دیا، تو حضرت زینبؑ نے کربلا کو زبان دی۔

حوالہ جات

لُہوف، سید ابن طاؤس، بحارالانوار، جلد پینتالیس، کشف الغمہ، تاریخِ طبری، بلاذری


Comments

Popular posts from this blog

تقسیمِ ہند ہجرت روحانی ورثہ اور قربانیوں کی داستان

گلزارِ جلالیہ | Gulzar-e-jalalia | Gulzar-e-jalaliya | Gulzar E Jalaliya

سید محبت علی اور سید حفیظ علی کی مکمل اولاد نسل در نسل تفصیل