حضرت سید جلال الدین حیدرؒ بن سید صفی الدینؒ

 حضرت سید جلال الدین حیدرؒ بن سید صفی الدینؒ 

 المعروف سید سلطان جلال الدین حیدرؒ سہروردی لاہوری

حضرت سید جلال الدین حیدر بن سید صفی الدین، جنہیں معتبر تاریخی مصادر اور تذکروں میں سید سلطان جلال الدین حیدر سہروردی لاہوری کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، اپنے عہد کی ایک جلیل القدر، صاحبِ تقویٰ، زاہد، متقی اور باکمال روحانی شخصیت تھے آپ کی پوری زندگی اطاعتِ الٰہی، تزکیۂ نفس، اصلاحِ نفس اور رضائے الٰہی کے حصول کے ساتھ ساتھ اہلِ بیتِ اطہارؑ کی اطاعت، محبت اور خدمت کے لیے وقف رہی عبادت، زہد، سادگی، خاموش طبعی، دنیاوی نمود و نمائش سے کنارہ کشی اور دنیاوی جاہ و منصب سے بے نیازی آپ کی حیاتِ طیبہ کے نمایاں اوصاف تھے۔

خاندانی روایات اور بزرگوں کے بیانات میں آپ کو ایک ایسے صاحبِ دل بزرگ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اہلِ بیتِ اطہارؑ کی محبت کو محض عقیدت تک محدود نہ رکھا بلکہ اسے اپنے کردار، طرزِ حیات اور عملی سیرت میں نمایاں کیا، اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کی سیرتِ طیبہ کو عملاً اپنایا  یہی وجہ ہے کہ آپ کی حیاتِ طیبہ کو اہلِ بیتؑ کی سیرت پر عمل کی ایک روشن مثال قرار دیا جاتا ہے۔

اسی نسبت سے آپ کا مزارِ مبارک لاہور میں حضرت بی بی پاک دامنؒ کے قرب، محمد نگر کے علاقے میں واقع ہے  یہ قربت محض جغرافیائی نہیں بلکہ اس گہرے قلبی، فکری اور عملی تعلق کی علامت سمجھی جاتی ہے جو آپ کو اہلِ بیتِ اطہارؑ سے حاصل تھا آپ کی قبرِ مبارک آج بھی لاہور میں موجود ہے اور اہلِ عقیدت کے لیے مرجعِ احترام سمجھی جاتی ہے۔

نسب، خاندانی مقام اور حضرت موجِ دریاؒ سے تعلق

حضرت سید سلطان جلال الدین حیدر سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ، حضرت میراں محمد شاہ المشہور سید موجِ دریا بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے حقیقی بھائی تھے آپ کے والدِ ماجد سید صفی الدین بخاری رحمتہ اللہ علیہ تھے، جو اوچ شریف کے سجادہ نشین اور اپنے وقت کے ممتاز روحانی بزرگ شمار ہوتے تھے۔

آپ علومِ ظاہری و باطنی دونوں میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے جب حضرت میراں محمد شاہ موجِ دریا بخاری شہنشاہ اکبر کے حکم سے لاہور تشریف لائے اور انہیں شاہی جاگیر عطا ہوئی، تو اس کے بعد حضرت سید جلال الدین حیدر بھی لاہور تشریف لائے تاہم آپ نے کسی بھی قسم کی شاہی جاگیر یا دنیاوی منصب قبول نہیں کیا اور فقر، قناعت اور بے نیازی کو ترجیح دی۔

عشقِ الٰہی، ترکِ دنیا اور تجرید و تفرید میں آپ یگانۂ روزگار تھے اگرچہ آپ کے بھائی کو شہنشاہِ وقت کی قربت کے باعث دنیاوی سہولتیں حاصل تھیں، مگر آپ نے ہمیشہ دنیاوی آسائشوں سے کنارہ کشی اختیار کیے رکھی آپ نے تمام عمر عبادتِ الٰہی میں بسر کی، زہد و اطاعت کے سبب معروف ہوئے اور اہلِ دنیا سے کسی قسم کا عملی تعلق قائم نہ کیا۔

وصال

حضرت سید سلطان جلال الدین حیدر سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کا وصال ۱۰۱۶ھ میں، مغل فرمانروا نور الدین جہانگیر کے عہد میں، لاہور میں ہوا بعض روایات میں عیسوی حساب سے ۱۶۰۷ء تا ۱۶۰۸ء کے درمیان وصال کا ذکر بھی ملتا ہے، جو اسی تاریخی دور سے ہم آہنگ ہے۔

آپ کی تدفین حضرت بی بی پاک دامنؒ، محمد نگر لاہور میں عمل میں آئی، جہاں آپ کا مزارِ پرانوار ایک گنبد کے نیچے واقع ہے اسی احاطے میں بی بی ہاج اور بی بی تاج کی قبر بھی موجود ہیں عوام الناس میں آپ کو ان بیبیوں کا روحانی استاد بھی سمجھا جاتا ہے، اور اسی نسبت سے آپ کے مزار کو خصوصی احترام حاصل ہے۔

اولادِ حضرت سید جلال الدین حیدر رحمتہ اللہ علیہ

حضرت سید جلال الدین حیدر کے صاحبزادگان کے نام درج ذیل ہیں:

سید شہاب الدینؒ، سید علم الدینؒ، سید شجاعؒ، سید علیؒ، سید جعفرؒ

ان صاحبزادگان کے ذریعے آپ کی نسل مختلف سمتوں میں آگے بڑھی، تاہم خاندانی تاریخ میں سب سے زیادہ نمایاں، محفوظ اور تسلسل کے ساتھ محفوظ رہنے والی شاخ سید علم الدینؒ کی اولاد کے ذریعے سامنے آتی ہے۔

آپ کی اولاد تاریخی طور پر بھوگیوال، نزد باغبانپورہ، لاہور میں آباد رہی  روایات کے مطابق اسی مقام پر ایک قبر آپ کے فرزند سید علم الدینؒ اور ان کے صاحبزادے  جو آپ کے پوتے سید زین العابدینؒ کی بھی قبر موجود ہے ان صاحبزادگان کے ذریعے آپ کی نسل مختلف سمتوں اور علاقوں میں پھیلی اگرچہ بعد کے ادوار میں بعض شاخوں کے شجرے مکمل طور پر محفوظ نہ رہ سکے، تاہم خاندانی تاریخ میں سید علم الدین کی اولاد کی شاخ نسبتاً زیادہ منظم اور تسلسل کے ساتھ محفوظ دکھائی دیتی ہے اس کے باوجود مجموعی طور پر حضرت سید جلال الدین حیدر کی نسل تعداد کے اعتبار سے بھی کثیر رہی اور جغرافیائی لحاظ سے بھی ایک وسیع دائرے میں پھیلی۔

حضرت سید جلال الدین حیدرؒ کی نسل بھی اتنی ہی کثیر ہے جتنی ان کے بھائی موجِ دریاؒ کی نسل،  فرق صرف شجروں کے محفوظ اور شائع ہونے کا ہے، تعداد کا نہیں

یہ بات نہایت اہم ہے کہ حضرت سید جلال الدین حیدرؒ بن سید صفی الدینؒ کی اولاد اور نسل بھی کثیر تعداد میں موجود ہے  تاہم ایک افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر ماہرینُ الانساب اپنی کتب میں یا تو ان کی نسل کا سرے سے ذکر ہی نہیں کرتے، یا اگر کرتے بھی ہیں تو محض اس حد تک کہ ان کی نسل لاہور کے علاقے بھوگیوال میں آباد ہوئی یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ آپ کی نسل بھوگیوال میں آباد ہوئی، مگر یہ پوری حقیقت نہیں بلکہ صرف ایک جزوی بیان ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حضرت سید جلال الدین حیدرؒ کی نسل بھی تعداد کے اعتبار سے اتنی ہی کثیر ہے جتنی ان کے بھائی موجِ دریا کی اولاد اور نسل کثیر تعداد میں موجود ہے فرق صرف یہ ہے کہ موجِ دریاؒ کی اولاد کے شجرے محفوظ اور شائع ہوتے رہے، نسل در نسل منظم انداز میں مرتب ہوتے رہے اور اسی بنیاد پر وہ نمایاں ہو گئے، جبکہ حضرت سید جلال الدین حیدرؒ کی اولاد اور نسل کے زیادہ تر افراد ہجرتوں کے شوقین رہے۔ یہی مسلسل ہجرتیں وہ بنیادی سبب بنیں جن کی وجہ سے ان کی نسل دنیا کے بیشتر علاقوں میں انفرادی حیثیت سے پھیلتی چلی گئی۔

سوائے بھوگیوال کے چند خاندانوں کے، باقی بیشتر خاندان مختلف ادوار میں الگ الگ علاقوں میں آباد ہوتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نسل کسی ایک مقام پر مجتمع ہو کر محفوظ شجروں کی صورت میں سامنے نہ آ سکی، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ تعداد کے اعتبار سے ان کی نسل بھی اتنی ہی کثیر ہے جتنی ان کے بھائی موجِ دریاؒ کی نسل۔

یہاں یہ بات پوری دیانت داری سے ذہن نشین کرنی چاہیے کہ نسل کی قلت نہیں، بلکہ نسل کا بکھراؤ اصل سبب ہے اگر قارئین اس نکتے کو سمجھ لیں تو وہ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ حضرت سید جلال الدین حیدر کی نسل درحقیقت کتنی وسیع، کتنی کثیر اور کتنی پھیلی ہوئی ہے۔

بدقسمتی سے اکثر ماہرینُ الانساب اس پہلو پر غور نہیں کرتے اور اپنی کتب میں سید صفی الدین سے نسب کا تذکرہ براہِ راست موجِ دریاؒ کی نسل تک لے جا کر حضرت سید جلال الدین حیدرؒ کو محض نظرانداز کر دیتے ہیں، اور یوں ان کی نسل کو بیان کیے بغیر آگے بڑھ جاتے ہیں حالانکہ علمی دیانت کا تقاضا یہ تھا کہ دونوں شاخوں کو یکساں توجہ دی جاتی۔

لہٰذا یہ بات کسی قیاس یا مبالغے پر مبنی نہیں بلکہ ایک واضح تاریخی اور نسلی حقیقت ہے کہ حضرت سید جلال الدین حیدرؒ کی اولاد اور نسل بھی اتنی ہی کثیر ہے جتنی ان کے بھائی کی نسل، اور دوسری نسل ہجرتوں کے باعث دنیا کے گوشہ گوشہ میں بکھر گئی جبکہ متحد رہنے والے خاندان آج بھی ہمیشہ سے لاہور میں آباد ہیں۔

لاہور اور برصغیر میں نسل کا پھیلاؤ

حضرت سید جلال الدین حیدرؒ کی اولاد ابتدائی طور پر لاہور، بھوگیوال اور اس کے گرد و نواح میں آباد ہوئی ان میں سے اکثریت آج بھی انہی علاقوں میں آباد ہے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ بعض گھرانوں اور زیادہ تر افراد نے انفرادی طور پر ہجرتیں اختیار کیں ان ہجرتوں کا ایک بڑا رخ ہندوستان خصوصاً اتر پردیش کی جانب رہا، جہاں آپ کی نسل کے افراد لکھنؤ، آگرہ، فیروز آباد اور ان کے اردگرد کے علاقوں میں انفرادی طور پر آباد ہوئے  یہ آبادیاں ابتدا میں مکمل خاندانی سطح پر نہیں تھیں بلکہ زیادہ تر انفرادی نوعیت کی تھیں بعد ازاں انہی افراد کی اولاد سے کچھ بڑے اور نمایاں خاندان وجود میں آئے، جنہوں نے مزید مختلف علاقوں کی جانب ہجرت اختیار کی یوں یہ سلسلۂ ہجرت مسلسل جاری رہا اور کبھی مکمل طور پر رکا نہیں تقسیمِ ہند کے موقع پر حضرت سید جلال الدین حیدرؒ کی نسل سے تعلق رکھنے والے بعض خاندان لاہور کے راستے پاکستان آئے ان خاندانوں نے چند ماہ لاہور میں قیام بھی کیا، تاہم یہ قافلہ مختلف اقسام کے سادات پر مشتمل تھا، جو آپس میں نانیہال اور دادیہال جیسے قریبی رشتوں کے ذریعے باہم منسلک تھے ان میں سے کچھ خاندان لاہور ہی میں مقیم ہو گئے، جبکہ باقی مزید آگے بڑھتے رہے بعض خاندان کراچی اور حیدرآباد کے راستے نکلے اور ہند سے اپنے ہمراہ آنے والے رشتیداروں کے ساتھ بالآخر حیدرآباد، سندھ میں آباد ہو گئے۔

عرب و عجم میں عارضی قیام

خاندانی شواہد اور نسلی نشانات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سید جلال الدین حیدر کی نسل سے تعلق رکھنے والے بعض افراد چند نسلوں بعد حجاز، عراق اور ایران میں بھی گئے  تاہم یہ قیام زیادہ تر عارضی نوعیت کا تھا، جو چند برسوں پر محیط رہا ان علاقوں میں کسی مستقل نسلی شاخ کے قیام کے شواہد نہیں ملتے بعض افراد وہاں سے واپس آئے اور اکثر دوبارہ لاہور لوٹ آئے، جبکہ کچھ لکھنؤ، آگرہ، فیروز آباد اور ان کے گرد و نواح میں ہی مستقل طور پر آباد ہو گئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض نوجوان زیارت، علم کے حصول، دینی و دنیاوی ترقی یا ذاتی رجحانات کے تحت عرب سرزمینوں میں گئے، کچھ واپس آ گئے اور کچھ وہیں مختلف پسندیدہ مقامات پر انفرادی طور پر مقیم ہو گئے۔

علمی، دینی اور معاشرتی کردار

حضرت سید جلال الدین حیدرؒ کی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد نے برصغیر میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی شناخت قائم کی ہندوستان میں آپ کی نسل کے بعض افراد نے طب و حکمت کو اپنی پہچان بنایا، کچھ دینی حلقوں سے وابستہ ہوئے، اور بعض نے دینِ اسلام اور محبتِ اہلِ بیتؑ کے فروغ کے لیے عملی خدمات انجام دیں چونکہ ان کی اولاد وہیں پیدا ہوئی، اس لیے وہ اسی مقامی ماحول اور تہذیبی رنگ میں رچ بس گئے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا بھر کے سادات، خصوصاً بخاری سادات، حتیٰ کہ اوچ شریف کے سادات تک، صفوی سلطنت کے زیرِ اثر آ چکے تھے اور عقیدت، فکر اور مسلک کے اعتبار سے صفوی اثرات کے حامل اور ہم عقیدہ ۔ اس دور میں سادات کے درمیان صفوی سلطنت کی حمایت کا رجحان مسلسل بڑھ رہا تھا۔

یہی وہ عہد تھا جب دنیا بھر کے سادات کے بچے حصولِ علم کے لیے صفوی سلطنت کے قائم کردہ منظم تعلیمی نظام کے تحت اہلِ بیتؑ کی تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے لیے وہاں جایا کرتے تھے وہاں سے تعلیم حاصل کر کے یہ افراد بلند پایہ عالم، فاضل، قاضی، محقق، ریاضی دان، فقیہ، طبیب اور حکیم کے درجے تک پہنچتے تھے بعد ازاں جب یہ قابل ترین افراد ہندوستان واپس آتے تو ان میں سے اکثر کے لیے عملی میدان مغل سلطنت کے شاہی قربت کے حلقے ہوا کرتے تھے، جہاں وہ اپنی علمی، دینی اور فکری صلاحیتوں کے باعث نمایاں مقام حاصل کرتے تھے۔

تقسیمِ ہند اور واپسی کی ہجرت

تقسیمِ ہند کے موقع پر حضرت سید جلال الدین حیدر کی نسل سے تعلق رکھنے والے بعض خاندانوں نے دوبارہ ہجرت کا رخ کیا اس موقع پر تقریباً ڈیڑھ ہزار کے قریب سادات نے اجتماعی طور پر پاکستان کی جانب ہجرت کی۔

سید امید علی کے بیان کے مطابق، ان کے والد سید محبت علی جب اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آئے تو ان کے ساتھ ڈیڑھ ہزار سے زائد سادات شامل تھے، جن میں مختلف اقسام کے سادات موجود تھے۔ اگرچہ ان میں بخاری سادات کے صرف چند ہی خاندان شامل تھے، جو ہندوستان میں محض تین یا چار نسلیں قبل لاہور سے جا کر آباد ہوئے تھے، تاہم واپسی کے بعد ان میں سے اکثر نے ملتان میں سکونت اختیار کی چند خاندان لاہور میں آباد ہوئے، جبکہ بعض بچ جانے والے خاندانوں نے حیدرآباد میں رہائش اختیار کی۔


Comments

Popular posts from this blog

تقسیمِ ہند ہجرت روحانی ورثہ اور قربانیوں کی داستان

گلزارِ جلالیہ | Gulzar-e-jalalia | Gulzar-e-jalaliya | Gulzar E Jalaliya

سید محبت علی اور سید حفیظ علی کی مکمل اولاد نسل در نسل تفصیل