حضرت سید عبدالمطلب علیہ السلام
حضرت سید عبدالمطلب علیہ السلام
شیبہ، سیدُ البطحاء، شیخُ الحرم، ساقیُ الحاج، مطعمُ الحاج، مالکِ زمزم، حافرِ زمزم، رئیسِ قریش، امیرِ مکہ، کافلُ الیتیم، وارثِ سنتِ ابراہیمی، موحد، حنیف علی ملتِ ابراہیم
اصل نام: شیبہ
مشہور نام: عبدالمطلب
کنیت: ابو الحارث
القابات:
حضرت سید عبدالمطلب علیہ السلام سیدُ قریش، شیخُ البطحاء، ساقی الحاج، رافد الحاج، متولیٔ کعبہ اور حامیٔ حرم تھے، اور یہ تمام القابات آپ کی دینی عظمت، سماجی قیادت اور خانۂ کعبہ و حجاجِ کرام کی بے لوث خدمت کی روشن دلیل ہیں۔
پیدائش
پیدائش: یثرب (مدینہ منورہ)
سنِ پیدائش: عامِ فیل سے تقریباً پچاس سال قبل
یعنی چھٹی صدی عیسوی کے اوائل میں
آپ کی پیشانی پر پیدائش کے وقت سفیدی تھی، اسی وجہ سے آپ کا نام شیبہ رکھا گیا۔
اصل علاقہ اور مکہ آمد
حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کی ابتدائی پرورش یثرب میں ہوئی، جہاں آپ کے نانا عمرو بن زید (بنو نجار) رہتے تھے۔
بعد ازاں آپ کے چچا مطّلب بن عبد مناف آپ کو یثرب سے مکہ لے آئے۔ مکہ میں لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ مطّلب کا غلام ہے، اسی غلط فہمی سے آپ کو عبدالمطلب کہا جانے لگا، اور یہی نام تاریخ میں مشہور ہو گیا۔
والدین
والد: حضرت ہاشم بن عبد مناف علیہ السلام بانیٔ سقایت و رفادت، مکہ کے عظیم سردار
والدہ: سلمیٰ بنت عمرو قبیلہ بنو نجار، یثرب کی معزز خاتون
بہن بھائی
تاریخی روایات کے مطابق حضرت عبدالمطلب علیہ السلام واحد فرزند تھے، یعنی آپ کے سگے بھائی یا بہن ثابت نہیں۔
اولاد (بیٹے)
حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کے بیٹے یہ تھے:
حضرت الحارث رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت ابو طالب علیہ السلام (والدِ مولا علی علیہ السلام)، حضرت عبداللہ علیہ السلام (والدِ رسول اکرم ﷺ)، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ (سیدُ الشہداء)، حضرت عباس رضی اللہ عنہ، ابو لہب (رسول اکرم ﷺ کا کھلا دشمن)، حضرت ضرار رضی اللہ عنہ، حضرت مقوم رضی اللہ عنہ، اور حضرت حجل رضی اللہ عنہ؛ جن میں سب سے افضل و معروف حضرت عبداللہ علیہ السلام تھے جو والدِ رسول اکرم ﷺ ہیں۔
حضرت ابو طالب علیہ السلام، حضرت عبداللہ علیہ السلام سے بڑے تھے۔
وضاحت یہ ہے کہ حضرت عبداللہ علیہ السلام حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کے سب سے چھوٹے بیٹوں میں شمار ہوتے تھے، جبکہ حضرت ابو طالب علیہ السلام عمر میں ان سے بڑے تھے، اسی لیے حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کی وفات کے بعد رسول اکرم ﷺ کی کفالت حضرت ابو طالب علیہ السلام کے سپرد کی گئی۔
بیٹیاں
روایات کے مطابق آپ کی بیٹیاں یہ تھیں:
صفیہ رضی اللہ عنہا، عاتکہ رضی اللہ عنہا، برّہ رضی اللہ عنہا، امیمہ رضی اللہ عنہا، اور اروٰی رضی اللہ عنہا۔
عقیدہ اور دین
حضرت عبدالمطلب علیہ السلام موحّد تھے آپ دینِ ابراہیمی پر قائم تھے، بت پرستی سے سخت نفرت کرتے تھے، شراب، زنا اور ظلم کو حرام سمجھتے تھے، اور اللہ واحد پر کامل ایمان رکھتے تھے۔
اہم تاریخی واقعات
• زمزم کی دوبارہ دریافت
• اصحابِ فیل کے موقع پر ابرہہ کے سامنے کعبہ کا دفاع
• حضرت عبداللہ علیہ السلام کی نذر اور فدیہ
• رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کفالت
وفات
وفات: مکہ مکرمہ
عمر: تقریباً اسی برس
وفات کا زمانہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر آٹھ برس کے قریب
مدفن
جنت المعلیٰ، مکہ مکرمہ
حضرت عبدالمطلب علیہ السلام، جن کا اصل نام شیبہ تھا، حضرت ہاشم بن عبد مناف علیہ السلام کے فرزند اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا تھے۔ آپ قریش کے معزز سردار، خانہ کعبہ کے متولی، حاجیوں کو پانی پلانے (سقایت) اور مہمان نوازی (رفادت) کی عظیم ذمہ داریوں کے حامل تھے۔ آپ کی حکمت، سچائی اور توحید پر یقین کے باعث عرب میں عزت و وقار کے ساتھ جانے جاتے تھے۔ زمزم کے چشمے کی دوبارہ دریافت آپ ہی کے ذریعے ہوئی، جو ایک تاریخی اور روحانی اہمیت کا حامل واقعہ ہے۔ حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کے بیٹوں میں سب سے معروف حضرت عبداللہ علیہ السلام تھے، جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد ماجد تھے، اور جنہوں نے جوانی ہی میں وفات پائی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ مکرمہ حضرت آمنہ بنت وہب سلامُ اللہ علیہا نہایت باعزت، نیک سیرت اور شریف قبیلے سے تعلق رکھنے والی خاتون تھیں، جن کا وصال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے چند سال بعد ہوا۔ آپ کی دادی مکرمہ حضرت فاطمہ بنت عمرو سلامُ اللہ علیہا تھیں، جو قبیلہ مخزوم سے تعلق رکھتی تھیں اور نجیب الطبع و باوقار خاتون تھیں۔ یوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نسب دونوں طرف سے قریش کے ممتاز اور شریف خاندانوں سے جُڑتا ہے، اور یہ سلسلہ حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہم السلام تک پہنچتا ہے۔
حضرت سید عبدالمطلب علیہ السلام کی شخصیت صرف ایک قبائلی سردار تک محدود نہ تھی بلکہ آپ مکہ مکرمہ میں توحید، اخلاق اور سماجی عدل کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ دورِ جاہلیت میں جبکہ بت پرستی عام تھی، آپ شرک سے نفرت رکھتے تھے اور اللہ واحد پر کامل یقین رکھتے تھے۔ آپ نہ کبھی بتوں کے سامنے جھکے اور نہ ہی ان کے نام پر قربانی دی۔ اسی بنا پر اہلِ مکہ آپ کو بقیۃُ ابراہیم کی روایت کا امین سمجھتے تھے، کیونکہ آپ کے افکار اور اعمال حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہم السلام کے طریقے سے ہم آہنگ تھے۔
حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کی زندگی میں زمزم کی دوبارہ دریافت ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ خواب کے ذریعے آپ کو زمزم کے مقام کی نشاندہی ہوئی، مگر جب آپ نے تنہا اس چشمے کی کھدائی شروع کی تو قریش، بالخصوص بنو امیہ اور ان کے حلیف قبائل نے آپ کی شدید مخالفت کی۔ آپ کو تنہا، کمزور اور بے یار و مددگار سمجھ کر طنز، دھمکیوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آپ اپنے عزم میں ثابت قدم رہے۔ بالآخر جب زمزم ظاہر ہوا تو وہی مخالفین اس حق کو ماننے پر مجبور ہو گئے، اور یہ واقعہ بنو ہاشم کی فضیلت اور عبدالمطلب علیہ السلام کی صداقت کی روشن دلیل بن گیا۔
بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان کشمکش محض قبائلی نہیں بلکہ نظریاتی بھی تھی۔ بنو امیہ دنیاوی اقتدار، مال و جاہ اور سیاسی چالاکی کے خواہاں تھے، جبکہ بنو ہاشم خدمتِ خلق، دیانت اور روحانی قیادت کے علمبردار تھے۔ حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کی مقبولیت، وقار اور اخلاقی برتری بنو امیہ کے لیے مستقل حسد اور اضطراب کا سبب بنی۔ یہی حسد بعد میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد کھلی دشمنی میں تبدیل ہوا۔
حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کی سیرت میں نذر، وفا اور عہد کی پاسداری نمایاں مقام رکھتی ہے۔ آپ نے اللہ سے نذر مانی تھی کہ اگر آپ کو دس بیٹے عطا ہوں گے تو ان میں سے ایک کو راہِ خدا میں قربان کریں گے۔ قرعہ اندازی حضرت عبداللہ علیہ السلام کے نام نکلی، مگر اللہ تعالیٰ نے سو اونٹوں کے فدیے کے ذریعے اس قربانی کو روک دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف قربانی اور اطاعتِ الٰہی کی مثال ہے بلکہ اس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد ماجد کی حفاظت کے ذریعے نبوی مشن کی الٰہی نگرانی بھی ظاہر ہوتی ہے۔
حضرت عبدالمطلب علیہ السلام نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے بعد آپ کی خصوصی کفالت فرمائی۔ آپ پوتے کو غیر معمولی محبت دیتے، کعبہ کے پاس اپنی مخصوص مسند پر بٹھاتے اور فرماتے کہ میرا یہ بیٹا ایک عظیم شان کا حامل ہے۔ آپ کی وفات کے وقت بھی آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت ابو طالب علیہ السلام کے سپرد کیا، جو بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے بڑے محافظ بنے۔
حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کی وفات کے بعد بنو امیہ کا رویہ بنو ہاشم کے ساتھ مزید سخت ہوتا چلا گیا۔ یہی طبقہ بعد میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کا سب سے بڑا دشمن بنا، اور یہی دشمنی آگے چل کر اہلِ بیت علیہم السلام کے خلاف ظلم، جبر اور اقتدار کی ہوس میں تبدیل ہوئی۔ اس پس منظر کو سمجھے بغیر نہ سیرتِ نبوی کو مکمل طور پر سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی تاریخِ اسلام کے بعد کے المیوں کی جڑ تک پہنچا جا سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment