خاندان کی عزاداری کی روایات

 خاندان کی عزاداری کی روایات

شیعہ خاتون اور سید محبت علی کے پوتوں کے ساتھ پیش آیا واقعہ

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سید محبت علی کے پوتے اپنے پکا قلعہ کے ایک پڑوسی کی خاتون کے ساتھ پنجاب گئے، جو سیدہ  اثنا عشری عقیدے سے تعلق رکھتی تھیں یہ خاتون ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئی تھیں اور سید محبت علی اور سید حفیظ علی کے خاندان کے ساتھ ہی ہجرت کرکے آئی تھیں، اور اسی خاندان کی سرپرستی میں شامل رہیں جب وہ خاتون اپنی بیٹی کے لیے رشتہ دیکھنے پنجاب گئی تھیں، تو انہوں نے سید محبت علی کے پوتوں کو بھی ساتھ لے لیا تھا، کیونکہ ان کے خاندان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے رہے تھے جب بیٹی کے لیے رشتے کی بات چلی، تو انہوں نے سامنے والوں سے یہ کہا: میری بیٹی کے لیے رشتوں کی کمی نہیں ہے یہ بچے بھی موجود ہیں، مگر میں نے ان بچوں  (سید محبت علی کے پوتوں )کے بارے میں صرف اس لیے نہیں سوچا کہ ہم میں اور ان میں ایک چھوٹا سا فرق ہے ہم پیٹو ہیں اور یہ بنا پیٹو ہیں ان  میں اور  ہم  میں کوی فرق  نہیں  اسکہ کے ہم پیٹو ہیں اور یہ بنا پیٹو ہیں 

اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ خاتون اور ان کا خاندان مکمل شیعہ عقائد پر تھے، ان کے یہاں ماتم بھی ہوتا تھا، جبکہ سید محبت علی کے گھر میں یہ رواج نہیں تھا سید محبت علی اور سید حفیظ علی کا خاندان بھی ان عقائد سے وابستہ تھا، مگر انہوں نے ماتم نہ کرنے کا طریقہ اختیار کیا تھا اور بعد میں ایک حصہ تصوف و بریلوی مکتب کا حصہ بن گیا یہ خاتون اس خاندان سے تعلق رکھتی تھیں جو ہندوستان میں اس سید خاندان سے واقف رہا اور ہجرت کے بعد بھی ایک ہی گلی میں آباد ہوا وہ لوگ جو عزاداری، نوحہ، مرثیہ، اور مجلس کرتے ہیں مگر ماتم، قمہ زنی، زنجیر زنی، قمیضیں اُتار کر ماتم کرنا، آگ پر ماتم یا اپنے جسم کو کسی بھی طرح کی تکلیف پہنچانا نہیں کرتے یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی جو ولایتِ فقیہ کے عقائد پر قائل اور پابند ہو کیونکہ اس نظام کے آنے سے پہلے بھی بہت سے ایسے سادات خاندان موجود تھے جو اس طرح کی غیر روایتی عزاداری جو حرمت کے درجے تک چلی جائے کو قبول نہیں کرتے تھے، اور اسی موقف کی تائید آیت اللہ نے بھی کی ہےاس واقعے سے معلوم ہوا کہ سید محبت علی کے خاندان میں عزاداری مکمل طور پر موجود تھی، یہاں تک کہ نوحہ خوانی اور مجلسیں بھی قائم تھیں مگر ماتم نہیں ہوتا تھا جب کے پاکستان میں آ کر سید محبت علی اور سید حفیظ علی نے خود تصوف سے تعلق قائم کیا ، پکا قلعہ میں سلسلہ قادریہ سے بیعت تھے ۔ 

یہ بات سید محبت علی کے بیٹے سید امید علی نے بھی کی کہ ہمارے خاندان میں علم چڑھایا جاتا اٹھایا جاتا، عزاداری، نوحہ، تعزیہ داری، جلوس اور مجلسیں ہوتی تھیں، خصوصی طور پر مجالسِ نوحہ خوانی کے لیے خاص اہتمام کیا جاتا تھا  مگر بعد میں یہ سب آہستہ آہستہ کم ہو گیا۔ جبکہ آج بھی کالاوے، اور امامِ ضامن وغیرہ باندھے جاتے ہیں حالانکہ ان میں سے کئی رسومات کا تعلق ایسی عزاداری سے ہے جو موجودہ نسل میں اب بھی قائم و دائم ہے دونوں میں۔

خاندان کی عزاداری کی دیگر روایات

 اکثر گھرانوں میں مجالس اور نوحہ خوانی کا اہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ چودہ معصومینؑ کے تمام ایامِ ولادت و شہادت پر نذر و نیاز کا خصوصی انتظام ہوتا ہے محرم اور چہلم پر نذر و نیاز کا اہتمام ہوتا ہے کندیلی (9 محرم کی رات مخصوص نذر کا اہتمام) کیا جاتا ہے مٹھائی  تقسیم کی جاتی ہے، جو مخصوص طور پر مرد حضرات کے لیے مختص ہے کھورمہ بھرنا ایک روایتی نذر تھی، جسے خاندان کے بڑے افراد تقسیم کرتے ہے جب کے خاندان میں اس کو شہدائے کربلا کی نیاز بھی بتائی گئی۔

موجودہ نسل اور بارہ امامی عقیدہ

یہ ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ خاندان امامیہ عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہا خواہ افراد کا رجحان صوفی ہو یا وہ امامی شناخت رکھتے ہوں، سب نے بلا اختلاف بارہ اماموں کو ہی اپنے حقیقی امام تسلیم کیا ہے آج کی نسل بھی اسی عقیدے پر گامزن ہے۔

 محرم کی رات کُندیلیاں بھرنے کی روایت  سادات گھرانوں کی عزاداری کا ایک منفرد پہلو

سادات خاندانوں میں عزاداری محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ ایک روحانی، تاریخی، اور ثقافتی عمل ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے عزاداری کی یہ روایات مختلف علاقوں، خاندانوں، اور ان کے مخصوص عزاداری کے طریقوں کے مطابق ڈھلتی رہیں لکھنؤ، حیدرآباد (دکن)، ایران، عراق، اور برصغیر کے دیگر علاقوں میں سادات گھرانے محرم کی رسومات کو اپنے مخصوص انداز میں مناتے آئے ہیں ان رسومات میں ایک منفرد اور کم معروف روایت کُندیلی بھرنے کی بھی ہے، جو خاص طور پر 9 محرم کی رات ادا کی جاتی ہے اور 10 محرم کو اس کا اختتام ہوتا ہے دس محرم کی رات مجلسِ شامِ غریباں،  پہلے یکم محرم سے لے کر 13 محرم تک گھروں کے چولہے نہیں جلتے تھے، لیکن سید اُمید علی نے اس روایت کو 9 سے 13 محرم تک محدود کر دیا وقت کے ساتھ ساتھ یہ روایت مزید مختصر ہو کر صرف 9 اور 10 محرم تک رہ گئی۔

یہ عمل آج بھی اس نسل میں جاری ہے، جبکہ کسی زمانے میں حلوے اور دیگر میٹھی اشیاء کا استعمال ہوتا تھا، مگر پچھلے کافی سالوں سے خُرمے استعمال اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر مرد کے حصے میں ایک خُرما آتا ہے، اور سید امید علی نے ہمیشہ اپنے گھر میں اس پر بہت زور دیا اور اسے برقرار رکھا یہ روایت خاص طور پر اولادِ امام موسیٰ کاظمؑ کے خاندانوں میں مشہور ہے، جنہوں نے نسل در نسل اپنے عقائد، عبادات، اور عزاداری کے مخصوص انداز کو محفوظ رکھا روایت کے مطابق، 9 محرم کی رات کو ہر گھر کے مرد افراد کے لیے مخصوص مقدار میں مٹھائی یا نیاز تیار کی جاتی ہے، جو برتنوں یا تھال میں رکھی جاتی ہے اور اسے کُندیلی بھرنا کہا جاتا ہے اس عمل کے تحت، ہر فرد کے لیے ایک علیحدہ حصہ مخصوص کیا جاتا ہے، جو 10 محرم کو کھایا جاتا ہے۔

یہ رسم عزاداری کے ایک منفرد انداز میں کربلا کی صعوبتوں، قربانیوں، اور امام حسینؑ اور ان کے جانثاروں کی آخری رات کو یاد کرنے کے لیے ادا کی جاتی ہے تاریخی طور پر، اس روایت کو امام حسینؑ اور ان کے اصحاب کی 9 محرم کی رات کی حالت سے جوڑا جاتا ہے، جیسا کہ ابو مخنف کی مقتل الحسین اور شیخ عباس قمی کی نفس المهموم میں مذکور ہے ان روایات کے مطابق، 9 محرم کی شام امام حسینؑ نے اپنے اصحاب کو اکٹھا کر کے ان کے لیے دعا کی اور انہیں آخری رات عبادت میں گزارنے کی تلقین کی اس رات، امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں نے اپنے پاس موجود قلیل مقدار میں غذا کو اکٹھا کیا، کیونکہ صبح عاشورہ کے دن انہیں میدانِ کربلا میں دشمن کا سامنا کرنا تھا۔

یہ روایت برصغیر میں سادات خاندانوں میں ایک نسلی ورثے کے طور پر جاری رہی اور وقت کے ساتھ کُندیلی بھرنے کی شکل اختیار کر گئی کئی تاریخی حوالہ جات اس رسم کے مختلف علاقوں میں موجود ہونے کی تصدیق کرتے ہیں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اپنی کتاب تاریخِ کربلا میں لکھتے ہیں کہ امام موسیٰ کاظمؑ کی اولاد کے خاندانوں میں عزاداری کے مختلف روایتی طریقے موجود ہیں، جو لکھنؤ، حیدرآباد (دکن)، ایران اور عراق میں عام ہیں اسی طرح، ڈاکٹر کلبِ صادق اپنی کتاب عزاداری کا تاریخی پسِ منظر میں بیان کرتے ہیں کہ سادات میں عزاداری کے بہت سے روایتی اعمال نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں، جن میں 9 محرم کی رات کا یہ مخصوص عمل بھی شامل ہے۔

مزید برآں، شجرۂ نسب (دارُ النسب، حیدرآباد) میں لکھا گیا ہے کہ لکھنؤ اور حیدرآباد کے بہت سے سادات خاندان، جو خود کو اولادِ امام موسیٰ کاظمؑ سے بتاتے ہیں، ان میں 9 محرم کی رات کا یہ عمل نسل در نسل چلا آ رہا ہے ان حوالہ جات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کُندیلی بھرنے کی روایت کسی ایک امام سے براہ راست منسوب نہیں، بلکہ سادات کے خاندانی عزاداری کے طریقوں میں شامل ہے، خاص طور پر وہ خاندان جو امام موسیٰ کاظمؑ اور بعد کے ائمہؑ کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ روایت بنیادی طور پر محرم کے مخصوص نذر و نیاز کے طور پر دیکھی جاتی ہے کُندیلی بھرنے میں استعمال ہونے والی اشیاء میں مختلف قسم کی میٹھائیاں، جیسے برفی، گلاب جامن، لڈو، حلوہ، کھیر یا سویاں شامل ہوتی ہیں، جو مخصوص نیت کے ساتھ تیار کی جاتی ہیں 9 محرم کی رات اس مٹھائی کو ایک بڑے برتن یا تھال میں رکھتے ہیں، اور ہر گھر کے مرد فرد کے لیے علیحدہ حصہ مقرر کیا جاتا ہے 10 محرم کو یہ مخصوص غذا کھائی جاتی ہے، جس کا مقصد امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کے صبر و قربانی کو یاد کرنا اور اپنی عقیدت کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔

یہ روایت زیادہ تر لکھنؤ، حیدرآباد (دکن)، آگرہ، فیروز آباد، لاہور، ملتان، کراچی، اور دیگر سادات خاندانوں والے علاقوں میں آج بھی جاری ہے یہ محض ایک کھانے یا نیاز کی روایت نہیں، بلکہ خاندانی اور روحانی وابستگی کا ایک ذریعہ بھی ہے  یہ تصور ممکنہ طور پر کربلا کے شہداء کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر اپنایا گیا ہے، کیونکہ عاشورہ کے دن صرف امام حسینؑ اور ان کے مرد ساتھیوں نے میدانِ جنگ میں جان دی۔

کُندیلی بھرنے کی روایت میں ایک اور پہلو یہ بھی شامل ہے کہ بعض خاندانوں میں یہ عمل نذر کے طور پر بھی انجام دیا جاتا ہے یعنی اگر کسی کی حاجت پوری ہو، تو وہ 9 محرم کو کُندیلی بھرنے کی نیت کرتا ہے اور عاشورہ کے دن اسے مکمل کرتا ہے یہ طریقہ زیادہ تر خاندانی عزاداری کے ذاتی اور روحانی معاملات سے جڑا ہوتا ہے اور ہر خاندان میں اس کی مخصوص روایات ہو سکتی ہیں۔

 نتیجہ کُندیلی بھرنے کی رسم عزاداری کی ایک منفرد شکل ہے، جو خاص طور پر سادات خاندانوں میں نسل در نسل منتقل ہوئی ہے یہ روایت براہِ راست کسی حدیث یا فقہی حکم سے ثابت نہیں، لیکن تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے مستند ہے  یہ نیاز کربلا کے واقعے کی علامتی یادگار کے طور پر ادا کی جاتی ہے، بنیادی مقصد کربلا کی قربانیوں کی یاد تازہ کرنا، عقیدت اور محبت کا اظہار کرنا، اور اپنے خاندانی عقائد کو آگے بڑھانا ہے۔

خاندان کے سنی یا شیعہ اثنا عشری ہونے کے شواہد

تاریخ میں کئی ایسے نکات موجود ہیں جو خاندان کے عقیدے کے دونوں پہلوؤں کو واضح کرتے ہیں کچھ شواہد خاندان کے سنی پس منظر کی نشان دہی کرتے ہیں، جبکہ کچھ مضبوط دلائل اس کے شیعہ اثنا عشری ہونے کو ثابت کرتے ہیں یہ بات ہجرتِ پاکستان سے پچھلے وقت کے بارے میں ہے جبکہ موجودہ نسل میں اہل تشیع اور اہل تصوف، دونوں ہی فکر موجود ہیں۔ 

 وہ نکات جو خاندان کے سنی ہونے کا عندیہ دیتے ہیں صوفی سلاسل سے وابستگی خاندان کے معروف بزرگ سید شاکر علیؒ نے سلسلہ کو اپنایا اور صوفی ازم کے اصولوں کو عام کیا چونکہ جلالیہ اور چشتیہ سلسلہ سنی صوفیاء سے منسلک رہا ہے، اس لیے یہ نکتہ خاندان کے سنی پس منظر کو ظاہر کر سکتا ہے اس وقت بھی نماز کے طریقوں میں لوگوں کے درمیان اختلاف موجود تھا کچھ افراد حنفی فقہ کے مطابق ہاتھ باندھ کر بغیر رفع یدین کے نماز پڑھتے تھے، جبکہ کچھ مالکی اور جعفری فقہ کے پیروکار إرسال الیدین (ہاتھ چھوڑ کر) اور رفع یدین کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے۔

اہلِ تصوف کی روایت کے مطابق آپ تین سلاسل سے خلیفہ تھے، اور آپ کا تشیع صوفی سلاسل سے بھی تعلق ظاہر ہوا ہے، جیسے کہ نعمت اللہی اور ذہبیہ، یا صفویوں کے باقی روحانی حلقے  مگر آپ نے سلسلۂ چشتیہ کو آگے بڑھایا اس کے بعد آپ کے بھی کئی مرید اور خلفا بنے، پھر ان سے آگے ان کے خلفا بنتے چلے گئے بعد ازاں انہی خلفا کے مریدوں کے ایک وفد نے ہندوستان سے پاکستان آ کر سید شاکر علی کی اولاد کو تلاش کیا اور سید اُمید علی کے کارخانے، پکا قلعہ، پر آ کر بطور مہمان ملاقات کی یہ ایک بڑا وفد تھا، اور جب انہوں نے سید اُمید علی کو اپنے جد کا خلیفہ بننے کی پیشکش کی تو آپ نے انکار کر دیا، جیسا کہ آگے بیان کیا گیا ہے۔

درگاہی وابستگی (نظام الدینؒ، اجمیرؒ، امیرعلی ابوالعلائیؒ)

خاندان کے مختلف افراد جیسے سید امیر علیؒ اور ان کی نسل کے کئی افراد مختلف درگاہوں جیسے نظام الدین اولیاءؒ، امیر علی ابوالعلائیؒ، خواجہ معین الدین چشتیؒ، حضرت جلال شاہ بخاریؒ، حضرت شاہ احمد بخاریؒ سے منسلک رہے۔ یہ درگاہیں زیادہ تر صوفیوں کے زیر اثر رہی ہیں، اس لیے یہ نکتہ بھی خاندان کے سنی ہونے کا عندیہ ہے اہلِ تصوف سے تعلق رکھنے والوں کے اقوال کے مطابق، سید امیر علی کا وقتی طور پر اپنی بعض ریاستی ذمہ داریوں کے تحت، یا اپنی حکمت سے وابستہ امور کے سلسلے میں، درگاہِ اجمیر اور درگاہِ نظامی سے بھی ایک اندرونی نوعیت کا تعلق رہا، جو کبھی انتظامی سطح پر اور کبھی ریاستی روابط قائم رکھنے کے لیے تھا۔

بعض افراد کا قادری سلسلے میں مرید ہونا

زندگی کے آخری وقت میں سید محبت علی اور سید حفیظ علی نے سلسلہ قادریہ میں مریدی اختیار کی آپ دونوں کا شجرۂ طریقت بڑے پیر صاحب حضرت سید عبدالقادر جیلانیؒ سے جا ملتا ہے، جو کہ سید حفیظ علی کو ان کی زندگی میں ہی زبانی ازبر تھا۔

نسلِ حضرت علیؑ اور آلِ محمدﷺ سے نسبت

خاندان کے بزرگ سید امیر علیؒ اور ان کی نسل کا نسب حضرت علیؑ اور اہلِ بیتؑ سے دسویں شِیعہ و اہلِ بیتؑ امام علی نقیؑ سے جا ملتا ہے تاریخی طور پر سادات خاندان اکثر شیعہ عقائد کے حامل رہے ہیں کیونکہ سادات ہی مکتبِ اہلِ بیتؑ پر  قائم رہنے والوں میں سے ہے ، جو اس خاندان کے بھی شیعہ پس منظر کی مضبوط دلیل ہے۔

اثنا عشری عقیدے پر نسل در نسل قائم رہنا

خاندان کے افراد جیسے سید محبت علی اور سید حفیظ علی کے بارے میں واضح ذکر ملتا ہے کہ انہوں نے پاکستان آمد کے بعد سلسلۂ قادریہ میں بیعت کی اور مکتبِ بریلویت سے اپنا تعلق قائم کیا۔

سید محبت علی کے گھر کی گلی میں مقیم، ہجرت کے وقت ان کے ساتھ آنے والے جعفری شیعہ سادات میں سے موجودہ دور کا ایک خاندان اور اس کے افراد  خاص کر کے سید محمد علی جعفری بن سید ایوب جعفری کے بقول، دونوں بھائیوں نے ہجرت کے وقت اپنا مسلک تبدیل کیا تھااور وہ تمام شیعہ و سادات گھرانے، جن کے آبا و اجداد سید محبت علی اور سید حفیظ علی کے ساتھ ہندوستان میں مقیم تھے، نیز وہ افراد جو فیروزآباد کے رشتہ دار تھے اور ہجرت کے دوران ان کے ساتھ شامل ہوئے، سب ہی اس ہجرت میں شریک تھے ان تمام افراد اور ان کے اہلِ خانہ، حتیٰ کہ آج ان کی نسلوں کا بھی یہی بیان ملتا ہے کہ یہ اثنا عشری تھے تاہم، بعد میں، یا تو ہجرت کے وقت یا اس کے بعد، یہ دونوں بھائی تصوف سے متاثر ہوئے اور انہوں نے مکتبۂ بریلوی اختیار کر لیاجبکہ خود اس خاندان کے بزرگ اس بات کو چھپاتے رہے ہیں، مگر عزاداری کی روایت سے بات صاف ہو جاتی ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ان کے ساتھ آنے والوں میں اُوچ شریف کی طرف جانے والے شیعہ بخاری سادات کے کچھ خاندان بھی شامل تھے، جو ہجرت کے دوران راستے ہی سے اُوچ شریف کی طرف روانہ ہو گئے تھے ان خاندانوں کے شجرہ نسب اور تفصیلات سے سید محبت علی بخوبی واقف تھے، مگر ان کے بعد کسی کو اس معاملے میں زیادہ دلچسپی نہ رہی، لہٰذا کسی نے سید محبت علی سے ان معلومات کے بارے میں جاننے کی کوشش نہ کی تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ خاندان نے ہمیشہ ائمہ اہلِ بیتؑ کو اپنا امام مانا اور یہ عقیدہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے۔

محرم، چہلم، اور دیگر عزاداری کی روایات

 کچھ خاندانوں میں ہمیشہ محرم، تعزیہ، نوحہ خوانی، اور مجالس کی روایت موجود رہی ہے، جو مکمل طور پر شیعہ عزاداری کی علامتیں ہیں  جبکہ سید امید علی کی روایت کے مطابق، قبل ازیں یہ تمام امور، نوحہ خوانی اور مجالسِ عزا ہمارے ہاں بھی برپا کی جاتی تھیں،محرم اور چہلم کی تمام تر نذر و نیاز اور  9 محرم کو مخصوص عقیدت کے ساتھ کندیلی اور کھورمہ بھرنے کی روایت مخصوص نذر و نیاز کی تقسیم یہ تمام روایات خالصتاً شیعہ عزاداری سے جڑی ہوئی ہیں  یہاں تک کہ خاندان میں کبھی بھی طریقۂ نیاز نہیں بدلا، اور ہمیشہ سے وہ طریقۂ نیاز تشیع کا رہا ہے، جبکہ بعض گھرانے جو مکتبِ بریلویت اور تصوف پر قائم ہیں، وہ زیادہ تر سلسلۂ قادریہ اور سلسلۂ چشتیہ کی روایات کے امین ہیں۔

مغل سلطنت کے آخری دور میں کئی سادات خاندان شیعہ عقیدے پر تھے، اور سید امیر علیؒ کے خاندان کا دربار سے تعلق تھا  تاریخی طور پر یہ ایک اور دلیل ہے کہ خاندان شیعہ پس منظر کی طرف ہونے کی۔

تاریخی درگاہی وابستگی اور شیعہ عقائد 

اگرچہ خاندان کے کچھ افراد صوفی سلسلوں جیسے چشتیہ اور قادریہ سے وابستہ رہے، لیکن انہوں نے ہمیشہ ائمہ اہل بیتؑ کے عقائد کو مضبوطی سے تھامے رکھالہٰذا، مجموعی طور پر یہ ثابت ہے کہ یہ خاندان ہمیشہ سے ائمہ اہل بیتؑ کے عقائد پر  تھا۔

پنجاب کی طرف ہجرت کرنے والے سادات خاندان سے تعلق اور شناخت

تقسیمِ ہند کے بعد ہجرت سید امجد علی سید محبت علی اور سید حفیظ علی کے خاندان نے جب پاکستان کی طرف ہجرت کی، تو ان کے ساتھ یا ان سے وابستہ کچھ دیگر سادات خاندان بھی پنجاب منتقل ہوئے یہ سادات زیادہ تر پنجاب کے مختلف شہروں میں جا بسے البتہ، ان کا براہِ راست خاندانی تعلق واضح نہیں تھا، بلکہ یہ تعلق روحانی، نظریاتی یا برادری کی بنیاد پر زیادہ مضبوط نظر آتا ہے۔

پنجاب ہجرت کرنے والے ان سادات کا تعلق خاندان سے کس حد تک تھا، اس کی وضاحت چند پہلوؤں سے کی جا سکتی ہے:

دور کے رشتہ دار یا روحانی و نظریاتی وابستگی

بعض سادات دور کے رشتہ دار ہو سکتے ہیں، مگر  شجرے میں براہ راست نسل کا ذکر نہیں ملتا۔

کچھ سادات محض آلِ محمد ﷺ اور نسلِ امام ہونے کی بنیاد پر روحانی اور نظریاتی قربت رکھتے تھے۔

عزاداری اور خاندانی وراثت میں عدم شمولیت

اگرچہ ان سادات کا خاندانی برادری سے تعلق تھا، مگر خاندانی عزاداری کی روایات میں ان کی براہِ راست شراکت کم نظر آتی ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ وہ محض سادات برادری کے عمومی رکن تھے، اور خاندان کے مخصوص تاریخی پس منظر یا وراثتی روایات میں ان کا نمایاں کردار نہیں تھا۔

 خاندانی تاریخ میں ان کا کردار 

اگر ان سادات کے بارے میں مزید تفصیلات دستیاب ہوں، تو یہ خاندانی، تعلقات، اور ہجرت کے پس منظر کو مزید واضح کر سکتا ہے۔

 ممکنہ طور پر، یہ تحقیق خاندان کے ارتقاء پر مزید روشنی ڈال سکتی ہے۔

لہٰذا، پنجاب میں بسنے والے ان سادات کا مطالعہ نہ صرف تاریخی حوالے سے، بلکہ عقیدے، ثقافت، اور عزاداری کی روایات کے تسلسل کو سمجھنے کے لیے بھی نہایت اہم ہو سکتا ہے۔

یہ ایک نہایت اہم خاندانی اور تاریخی حوالہ ہے، جس سے نہ صرف خاندان کی ملکیتی زمینوں اور حویلی کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے بلکہ تاریخی تدفین کی روایات اور سماجی اقدار پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ 

کھلخلاؤنگا خاندان کی تاریخی حویلی اور تدفین کی روایات

نسل در نسل زبانی طور پر بیان ہونے کی صورت میں ممکن ہے کہ اصل الفاظ کھلخلاؤنگا میں کچھ تبدیلی آ گئی ہو، مگر یہ بات مستند نہیں، صرف ایک اندازہ ہے جبکہ اس نوعیت کے نام کی کسی جگہ کا انٹرنیٹ پر بھی کوئی سراغ نہیں ملتا، اور یہ نام زندگی کے آخری ایام میں سید محبت علی سے منسوب روایت کے طور پر سامنے آتا ہے بعد ازاں موجودہ نسل میں بھی ان الفاظ کو اسی صورت میں جانا اور استعمال کیا جاتا ہے بعید نہیں کہ یہ کسی اصل لفظ کی بگڑی ہوئی یا مسخ شدہ شکل ہو۔

حویلی کھلخلاؤنگا ایک خاندانی ورثہ ہندوستان، اتر پردیش میں خاندان کی ایک تاریخی حویلی تھی، یہ حویلی خاندان کی ملکیت تھی اور ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتی تھی وقت کے ساتھ ساتھ، اس حویلی کے کوئی واضح شواہد باقی نہیں رہے، خاص طور پر سید محبت علی کے انتقال کے بعد، جب دستاویزات چوری ہو گئیں  آج کے دور میں اس جگہ کی اصل حیثیت جاننا مشکل ہے، لیکن خاندانی روایات میں یہ نام آج بھی محفوظ ہے۔

خواتین کی تدفین کا مخصوص نظام

 خواتین کی تدفین کا مخصوص نظام اس وقت کی ایک منفرد خاندانی روایت یہ تھی کہ خواتین کی تدفین باہر کے قبرستان میں نہیں کی جاتی تھی بلکہ تمام خواتین کو اسی حویلی کے اندر دفن کیا جاتا تھا یہ انتظام حفاظتی نقطۂ نظر سے کیا گیا تھا، تاکہ خاندان کی خواتین کی قبریں محفوظ رہیں یہ روایت اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ اس وقت خاندانی اقدار کس قدر مضبوط تھیں خاندان اپنی خواتین کی عزت و حفاظت کے لیے خاص اقدامات کرتا تھا اس وقت  شادیاں خاندان کے اندر سادات میں ہی کی جاتی تھیں غیر سادات سے شادی کا رجحان نہ ہونے کے برابر تھا۔

مردوں کی تدفین اور قبرستان خاندان میں مردوں کی تدفین کے لیے علیحدہ قبرستان سادات کے لیے مختص تھا یہ قبرستان حویلی سے باہر ایک مخصوص جگہ پر واقع تھا، جہاں خاندان کے بزرگ اور دیگر مرد افراد دفن کیے جاتے تھے یہ روایت خاندان کی اندرونی و بیرونی تدفینی تقسیم کو واضح کرتی ہے، جس میں خواتین کی تدفین حویلی کے اندر اور مردوں کی تدفین ایک مخصوص بیرونی قبرستان میں کی جاتی تھی۔

خاندان میں ازواجی روایات یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس وقت زیادہ تر شادیاں سادات خاندان کے اندر ہی ہوتی تھیں غیر سادات میں شادیاں کرنے کی روایت موجود نہیں تھی خاندان میں نسل کی پاکیزگی اور سادات کے خاندانی نسب کی حفاظت کو فوقیت دی جاتی تھی تاہم اس نسل میں یہ رجحان سامنے آیا ہے کہ غیر سادات میں شادیاں کی جا رہی ہیں۔

موجودہ صورتِ حال اور تحقیق کی ضرورت کیا آج بھی کھلخلاؤنگا نام کی کوئی جگہ تاریخی اعتبار سے جانی جاتی ہے؟ کیا اس حویلی کے آثار آج بھی کہیں مل سکتے ہیں؟ کیا اس قبرستان کے کوئی نشانات آج بھی باقی ہیں؟ اگر خاندان میں کسی کے پاس مزید معلومات یا زبانی روایات موجود ہیں، تو یہ اس تاریخی جگہ کے بارے میں مزید روشنی ڈال سکتی ہیں۔

یہ واضح ہوتا ہے کہ کھلخلاؤنگا خاندان کی ایک اہم تاریخی حویلی تھی، جو نہ صرف رہائش بلکہ تدفین اور خاندانی وراثت کے لیے بھی اہمیت رکھتی تھی یہ جگہ خاندانی تاریخ کا ایک قیمتی حصہ تھی، جو آج کھو چکی ہے، مگر زبانی روایات میں زندہ ہے۔

خاندان کے مرد حضرات کی تدفین ایک مخصوص قبرستان کی روایت

مخصوص قبرستان صرف سادات کے لیے

 خاندان کے مرد حضرات کی تدفین ایک مخصوص قبرستان میں کی جاتی تھی، جو صرف سادات خاندان کے لیے مخصوص تھا  اس قبرستان میں صرف سادات خاندان کے افراد کو دفن کیا جاتا تھا، اور غیر سادات کو وہاں تدفین کی اجازت نہیں تھی۔

 تاریخی شواہد اور مقامات

 اس روایت کے شواہد فیروز آباد، آگرہ، اور دیگر مقامات میں موجود ہیں، جہاں سادات کی اکثریت تھی  یہ قبرستان صرف سادات خاندان کے لیے مخصوص تھے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ مخصوص سادات قبرستان نہیں رہے  بعد میں یہ جگہیں عمومی طور پر شیعہ قبرستان بن گئیں، جہاں دیگر شیعہ افراد کی بھی تدفین ہونے لگی اب یہ قبرستان خالصتاً سادات کے بجائے عمومی شیعہ قبرستان کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔

مسجد اور جنات کے اثرات

خاندان کی اس مسجد کے بارے میں ایک منفرد اور پراسرار حقیقت یہ ہے کہ یہاں جنات کا گہرا اثر تھا، جو اس وقت کے تمام مذاہب اور فرقوں کے علما و مشائخ بھی تسلیم کرتے تھے روایات کے مطابق، یہاں خاندان کے علاوہ کسی اور کو عبادت یا کسی قسم کی مداخلت کی اجازت نہیں تھی، کیونکہ جنات دوسرے افراد کو روک دیتے تھے خاندان کے ایک بزرگ، جو روحانی علوم اور ماوکلات سے گہرا تعلق رکھتے تھے، نے ایک بار جنات کو کھانے کی دعوت دی حیران کن طور پر، ایک جن کی بھوک بھی مکمل نہ مٹ سکی، جس کی وجہ سے وہ سخت ناراض ہو گئے اس کے بعد، جنات کی ناراضگی اور کبھی کسی سے دوستی کے اثرات نسل در نسل خاندان کے افراد پر دیکھے گئے، اور بعض کی روایات میں اس کا ذکر آج تک باقی ہے۔

 تاریخی اسرار اور دو نظریے

اس تمام صورتحال کے دو مختلف نظریے ملتے ہیں:

 فرقہ وارانہ پہلو:

کچھ کی روایات کے مطابق، شاید یہاں شیعہ سنی اختلافات کی بنیاد پر کچھ پوشیدہ معاملات موجود تھے، جس کی وجہ سے اس مسجد کی تاریخ دھندلا گئی۔

ممکن ہے کہ یہ مسجد اصل میں مکتبِ اہلِ بیتؑ رہی ہو، مگر بعد میں سنی تصوف کے زیرِ اثر آ گئی ہو۔

روحانی اور غیبی قوتوں کا اثر کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ مسجد خالصتاً روحانی اثرات کی وجہ سے مخصوص رہی، اور یہاں جنات کی موجودگی نے فرقہ وارانہ حیثیت کو غیر متعلق بنا دیا تھا  یہاں خاندان کے امام اور موذن بھی رہ چکے تھے، جو روحانی طور پر اس مقام کی دیکھ بھال کرتے تھے جبکہ یہ بھی روایت ہوئی ہے کہ ان جنات نے اس نسل سے ہمیشہ بے حد محبت کی، اور اس خاندان و نسل کے ساتھ ان کے لشکر ہر وقت ساتھ رہتے تھے۔

ایک تاریخی ورثہ اور روحانی حقیقت

مسجد خاندان کے تاریخی، مذہبی اور روحانی ورثے کا ایک اہم مرکز رہی ہے  یہ مسجد تصوف، عزاداری، اور روحانی معاملات کا امتزاج معلوم ہوتی ہے، جس کے اثرات آج بھی خاندان کی زبانی روایات میں محفوظ ہیں۔

 جنات کی موجودگی اور ان کے خاندان سے خصوصی تعلق اس مسجد کے ایک منفرد اور پراسرار پہلو کو اجاگر کرتے ہیں۔ سید محبت علی کو پاکستان ہجرت کے بعد بھی کسی نہ کسی شکل میں مالی معاونت ملتی رہی، جو یا تو وظیفہ، کرایہ، یا کسی اور مالی امداد کی صورت میں تھی مگر اس رقم کا اصل ذریعہ اور اس کے پسِ پردہ محرکات مکمل طور پر واضح نہیں ہیں خاندان کی روایات میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ یہ سلسلہ پاک و ہند کی جنگ کے دوران ختم ہو گیا یہ بھی ممکن ہے کہ یہ رقم کسی روحانی یا مذہبی معاملے سے جڑی ہو، جیسے کسی درگاہ، مسجد یا مدرسے سے دی جاتی ہو خاندان کے کئی افراد کا دینی اور روحانی معاملات سے گہرا تعلق رہا ہے، اس لیے کسی بزرگ کو کسی درگاہ، مقبرے یا مذہبی مقام کی خدمت کے عوض وظیفہ ملنا بعید نہیں۔

خاندانِ ساداتِ نقوی کی تاریخ کا سفر

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سید محبت علی کے انتقال کے بعد ان کے گھر میں چوری کی واردات ہوئی، جس کا مقصد محض دولت نہیں بلکہ تاریخی قیمتی دستاویزات اور بزرگوں کی نشانیوں کی چوری بھی تھا اس نقصان کے باعث قدیم عربی اور فارسی نسب ناموں میں سےکچھ معلومات ضائع ہو گئیں، قدیم نسبی ریکارڈ مکمل طور پر صرف وہی باقی رہ گیا جو ابتدائی دور میں اردو زبان میں نقل کیے گئے نسب ناموں پر مشتمل تھا یہ ریکارڈ آج بھی اپنی اصل حالت میں متعلقہ خاندانوں کے پاس محفوظ ہے اس کے برعکس فارسی اور عربی زبان کے صرف چند ہی نسخے باقی بچ سکے ہیں جو نسبی ریکارڈ چوری ہوا تھا وہ بہت سے خاندانوں کے تفصیلی حالات پر مشتمل تھا، جبکہ جو ریکارڈ محفوظ رہ گیا وہ صرف اپنے خاندان اور اس سے قریبی تعلق رکھنے والے چند خاندانوں تک محدود رہا جبکہ جو کچھ بچا ہے، وہ بھی بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، اسی بنا پر اسے اس کتاب میں شامل نہیں کیا گیا جس کی بحالی کی بارہا کوششیں کی گئیں مگر زیادہ تر لوگ ناکام رہے، ان کھوئی ہوئی معلومات کو کسی حد تک واپس حاصل کیا گیا اور اپنے بزرگوں کی تعلیمات سے متعلق تفصیلات مختلف درگاہوں، امام بارگاہوں، خانقاہوں اور پاک و ہند کے دیگر تاریخی مقامات سے تلاش کی گئیں، جہاں ہمیشہ سے نسب ناموں میں درج معلومات محفوظ ہیں، جن میں خاص طور پر اُوچ شریف شامل ہے حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ کی درگاہ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی درگاہ سے بھی رہنمائی حاصل کی گئی، خادم الفقرا ء و المساکین مخدوم حامد محمد نوبہار خامس المعروف مخدوم سید سلطان جہانیاں نقوی بخاری سجادہ نشین دربار عالیہ جلالیہ اوچ شریف اور  پیرِ طریقت، سادات مآب، چیف آف ساداتِ ہندوستان، پیر طریقت سید ناصر الدین نقوی مودودی ہاشمی چشتی حسنی حسینی سجادہ نشین آستانہ عالیہ جھالرا شریف، اجمیر راجستھان بھی پہچان گئے کہ سید شاکر علی شاہؒ بن سید امیر علی شاہؒ کی اولاد و نسل سے ہیں، اور یہ بھی پہچان گئے کہ یہی وہ خاندان تھا جن کے پاس حیدرآباد، پاکستان میں سلسلہ کے ایک خلفاء کا وفد ملنے گیا تھا، جہاں سید امید علی سے ملاقات ہوئی تھی، جبکہ خادم الفقرا ء و المساکین مخدوم حامد محمد نوبہار خامس المعروف مخدوم سید سلطان جہانیاں نقوی بخاری سجادہ نشین دربار عالیہ جلالیہ اوچ شریف صاحب بھی سید محبت علی کی اولاد و نسل کو بخوبی پہچانتے ہیں اور ان کی تاریخ سے بھی واقف ہیں  مزید معلومات معتبر شیعہ اثنا عشری ذرائع سے بھی مستند طور پر حاصل کی گئی ہیں،  یوں خاندان کی تاریخ یکجا اور درست طور پر یہاں شامل کی گئی ہے مزید برآں، خاندان کے ایک قابل فرد سید نیاز علی بن سید محبت علی نے پرانی دستاویزات کو خود بھی پڑھا تھا، لیکن جب اس معاملے کے بعد حقیقت سامنے آئی کہ دراصل پرانی تاریخی دستاویزات میں مختلف لوگوں کی تحریروں کے سبب کتابت کی غلطی یا قدیم طرزِ تحریر کی پیچیدگی کی وجہ سے پڑھنے میں دشواری پیدا ہوئی، جس کی بنا پر جعفر ثانی ابن امام علی نقی علیہ السلام کو  علی ابن امام جعفر صادق علیہ السلام سمجھ لیا گیا تھا زبانی طور پر یہ بیان کیا گیا کہ سلسلہ آگے حضرت عبداللہ سے ہوتا ہوا علی المؤید اور سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ تک پہنچا بیان، جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے پاک و ہند میں موجود نسبی دستاویزات سے یہ ساداتِ نقوی اور پرانے بخاری شجروں میں بھی معلومات پائی گئی ہیں، اور جو ہجرت کے دوران سیّد محبت علی نے اپنے پرانے دستاویزات جمع کروائے تھے اُوچ شریف میں، اور لاہور میں قیام کے دوران، جب وہ اپنے علاج کی غرض سے پنجاب تشریف لے گئے تھے ، وہ بھی وہاں ملے اور اس معلوماتی مواد میں یہی بات سامنے آئی یوں جو کچھ تھا وہ واضح ہوا کہ حقیقتاً خاندان کی تمام روایات، تعلیمات، طریقے، رسم و رواج اور تمام نشانیاں جعفر ثانی کی طرف تھیں، جو کہ حقیقت میں درست ثابت ہوئیں، جبکہ سید امیر علی شاہؒ  مغل طبیب تک، تو خاندان کو اُن تک کے ہر ایک فرد کا علم ہمیشہ سے زبانی طور پر حاصل رہا البتہ اوپر کے کچھ ناموں میں کم علمی کا سامنا رہا جب یہ نام درست طور پر سامنے آئے، تو معلوم ہوا کہ یہ بالکل درست ہیں یہ غلطی عمر درازی کے باعث یادداشت پر پڑھنے والے اثرات کی وجہ سے ہوئی یہ واقعہ یوں پیش آیا کہ جب سید محبت علی کی طبیعت خراب ہوئی، تو گھر والے انہیں فوراً اسپتال لے جانے کے لیے بھاگے، جس کے باعث محلے میں کہرام مچ گیا چونکہ یہ ایک گنجان آباد علاقہ تھا اور تمام قریبی گھروں کے لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے، اس لیے گھروالے کسی کو بھی پیچھے چھوڑے بغیر جلدی میں گھر کھلا چھوڑ گئے پورے محلے اور جاننے والوں کو علم تھا کہ اس خاندان کے پاس قیمتی قدیمی دستاویزات اور مسجد کے چندے کی رقم بھی موجود ہے،کسی موقع پرست نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گھر میں چوری کر لی اور فرار ہو گیا اس دوران سید محبت علی کا انتقال ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے خاندان کو مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا بعدازاں، جو معلومات اور تعلیمات مختلف مقامات پر اور گھر میں باقی رہ گئی تھیں، انہیں اکٹھا کیا گیا، اور یوں کرمِ الٰہی سے اس خاندانِ آلِ محمد ﷺ ، اولادِ علی ؑ ، نسلِ فاطمہ ؑ  تاریخ میں گم ہونے سے بچ گئی  اس عظیم کام کا سہرا چیف آف سادات وارثِ دستارِ مولا علیؑ خادم الفقرا ء و المساکین مخدوم حامد محمد نوبہار خامس المعروف مخدوم حضرت سید سلطان جہانیاں نقوی بخاری صاحب حافظِ اُللّٰہ سجادہ نشین دربار عالیہ جلالیہ اوچ شریف حضرت سید جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمۃ اللّٰہ علیہ مورث اعلیٰ سادات نقوی بخاری برصغیر پاک و ہند ، اور چیف آف ساداتِ ہندوستان، پیرِ طریقتِ چشتیہ، خواجہ حضرت سید ناصر الدین مودود نقوی چشتی صاحب حافظِ اُللّٰہ کو آپ کے خلفاء کو، اور  آپ کے قریبی رفقاء سید قدیر علی کی اولاد اور ماہرینِ انساب کو اور  مکتبِ امامیہ جن سے تصدیق کا ایک بڑا حصہ اخذ کیا گیا، ان سب کو مکمل طور پر جاتا ہے، جنہوں نے انتھک محنت کے ذریعے خاندان کی تاریخ کو یکجا کیا اور دونوں نظریات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے تحقیق و تصدیق کے تمام مراحل مکمل کیے، ساداتِ بخاری کے قدیم شجرہ جات میں تمام تفصیلات موجود تھیں، یہاں تک کہ ہجرت کے وقت کا ریکارڈ بھی دستیاب ہو گیا، جو سید حفیظ علی اور سید محبت علی سے منسلک تھا۔  

یہ بات سید محبت علی نے اپنے فرزند ان کو بتائی تھی کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس ہمیشہ سے ہمارا نسب کی ایک نقل محفوظ کی جاتی ہے اور انہی کے پاس ہمارے باقی خاندانوں کی بھی مکمل معلومات موجود ہوتی ہیں، یہ لوگ سب کچھ جمع کرتے ہیں وہ خاص طور درگاہ جلالیہ اُوچ شریف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے کہ وہاں بھی نسب کے یہ نقل لازمی طور پر موجود ہوتے ہیں تقسیمِ ہند کے وقت ہمارے نسب نامے مختلف مقامات پر پہنچا دیے گئے، جن میں پنجاب بھی شامل تھا اور یوپی کی کسی امام بارگاہ کا بھی ذکر کرتے تھے جبکہ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی درگاہ کا ذکر بھی کرتے تھے ان نسبی معاملات میں،تقسیم کے بعد ہندوستان میں ایک خاص مقام یہ تھا جو نسبِ سادات کے حوالے سے پہچانا جانے لگا، جبکہ پاکستان میں یہ مقام خصوصی طور پر اُوچ شریف کو حاصل ہوا، جہاں سادات کے کچھ ایسے خاندان آباد ہیں جو ہجرت کے وقت بھی اس خاندان و اجداد کے ساتھ ساتھ آئے تھے۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ جن افراد کا ذکر سید محبت علی نے کیا تھا، وہ سب انہی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، جیسے کہ ایک خاندان، جو ایک ہزار سال سے زائد عرصے سے سادات کے تمام نسب نامے اکٹھا کرنے میں مصروف رہا تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھا جا سکے، اور یہ خاندان  جو ممکنہ طور پرتشیع تھا اور بعد کا معلوم نہیں، جبکہ وہ ساداتِ بخاری ہی تھے اس خاندان کا تعلق آگرہ، فیروز آباد، اتر پردیش، ایران، عراق، افغانستان اور عرب کے دیگر علاقوں سے بھی رہا ہے جہاں تک تمام تاریخی شواہد اور ثبوتوں کا تعلق ہے، تو وہ بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ سید محبت علی کی ذکر کردہ  خاندان آج بھی اوچ کے اطراف ہی میں آباد ہو یہ بھی  ممکن ہے کہ کسی ماہرِ انساب یا کسی خاندانِ نقیب کا تذکرہ ہو، جبکہ یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ دربارِ عالیہ جلالیہ، اوچ شریف کے کسی قدیم و محترم سجادہ نشین کی ہی بات کر رہے ہوں۔

عقائد شناخت اور صوفی سلسلے ایک تاریخی جائزہ

دینی اور روحانی تاریخ میں عقائد اور شناخت کے تعلق کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے صوفی سلسلے، جو محبت، معرفت اور روحانی تربیت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، ہمیشہ سے اسلامی تعلیمات کا جزو رہے ہیں  تاہم، مختلف صوفی سلاسل کے عقائد اور نظریات پر تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بعض ایسے پہلو پائے جاتے ہیں جو باریک بینی سے دیکھنے پر کسی مخصوص مسلک کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔

سید محبت علی اور سید حفیظ علی عقیدہ اور شناخت

سید محبت علی اور سید حفیظ علی نے خود کو اہل سنت بریلوی منسلک سے قرار دیا، حالانکہ اگر صوفی سلسلوں کی عمومی روش کو دیکھا جائے تو بیشتر صوفی مشائخ خود کو اہل سنت ہی شمار کرتے آئے ہیں، جہاں صوفی تعلیمات اور نظریات میں بارہ امامی تعلیمات کی جھلک ملتی ہے اس سے ایک تاریخی سوال جنم لیتا ہے کہ آیا ان سے قبل ان کے خاندان کے افراد کے مسلک کے کوئی واضح شواہد موجود ہیں یا نہیں۔

بعض تاریخی روایات اور شواہد کی غیر موجودگی کی بنا پر اس نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ سید محبت علی اور سید حفیظ علی کے پیش روؤں کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ کسی مخصوص مسلک سے تعلق رکھتے تھے، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس خاندان کی یہ شاخ بنیادی طور پر تشیع ہی سے تعلق رکھتی ہے، اگرچہ وقت، حالات اور مختلف علاقوں کے اثر کے تحت درمیان میں اس خاندان کے چند افراد اہلِ تصوف میں بھی شامل ہوئے تاہم اگر اکثریت اور اصل نسب و بنیاد کو پیشِ نظر رکھا جائے تو یہ حقیقت بالکل واضح ہے البتہ یہ امر مسلم ہے کہ صوفیانہ تعلیمات ہمیشہ سے محبت، عقیدت اور اہلِ بیت نظریات سے قریب تر رہی ہیں۔

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ سید محبت علی کے فرزند ان اور ان کے بعد آنے والی نسلیں ، خاص طور پر سید اعجاز علی اور ان کا خانوادہ بھی مکمل طور پر اثنا عشری عقائد پر قائم رہا  مگر ان کے ہاں غیر روایتی آزادی بھی ایک عام بات بن گئی، جو پہلے نہیں تھی، سید حفیظ علی کے نواسوں میں حیدرآباد کے مشہور نوحہ خواں بھی شامل  ہیں اور ایک شخص انجمن کے صدر بھی ہیں سید حفیظ علی کے داماد، ان کی نسل اور دیگر قریبی افراد بھی اثنا عشری عقائد سے وابستہ رہے سید حفیظ علی کے سمدھی موہ بولے رشتے کے تحت بھائی، سید شریف رضوی اور ان کے چھ بھائی، جو سب سادات تھے، ان کے بیٹے سید صابر رضوی  سید حفیظ علی کے داماد بھی ہیں، اور سید شریف رضوی اور سید حفیظ علی دونوں سے منسوب ہیں، اپنی اولاد سمیت مکمل طور پر شیعہ عقیدے سے وابستہ ہیں سید صابر رضوی کے تین بیٹے، جو سید حفیظ علی کے نواسے بھی ہیں، حیدرآباد میں مقیم نام سید اصغر اور سید اکبر سید حیدر رضوی  ہیں، جن میں سے ایک حیدرآباد کا معروف نوحہ خواں ہے  یہاں ایک اہم نقطہ یہ سامنے آتا ہے کہ تاریخی طور پر جب ایک خاندان ہجرت یا دیگر وجوہات کی بنا پر کسی خاص عقیدے یا مکتبِ فکر سے منسلک ہوتا ہے تو بعض شاخیں روایتی شناخت کو برقرار رکھتی ہیں، جبکہ بعض مسلک تبدیل کر لیتی ہیں چند افراد جو مکتبِ اہلِ بیتؑ سے باہر کی طرف مائل رجحان رکھتے تھے یہی صورتِ حال اس خانوادے میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، جہاں کچھ افراد اہل تصوف کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھتے ہیں، جبکہ دیگر افراد اور نسلیں شیعہ عقائد پر ہیں بالخصوص ہجرت کے پس منظر میں آنے والے افراد، جن میں ایک شیعہ خاتون اور ان کا خاندان بھی شامل تھا، اثنا عشری عقائد پر ہی قائم رہے۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو صوفی سلسلے ہمیشہ ہی وحدت، محبت اور عقیدت کی علامت رہے ہیں اور ان میں کٹر مسلکی تقسیم کی شدت کم دیکھی جاتی ہے اس تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سید محبت علی اور سید حفیظ علی نے خود کو سنی قرار دیا، لیکن ان کے خانوادے میں کئی افراد نے اثنا عشری عقائد کو اپنایا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بعض خاندانی اور روحانی تعلقات کی بنا پر لوگ مختلف ادوار میں مسلک تبدیل کرتے رہے ہیں، لیکن محبت اور عقیدت کا رشتہ ہمیشہ قائم رہا بہرحال، خاندان کے چند گھرانے سلسلہ قادریہ سے بیعت و عقیدت پر قائم رہے ہیں یہ تاریخی حقیقت ہمیں اس امر کی یاد دہانی کراتی ہے کہ دین اور روحانیت میں وحدت اور رواداری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اور صوفی تعلیمات ہمیشہ اسی اصول کو فروغ دیتی آئی ہیں۔

سید امید علی بن سید محبت علی اور خاندانی شناخت

سید امید علی سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی اولاد اور نسل، خاص طور پر سید ساجد علی سے کہا کہ جب ان سے بار بار پوچھا گیا کہ ان کا خاندانی پس منظر سنی تھا یا شیعہ، تو انہوں نے کہا:

ہمارے یہاں سب کچھ تھا، سوائے ماتم کے ہمارے یہاں اور شیعہ عقائد میں صرف ایک چیز کا فرق تھا اور وہ تھا ماتم شیعہ حضرات ماتم کرتے ہیں، جبکہ ہمارے یہاں یہ روایت نہیں آئی یا پھر سید شاکر علی کے بعد سے ختم ہوئی۔

یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ان کے خاندان میں اہلِ بیت سے عقیدت اور عقائد موجود تھے، لیکن ماتم کی رسم ان کے خاندان کا حصہ نہیں بنی یہ وضاحت اس دور کے مذہبی اور خاندانی شناخت کے حوالے سے ایک نکتہ فراہم کرتی ہے، جہاں بعض خاندان اپنے عقائد اور روایات کے امتزاج کے ساتھ اپنی پہچان برقرار رکھتے تھے۔

سید نیاز علی بن سید محبت علی دینی وراثت اور عملی زندگی

سید نیاز علی بن سید محبت علی کو دینی تعلیمات اور روحانی علم سے وابستہ سمجھا جاتا ہے ان سے بعض تعلیمات روایت کی جاتی ہیں، جو ان کی روحانی وابستگی کو ظاہر کرتی ہیں تاہم، وہ اس شعبے میں کسی شہرت یا خاص مقام کے حامل نہیں ہیں، کیونکہ یہ ان کا پیشہ یا دلچسپی کا بنیادی میدان نہیں ہے۔

روحانی اور نسبی پس منظر سید نیاز علی نسبی اور روحانی معاملات میں واقفیت رکھتے وہ عام زندگی بسر کرتے لیکن اپنے پیر و مرشد سے جُڑے رہ کر کچھ حکمت و علم سیکھ چکے ہیں۔

پیشہ ورانہ زندگی سید نیاز علی ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد ایک نجی کمپنی میں بطور مینیجر خدمات انجام ہیں ان کی عملی زندگی زیادہ تر پیشہ ورانہ مصروفیات کے گرد گھومتی ہے اور وہ دینی معاملات کو بطور پیشہ نہیں اپناتے۔

سید محبت علی کی نسل میں دینی تعلیم کا تسلسل

سید محبت علی کی نسل میں سید نیاز علی کے علاوہ، سید محبت علی کے بڑے بیٹے سید امید علی کے بیٹے سید قدیر علی نقوی  نے اپنی اولاد کو اچھی دینی اور دنیاوی تعلیم سے آراستہ کیا خاص طور پر، سید قدیر علی نے اپنے دوسرے بیٹے، سید شاہ زین علی نقوی کو حافظِ قرآن بننے میں مدد فراہم کی اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے اور والدین کی محنت اور اساتذہ کی رہنمائی کے نتیجے میں، سید شاہزین علی نقوی  ایک بہترین حافظِ قرآن بنے اور کراچی سے دینی تعلیم حاصل کی قرآن حفظ کیا اور مختلف جماعتوں کی امامت کا شرف بھی حاصل کیا ان کے علاوہ، سید قدیر علی کے دیگر بیٹوں نے بھی اسی مسجد سے دینی تعلیم حاصل کی سید شاہ زین علی نے اسی تعلیمی ادارے میں ابتدا ہی سے مسجد کے نظام کے مطابق اور اپنی قابلیت کی بنیاد پر مختلف جماعتوں میں امامت کے فرائض سرانجام دیے امامت کرنے کا موقع بھی ملا اور اپنے اساتذہ کے شاگردوں کی تربیت میں بھی معاونت فراہم کرتے رہے۔

باوجود اس کے کہ انہوں نے دینی تعلیم اور امامت میں نمایاں کردار ادا کیا، سید شاہزین علی نے ان میں سے کسی کام کو ذریعہ معاش نہیں بنایا وہ ایک عام ملازم کی حیثیت سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور سادہ طرزِ زندگی اپنائے ہوئے ہیں۔

یہ تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ سید محبت علی کی نسل میں دینی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا، جہاں افراد نے نہ صرف قرآن مجید کو حفظ کیا بلکہ دینی ذمہ داریوں کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنایا جَبکے خاندان کا تعلق مختلف مقامات سے بھی جُڑا ہوا ہے، خواہ وہ تعلق تشیع سے ہو یا تصوف سے، لیکن تقریباً ہر مقام پر یہ خاندان آج بھی روایت کے مطابق اپنے لوگوں سے جُڑا ہوا ہے پاکستان میں ایسے تمام مراکز میں سب سے نمایاں مقام اُوچ شریف کو حاصل ہے، جہاں تشیع اور تصوف دونوں کی روایات ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں۔

سید محبت علی کی نسل اور گدی نشینی کا معاملہ

اکثر سید محبت علی کی نسل، خاص طور پر سید امید علی کی نسل کے لوگ بیان کرتے ہیں کہ جب ان سے گدی نشینی یا کسی دینی ذمہ داری کے حوالے سے سوال کیا جاتا تو ان کا رویہ واضح انکار پر مبنی ہوتا وہ جواب دیتے کہ کیا کرنا ہے؟ کیا پیر بن کر مریدین کے پیسوں پر پلنا ہے؟ یہی رویہ سید امید علی کا بھی تھا۔

جب ہندوستان سے ایک وفد گدی نشینی سونپنے کے لیے آیا تو سید امید علی نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے تایا زاد بھائی، سید قمر علی بن سید حفیظ علی، کا پتہ دے دیا جو کراچی میں مقیم تھے سید امید علی کا کہنا تھا کہ وہ بھی ایک بیٹے ہیں، آپ ان سے بات کریں تاہم، سید قمر علی کی جانب سے اس معاملے پر کیا ردعمل دیا گیا، اس کی تفصیلات معلوم نہیں البتہ، یہ واضح ہے کہ گدی کراچی منتقل نہیں ہو سکی۔

بعد ازاں، جب سید امید علی کی اپنی اولاد نے بھی یہی سوالات اٹھائے، تو انہوں نے ہمیشہ یہی جواب دیا ان کے ان جوابات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات اور اپنی اولاد کے لیے روحانی گدی نشینی کے نظام سے اتفاق نہیں رکھتے تھے اور اسے بطور ذریعہ معاش اپنانا پسند نہیں کرتے تھے حالانکہ خود سلسلہ قادریہ سے بیعت ہوئے۔

سید امید علی کا دینی پس منظر

اگرچہ سید امید علی کا مذہب میں کوئی نمایاں کردار نہیں تھا، وہ روایتی مسلمانوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے وہ کسی خاص مذہبی سرگرمی میں متحرک نہیں رہے، لیکن وہ سلسلہ قادریہ میں بیعت یافتہ تھے اس کے باوجود، ان کا عمومی طرزِ زندگی ایک عام مسلمان کی طرح ہی تھا، اور وہ گدی نشینی یا روحانی پیشوائی کو کسی بھی شکل میں اختیار کرنے سے گریزاں رہے۔

ورثے کی گمشدگی اور تاریخ کے بکھرتے نشانات

اس تاریخی خاندان کے کئی آثار، تعلیمی جاگیریں، قدیم تحریری نسخے، اور دیگر تبرکات وقت کے ساتھ بکھرتے چلے گئے۔ خاص طور پر، سید نفیس علی کی وفات کی وجہ سے، یہ ورثہ مکمل طور پر اگلی نسل تک نہیں پہنچ پایا بعد ازاں، سید محبت علی اور سید حفیظ علی نے فیروز آباد سے آگرہ ہجرت کی، اور پھر تقسیم ہند کے موقع پر ایک اور ہجرت وقوع پذیر ہوئی  یہی وہ دور تھا جب تاریخی دستاویزات، مسودے، اور دیگر بیش قیمت اشیاء وقت کے دھارے میں کھو گئیں سب سے بڑا نقصان اس وقت ہوا جب سید محبت علی کے انتقال کے بعد ان کی رہائش گاہ میں ایک چوری ہوئی اس چوری میں نہ صرف عام مال و اسباب بلکہ تاریخی ورثے کے قیمتی نسخے، تبرکات، اور بزرگوں کی نشانیاں بھی چھن گئیں اس واقعے کے بعد، اس خاندان کے اس عظیم ماضی کے بہت سے شواہد ہمیشہ کے لیے ناپید ہو گئے۔

یہ قصہ صرف ایک جاگیر کی تاریخ نہیں، بلکہ ایک عظیم خانوادے کے عروج و زوال کی کہانی ہے  یہ ایک ایسے وقت کی عکاسی کرتا ہے جب سادات خاندان کے بزرگوں نے اپنے روحانی اور علمی ورثے کو پروان چڑھایا، تاریخی مساجد کی سرپرستی کی، اور ایک مخصوص معاشرتی و مذہبی نظام کو قائم رکھا مگر وقت کے بے رحم ہاتھوں نے، ہجرتوں اور حادثات نے، اس تاریخ کے کئی صفحات کو مٹا دیا آج صرف چند روایات، مبہم شواہد، اور کچھ بکھری ہوئی یادیں باقی ہیں، جو اس خاندان کے عظیم ماضی کی گواہی دیتی ہیں تاریخ میں اس خاندان کے شجرے کو مستند اور تحریف سے محفوظ رکھنے کے لیے یہاں صرف سید امجد علی  حاجی سید حفیظ علی اور ان کے بھائی سید محبت علی کی اولاد و نسل کا مکمل ریکارڈ موجود ہے کسی بھی طرح کی تحریف سے محفوظ رکھنے کے لیے اب قانونی ریکارڈ ایف آر سی کی صورت میں آ چکا ہے، جس سے اب کسی بھی طرح کی تحریف سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے آئندہ شجروں کو ایف آر سی جیسے قانونی دستاویزات کے ذریعے مستند شجروں کو آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

یہ روایت ایک اہم تاریخی زاویے کو اجاگر کرتی ہے، جس میں سادات کے ہندوستان آنے کا ذکر ہے اس کے مطابق، دو یا چار شخص جو براہ راست عرب کے ممالک سے ہوتے ہوئے  ہند پہنچے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے سید امید علی کے مطابق دو لوگ تھے، جو آپس میں باپ بیٹا تھے یا بھائی تھے جبکہ سید قیصر علی کے مطابق چار بھائی تھے، ان میں سے صرف دو بھائیوں سے نسل چلی تھی ایک بھائی درویش بن کر کہیں جنگلات میں نکل گئے تھے اور ایک بھائی لاولد رہے  یہ روایات یا تو سید امیر علی شاہ کے بارے میں ہو سکتی ہیں یا ان کے اجداد  کے متعلق، کیونکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس زمانے میں جب لوگ اپنے آبائی علاقوں سے حج، عمرہ یا زیارت کے لیے نکلتے تھے، تو یہ سفر مہینوں بلکہ سالوں پر محیط ہوتا تھا اس طویل مسافت کے دوران اکثر مسافر نئے علاقوں کی کشش یا حالات کی وجہ سے وہیں مستقل آباد ہو جایا کرتے تھے جبکہ اس دور میں اکثر مسافروں کا رخ ہندوستان کے اس وقت کے جدید، ترقی یافتہ اور معاشی و روحانی اعتبار سے زرخیز خطوں کی طرف ہوتا تھا، جن میں بالخصوص اتر پردیش ان کا آخری ٹھکانہ بنتا تھا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں اتر پردیش تمام فقہی علوم اور صوفی نظام کا مرکز مانا جاتا تھا چونکہ یہ ایک زبانی روایت ہے اور باقاعدہ خاندانی نسب ناموں میں درج نہیں ہے، اس لیے اس میں ابہام پایا جاتا ہے  یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ یہ روایت کسی دوسرے خاندان سے اس خاندان میں شامل ہو گئی ہو یا پھر یہ معلومات زبانی طور پر کسی کے ننھیال کی جانب سے منتقل ہوئی ہوں۔

حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ نے پہلی ہجرت بخارا سے ملتان کی طرف کی دوسری ہجرت آپؒ نے اپنے بیٹے کے ساتھ ملتان سے اُوچ شریف کی طرف کی حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ کی چند نسل نے بعد ازاں اُوچ شریف سے ہجرت کر کے اتر پردیش  کے علاقوں خصوصاً جائس، لکھنؤ، سہارنپور، آگرہ اور فیروزآباد  میں اسلامی دعوت اور روحانی قیادت کے لیے قیام کیا اسی طرح حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ کا طویل سفر اور پھر وہاں سے واپسی کا سلسلہ بھی رہا، اور ان کے بعد آنے والی نسلوں میں بھی ہجرتوں اور سفر کا یہ عمل مسلسل قائم رہا۔

حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ کا شمار برصغیر پاک و ہند کے اوائل صوفی مبلغین میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کے لیے کئی بار ہجرت کی، آپؒ نے اپنے فرزند کے ہمراہ ملتان سے اُوچ شریف ہجرت فرمائی، جہاں آپؒ نے روحانی و تبلیغی سرگرمیوں کو باقاعدہ منظم کیا اُوچ شریف آپؒ کا مستقل مسکن بن گیا اور یہاں سے ایک عظیم روحانی سلسلے کا آغاز ہوا آپؒ کے خلفاء اور اولاد نے بعد ازاں اُوچ شریف سے ہندوستان کے مختلف علاقوں خصوصاً اتر پردیش کے شہر جائس، لکھنؤ، سہارنپور، آگرہ اور فیروزآباد کی طرف ہجرت کی، جہاں انہوں نے اسلامی دعوت، روحانی تربیت، اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ان علاقوں میں بخاری سادات آج بھی اپنی روحانی خدمات اور تبلیغی ورثے کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔

حوالہ جات:

غلام رسول مہر، سیرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ، ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور۔

تاریخ اُوچ شریف، مرتبہ: سید احمد بخاری، مطبوعہ اُوچ شریف، 1987۔

ڈاکٹر غلام یزدانی، آثارِ متقدمین برصغیر، مطبوعہ محکمہ آثار قدیمہ پاکستان، 1955۔

سید ضیاء الحسن بخاری، بخاری سادات کی علمی و روحانی خدمات، فیروزآباد، بیس02۔

تذکرہ اولیاء، شیخ فرید الدین عطار، اردو ترجمہ: مولانا محبوب علی، دار الاشاعت، کراچی۔

اس میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اوچ شریف کا ذکر آیا ہے، جبکہ ایران کا رُخ کیا چند نسلوں نے جس کے بعد وہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے ان بزرگوں نے دین کی تبلیغ کی، جس کا اثر اتر پردیش میں بھی پڑا، اور اس کے ذریعے سادات خاندان کا ہندوستان میں آنا اور وہاں رہائش اختیار کرنا ممکن ہوا اگرچہ یہ باتیں بہت زیادہ دلیل کی بنیاد پر نہیں کہی جا سکتی ہیں، کیونکہ تاریخی شواہد اور کتابوں میں ایسی بہت سی باتیں ملتی ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن تاریخی کتابوں میں پھیلی ہوئی روایات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ایک اہم نقطہ تھا جہاں سے دین کی تبلیغ کی گئی، اور اس کے بعد سادات نے مختلف علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کیا۔

یعنی یہ کہنا کہ اس خاندان کا ہند میں کیسے آنا ہوا، یا کس علاقے میں پہلے قدم رکھا، تاریخ کے مختلف صفحات اور شواہد کے درمیان ایک پیچیدہ سوال ہے، جس کا جواب واضح نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ یہ ساری معلومات ابھی تک کسی ایک متفقہ حقیقت کی صورت میں سامنے نہیں آئی ہیں بہرحال اس خاندان کی ہجرت ہند میں موجِ دریاؒ حضرت شاہ عبدالمعالی موجِ دریا لاہوریؒ کی فتوحات کے زمانے کے بعد ہی ہوئی تھی۔

روحانی وراثت

یہ کہا جاتا ہے کہ سید امید علی کی زوجہ ایک مغل نسل سے تعلق رکھتی تھیں تاہم، ان پر کچھ خاص روحانی اثرات بھی تھے جب کبھی انہیں وجد یا حاضری کی کیفیت حاصل ہوتی، تو سامنے بیٹھے شخص کو کچھ نہ کچھ بتا دیا کرتی تھیں ان کی زندگی میں اس حوالے سے کئی واقعات مشہور ہیں، لیکن ایک نہایت معروف اور معتبر واقعہ یوں ہےایک مرتبہ ان کی بہن اپنے ہونے والے داماد کے ساتھ ان کے گھر آئیں  یہ شخص اس وقت کم عمر تھا، اور قسمت کا ایسا کھیل تھا کہ وہ ان کا داماد نہ بن سکا جب وہ گھر آیا، تو سید امید علی کی زوجہ نے اچانک اس کے متعلق ایک پیشین گوئی کی کہ:

تم قید میں جاؤ گے یہ سن کر عبدالجبّار ناراض ہوگئے، کیونکہ ایسی بات کا تصور بھی ممکن نہ تھا لیکن چند ہی سال گزرے تھے کہ وہ واقعی قید ہوگئے جب وہ قید سے واپس آیا تو دوبارہ ملاقات کی خواہش ظاہر کی ملاقات کے دوران بتایا میں واقعی قید میں چلا گیا تھا، جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا آپ مزید کچھ بتائیں اس پر انہیں دوبارہ کشف حاصل ہوا اور انہوں نے کہا اب تم بےحد طاقت اور شہرت حاصل کرو گے اس کے بعد کے حالات کی زیادہ تفصیل معلوم نہیں، مگر یہ بات یقینی ہے کہ آگے چل کر پاکستان کی ایک طاقتور سیاسی تنظیم کا حصہ بن گئے  وہ حیدرآباد شہر سے اسمبلی کا رکن منتخب ہو گئے اور مزید آگے بڑھتے ہوئے ایک قابل وزیر کےمشیروں میں سے ایک بنے۔

ساداتِ عالیہ کی علمی و روحانی وراثت

غیر سادات خواتین سے شادی کا آغاز سید امید علی نے کیا اس سے قبل خاندان میں یہ رواج قطعی طور پر ممنوع تھا سید محبت علی کی نسل میں ان کے بڑے صاحبزادے سید امید علی کے فرزند، سید قدیر علی کے دوسرے بیٹے جنہیں والدین نے قرآن حفظ کرنے کی سعادت بخشی انہوں نے موذن اور امامت کر نے کا شرف حاصل کیا اور مختلف مواقع پر اپنے علمی بصیرت کے ذریعے اپنے اساتذہ کے شاگردوں کو ناظرہ و حفظ کی تعلیم بھی دی تاہم، اپنے معاش کا ذریعہ انہوں نے صرف اپنی نجی ملازمت کو بنایا اور دین کو ہمیشہ خدمتِ خلق کے لیے رکھا جبکہ تاریخ کے بکھرے ٹکڑوں کو سید شا ہ زیب علی نے ترتیب دے کر یکجا کیا، کیونکہ وہ اپنے خاندان اور سادات کی نسبی تاریخ، تاریخِ اہلِ بیت، اور فرقوں کی تاریخ پر گہری مہارت رکھتے ہیں جو آج اس شکل میں موجود ہے، حافظ سید شاہ زین علی اور ان کے دونوں بھائیوں سید شاہ زیب علی اور سید شارق علی  کی تعلیم و تربیت میں سب سے زیادہ کردار ان کے والد سید قدیر علی اور والدہ  بنتِ محراب شیخ کا رہا، جنہوں نے ہر حال میں اپنی اولاد کو بہترین تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا ، آج اسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ اس خانوادۂ سادات کی بقا اور علمی ورثے کو سنوارنے میں ان دونوں ہستیوں کا اہم مقام ہے، اور ان کی قربانیوں کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے یہ خاتون نہایت قابل اور خاندانِ آلِ محمد ﷺ کے لیے باعثِ فخر ثابت ہوئیں ان کی تربیت کی بدولت ان کی اولاد نے نہ صرف خاندان کے نسبی تاریخی معاملات کو بہتر بنایا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کی، تاکہ آئندہ آلِ محمد ﷺ کے افراد تاریخ حاصل کر سکیں یہی نہیں، بلکہ دنیاوی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم و تربیت کا بھی خاص اہتمام کیا ان کی سرپرستی میں ایک بیٹے کو حافظِ قرآن بنایا گیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے اپنی اولاد کی اخلاقی و دینی بنیادوں کو مضبوط کیا آج اس خاندان میں نسب کی سالمیت اور پاکیزگی محض انہی معزز خاتون کی کاوشوں کا نتیجہ ہے اگر یہ تربیت نہ ہوتی تو آنے والی نسلیں اپنی نسبی پہچان اور معیار کھو دیتیں اور یہ بھول جاتیں کہ وہ آلِ محمد ﷺ  سے تعلق رکھتی ہیں یہ وہی معزز خاتون ہیں جنہوں نے اس سید خاندان کو نیکیوں سے نوازنے کے لیے بڑی جدوجہد خاندانِ سادات میں نیکی، تقویٰ اور ایصالِ ثواب کی روایت ہمیشہ سے قائم رہی ہے، مگر ان محترمہ نے ان اعلیٰ اقدار کو ایک منفرد انداز میں اپنایا خاندان میں جب بھی کوئی وفات ہوئی، انہوں نے سب سے بڑھ کر قرآن خوانی، دعا اور ایصالِ ثواب کا اہتمام کیا چاہے وہ مساجد ہوں، مدارس کے بچے ہوں یا خواتین کے دینی حلقےانہوں نے ہر ممکن ذریعے سے قرآن پاک پڑھوا کر مرحومین کے لیے ثواب پہنچانے کی بھرپور کوشش کی گو کہ اس خانوادے کے اکثر افراد دینی ذوق رکھنے والے اور نیک سیرت ہیں، مگر ایصالِ ثواب کے اس مسلسل اور منظم جذبے میں ان کی مثال کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے ان کا یہ عمل نہ صرف ان کی اپنی بخشش کا ذریعہ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی نیکی اور دعا کا مستقل راستہ ہے۔

اس خاندان کے افراد نے مذہبی کاموں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مگر اسے کبھی ذریعۂ معاش نہیں بنایا اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ گزشتہ ادوار میں جب اپنے بزرگوں سے شجرۂ نسب یا دیگر خاندانی دستاویزات طلب کی جاتیں، تو اکثر ایک ناپسندیدہ رویہ دیکھنے کو ملتا یہ رجحان مختلف نسلوں میں برقرار رہا، جیسے کہ سید امید علی اور سید محبت علی کا بھی یہی طریقہ رہا خاندان کے بزرگوں میں عموماً صرف ایک ہی صبروتحمل رکھنے والا فرد خاندانی شجرۂ نسب اور دیگر ایسے دستاویزات سنبھالتا تھا، جو سادات کی نسلی اور تاریخی وراثت سے جڑے ہوتے تھے جب بھی کسی فرد نے ان کے بارے میں سوال کیا، تو جواب میں طنزیہ یا سخت الفاظ سننے کو ملے، یہ رویہ  چلا آ رہا تھا، جس کی وجہ سے خاندان میں تاریخی و مذہبی دستاویزات تک رسائی مشکل بنی رہی یہ مکمل تاریخ مختلف حصوں میں بکھرا ہوا تھا، جسے بہتر انداز میں یکجا کیا گیا ہے تاہم، اب بھی تاریخ کا ایک بڑا حصہ اس میں شامل نہیں ہے اور آج بھی باقی ماندہ تاریخ اور قدیم نسخوں کے حصے مختلف مقامات پر منتشر حالت میں موجود ہیں۔

یہ کتاب نہ صرف ساداتِ نقوی البخاری خاندان کی ایک نسبی، روحانی و تاریخی ہے بلکہ ایک ایسے نادر خانوادے کی گواہی بھی ہے جس کی جڑیں مغلیہ و صفوی درباروں، اُوچ شریف و فیروز آباد، اہلِ بیتؑ کی ولایت، تشیع، اور سلسلہ چشتیہ و جلالیہ کے فیوض میں پیوست ہیں اس کا ہر صفحہ ان انفرادی شخصیات کی زندگی کا پرتو ہے جو ہجرت، فقر، قانونی کشمکش، اور تاریخی ناانصافیوں کے باوجود اپنی روحانی نسبتوں، دینی خدمات، اور علمی وراثت کو محفوظ رکھنے میں مصروف رہے اور سید محبت علیؒ و سید حفیظ علیؒ نے حیدرآباد میں ولایت، امامت، اور باوقار سادگی کا عملی نمونہ پیش کیا، تو دوسری طرف ان کے ورثاء نے ہندوستان و پاکستان کے درمیان بچھڑے رشتوں کو، زبانی روایتوں اور تاریخی اسناد کے ذریعے، دوبارہ جوڑنے کی سعی کی باوجود اس کے کہ چوریاں، دستاویزات کا زیاں، اور مغلیہ عطیات کے شواہد کو مٹانے کی سازشیں، اس ورثے کو دھندلا کرنے میں کامیاب ہوئیں، پھر بھی اس خاندان کی تربیت، اور خلوصِ نیت پر مبنی پیغام آج بھی زندہ ہے یہ تحریر اس خواہش کی بھی نمائندہ ہے کہ مستقبل میں کوئی محقق، کسی گمشدہ نقش، کسی محفوظ مخطوطے یا کسی مزار کے غیر معروف گوشے سے اس داستان کے مزید پہلو دریافت کرے، اس کتاب میں شامل تمام معلومات اور روایات، سید محبّت علی اور سید حفیظ علی کے خاندانوں سے منقول ہیں مصنّفین نے ان روایات کو نہایت ادب، احترام اور دیانت داری کے ساتھ قلم بند کیا ہے اس کتاب کی تالیف کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس معزز خاندان کی قدیم کتب، جو چوری یا ضیاع کی صورت میں تاریخ کے صفحات سے گم ہو گئی تھیں کیونکہ وہ کتب شائع نہیں ہوئی تھیں، اُن کے علمی و تاریخی مواد کو محفوظ کیا جا سکے۔ یہ تحریر مکمل خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ تمام قارئین کے لیے مرتب کی گئی اور دونو فقہ کے افراد اور ماہر الانسابوں  درگاہِ جلالیہ اُوچ شریف  و درگاہِ اجمیر شریف  کے معزز حضرات سجادہ نشینوں کی اجازت و تصدیق سے شائع کی جا رہی ہے،  تاہم، اگر کسی مقام پر غیر ارادی طور پر کوئی غلطی یا کوتاہی ہو گئی ہو، تو ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں معاف فرمائے، اور ہر وہ فرد جس کا کسی بھی طرح اس کتاب میں ذکر آیا ہے، اگر اس ذکر میں کوئی غلطی یا کوتاہی محسوس کرے، تو بندگانِ خدا ہونے کے ناطے معاف فرمائے  یہی اس کتاب کا مقصد، محرک اور پیغام ہے۔

تاریخ کی ریت پر مٹتے نقش تقیہ، ہجرت اور کھوئی ہوئی وراثت نسب، یادداشت اور تاریخ کے گمشدہ اوراق

اس کتاب کو مرتب کی جانے کے دوران، جب روایات قلم بند ہو رہی تھیں اور خاندان کے تقریباً اہم افراد سے تصدیق کے دوران یہ معلوم ہوا کہ سید محبت علی اور سید حفیظ علی، اور ان کے ساتھ ان کے آگرہ کے پڑوسی جو حیدرآباد سندھ میں بھی پڑوسی اور عزیز رہے اور جو سید حفیظ علی سید امجد علی کی بیٹی کے سسر بھی بنے، سید شریف رضوی لکھنؤ سے ہجرت کرکے آگرہ پھر حیدرآباد  آئے تھے انہوں نے اور وہاں مقیم خاندانوں نے تقیہ کیا تھا خاندانِ سید محبت علی نقوی بخاری، خاندانِ سید حفیظ علی نقوی بخاری، خاندانِ سید امجد علی نقوی بخاری خاندانِ سید منّا جعفری، خاندانِ سید محمد علی جعفری، خاندانِ سید شاہد جعفری اکبرآبادی، خاندانِ سیدہ جعفری، خاندانِ سید عرفان علی نقوی بخاری، خاندانِ حیرآباد جعفری و نقوی بخاری حیدرآباد،  خاندانِ زیدی، خاندانِ حکیم سید فروخ حسین، اور بہت سے چھوٹے گھرانۓ سادات جو چند افراد پر مشتمل تھے، یہ سب ہی ہند سے پاکستان کی آبادکاری تک ایک دوسرے کے ساتھی رہےجبکہ یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے قریبی رشتہ دار بھی تھے ، جو اگلی نسلوں میں بھی جاری رہا، اور موجودہ نسل سے اکثر گھرانے واپس لوٹ گئے جب کہ کچھ نے تصوف کے راستے پر چلنا بہتر سمجھا۔

سید محبت علی نے اپنی اولاد سے اس بارے میں بہت کم ذکر کیا، حالانکہ بیٹے سب کچھ جانتے تھے پھر سید امید علی نے بھی اپنے قریبی خاندانوں سے، اپنے بھائیوں، بیٹوں اور بھانجوں سے بار بار ذکر کیا، مگر اکثر نے اس پر زیادہ دیہان نہ دیا مگر جب اس کتاب کی تحریر جاری تھی، روایات جمع ہو رہی تھیں اور خاندان سے تصدیق کا کام بھی چل رہا تھا، تو اس وقت جب کسی نے بتایا کہ ان تینوں نے ساتھ ہی تقیہ کیا تھا، تو سید امید علی کے بیٹے سید قدیر علی کو یاد آیا کہ یہ  تو میرے والد مجھ سے کئی بار کہا کرتے تھے اور اسہی وقت سید امید علی کے بیٹے سید ساجد علی نے بھی یہی گواہی دی کہ مجھے بھی والد  یہی بتایا کرتے تھے، اور وفات سے کچھ عرصہ قبل جب بیمار تھے تو اکثر ذکر کرتے تھے۔

اس بات کی گواہی سید امید علی کی تایا زاد بہن کے تینوں بیٹوں نے بھی دی، جو سید شریف رضوی کے بیٹے سید صابر رضوی کے تینوں بیٹے ہیں سید اصغر رضوی جو کراچی و حیدرآباد میں موجود ایک تشیع انجمن کے صدر ہیں ، ان کے چھوٹے بھائی سید اکبر رضوی جو اس معروف انجمن کے نائب صدر ہیں اور ساتھ ہی حیدرآباد مولا علی قدم گاہ کے مشہور و معروف نوحہ خواں ہیں، اور ان کے سب سے چھوٹے بھائی سید حیدر رضوی ان تینوں بھائیوں نے بھی اس موقع پر کہا کہ ہمیں امید ماموں نے آخری وقت تک یہی بتایا تھا اور  دادا، تایا، والد اور والدہ جو سید حفیظ علی کی صاحبزادی تھیں انہوں نے بھی یہی بات بتائی تھی۔

یہی گواہی ان کے والد سید صابر رضوی نے بھی دی، اور سید صابر رضوی کے بھائی سید حامد رضوی نے بھی یہی بتایا البتہ سید حامد رضوی نے اور ان کی نسل سے ایک اہلِ تصوف سے تعلق رکھنے والے شخص کو ایک تیش کے منظر میں یہ بھی کہا کہ تم اپنی اصل پر واپس کیوں نہیں لوٹتے وہ ایک وقت آیا تھا جو گزر گیا اور بات صرف یہیں تک محدود نہیں رہی یہی بات سید محبت علی کے ایک اور بیٹے سید اعجاز علی نے بھی سختی سے بتائی کہ والد نے   جب ہجرت کی تو معلوم نہ تھا کہ علاقے اور حالات کیسے رہیں گے  اور پھر بعد میں ایک زمانہ آیا جو سابق وزیرِ اعظم کی پھانسی کے بعد شروع ہوا تھا، مگر یہ کام اس سے پہلے ہی ہو چکا تھا یہاں ایک الگ منظر تھا اور اس پورے ٹولے نے ایک جتھہ ہو کر تقیہ اختیار کیا اس وقت سید امید علی اور سید قمر علی ابھی سمجھدار ہونے کو تھے، اور انہیں سب کچھ معلوم تھا جبکہ سید امید علی کا حلقہ بھی تشیع میں ہی تھا نہ کہ تصوف میں تصوف کی طرف وہ مارشل لا کے وقت آئے یہی گواہی مزید لوگوں نے بھی دی جو کہ اکثر شیعہ اور کچھ سنی مسلک سے بھی ہیں بہرحال یہ معاملہ بہت بعد میں کھل کر سامنے آیا، البتہ ایک گواہی سب نے دی ہے یہاں تک کہ خود ماتمدار شیعوں نے بھی کہ اس نسل کے بزرگوں میں ماتم نہیں تھا، کہ اگر آج وہ طریقے عزاداری سمجھنی ہو تو ولایتِ فقیہ کا سا معاملہ تھا سید شریف رضوی المعروف شریف چچا کی اولاد و نسل نے یہ بھی بتایا کہ خاندان اس سے بھی بڑا آیا تھا، جو آپس میں جڑے ہوئے تھے شادیوں کی وجہ سے یہاں کئی خاندان آگرہ سے ساتھ آئے تھے رضوی جو لکھنؤ سے آگرہ اور پھر مولا علی قدم گاہ آئے، اور ساتھ میں سید شریف اور سید محبت علی کے زیدی، جعفری، رضوی، نقوی سرسی اور نقوی بخاری بھی آئے تھے، جو آپس میں شادیوں کی وجہ سے گھل مل گئے تھے۔

ایک پورا خاندان، تمام گھرانوں سمیت، حیدرآباد حِرآباد میں مقیم ہوا ایک بڑا خاندان وہاں سے اسلام آباد اس دور میں ہی چلا گیا، ایک کسی اور سمت چلا گیا جو ممکن ہے کہ ملتان یا بہاولپور گیا ایک چھوٹا خاندان، جو سید فرّخ حسین کا گھرانہ تھا، وہ کچا قلعہ قدم گاہ سے نیچے کی طرف آباد ہوا تھا، اور کچھ عرصے بعد ہی وہ خاندان کراچی کے کسی علاقے میں چلا گیا، جبکہ وہ بھی تشیع خاندان تھا۔

سید اعجاز علی کا کہنا تھا کہ شجروں  کے قدیم نسخوں کی چوری کے معاملات کے بعد بچے ہوئے نسخوں میں سے بھی ایک الگ سے بنا ہوا  بڑا نسخہ موجود تھا جو پوری تاریخ کے ساتھ قدیم تھا، اور اس میں تاریخ درج تھی ایک دن سید امید علی کے پاس، اعجاز علی کے سامنے ایک شخص آیا یہ سید فرّخ حسین تھے جن کا دعویٰ تھا کہ میری والدین ساتھ آئے تھے، ہمارے اور تمہارے پرداداؤں میں جا کر ایک ہی نسب ہے ہمارا اوپر سے لہٰذا آپ کے پاس شجرۂ نسب موجود ہے، مجھے دے دیجیے، میں کل ہی واپس کر دوں گا، نقل بنا کر سید امید علی نے وہ فارسی والا نسخہ دے دیا اور اردو والے اپنے پاس رکھےکچھ مہینوں تک وہ واپس نہ آئے پھر معلومات کی گئیں تو پتا چلا کہ وہ کہیں چلے گئے ہیں وہ حکیم سید فرّخ حسین تھے چند سال بعد معلوم ہوا کہ وہ خاندان کراچی میں کہیں آباد ہو گیا ہے، مگر ٹھیک پتہ نہ چل سکا۔

سال 2025 میں، تقریباً 40 سے 50 سال بعد، اس خاندان کے علاقوں میں جا کر دوبارہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی مگر کچھ علم حاصل نہ ہو سکا یوں شجرے میں صرف نام ہی باقی رہ گئے، تاریخ ختم ہو گئی، قدیم نسخے ضائع ہو گئے، اور بھی بڑے نقصان ہوئے۔

سید امید علی نے اپنے سید بھائی سے نیکی کی تھی، مگر وہ نسلوں کی تاریخ نگل گئے، اور اجداد کے صرف نام ہاتھ میں رہ گئے تاریخ اور قیمتی و قدیم نشانی سب مٹ گئیں۔

جبکہ ایک ذریعے سے اسی واقعے پر یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ ہی، نسب کے ساتھ خاندان کی تاریخ کی کتاب کی ایک نقل بھی تھی، جو غالباً سید محبت علی ہی نے شروع کی تھی، اور ان کے وفات پر ادھوری رہ گئی اور پھر وہ کہیں اور ہی چلی گئی اس میں خاندان کے جاگیرداری، قضاء، خاندان میں تاریخ، حکمت میں داخلے سب کا ذکر موجود تھا۔

سید شریف رضوی مرحوم کی نسل کے مطابق، سید امید علی کے وقت میں حِرآباد والے خاندان سے دو تین خاندانوں کی لڑائی بھی ہو گئی تھی وہاں کی ایک خاتون نے، جو سربراہی میں تھیں، شجرہ نہیں دیا ان کے شوہر اور ان کا نسب ایک تھا، لیکن وہ صرف کسی ایک امام کی اولاد کا نہیں تھا بلکہ ایک جامع ورژن تھا، جس میں تمام خاندانوں کے بزرگوں نے ایک ہی جگہ سارے خاندان کا شجرہ نسب ایک ہی جگہ  پر جمع کیا تھا، اس سوچ کے تحت کہ یہ خاندان آپس میں مل چکے ہیں تو اب شجرے بھی ایک ہی جامع کتاب میں جمع کر دیے جائیں۔

مگر جب وہ شجرہ حِرآباد والوں سے کچھ سال بعد انہی ہیرآباد والوں نے آپس میں ہی  مانگا  تو نہ دیا گیا، اور کچھ خاندانوں میں لڑائی ہو گئی، جس میں سید امید علی کا کردار بحیثیت رشتہ دار صلح کروانے کا تھا لیکن معاملہ کچھ یوں ہوا کہ وہ جامع نسب کی وجہ سے، کئی سال پہلے اس خاندان کے گھرانوں سے جھگڑے کے بعد تعلق ختم ہو گیا تھا اس طرف سے، جب سید امید علی وفات پا گئے، تو اس کے بعد خاندانوں کا تعلق ٹوٹ گیا اور اب ٹھیک سے کوئی جان پہچان نہ رہی اس طرح، اس خاندان نے نسب کے معاملات میں تین مرتبہ نقصان اٹھایا مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ کچھ حصہ ایک خاص تاریخ میں قلم بند تھا جو کہ سید امیر علی اور ان کے والد سید حیدر شاہ سے منسوب، ابتدائی دور کی اردو لکھائی میں موجود تھا کئی روایات شامل نہیں کی گئیں، اور مکمل طور پر مستند نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شامل کرنے سے گریز کیا گیا۔

آگرہ سے ہجرت لاہور بارڈر سے  بہاولپور کے راستے حیدرآباد میں مستقل سکونت

جب سید امید علی کی اولاد و نسل نے حکیم سید فَرّخ حسین کے گھرانے کی اس دور میں تلاش کی تو حکیم سادات دوسرے گھرانے، جو آگرہ ہی سے ساتھ آئے تھے، کی وساطت سے خاندان کو اپنے اجداد کی تقسیمِ ہند کے وقت آگرہ سے پاکستان آنے کے سفر اور راستے کی مزید  تفصیل معلوم ہوئی، جو نہایت تفصیلی اور جامع نکلی ان کا کہنا تھا کہ وہ آپ لوگوں کے رشتہ داروں میں سے ہیں، سید محبت علی کے قریبی تھےسید امید علی کے ساتھ بھی قربت رہی تھی  یہ آپ کے رشتہ داروں میں سے ہی تھے اور ایک رشتہ داروں کا گھرانہ وہ تھا جو سید امید علی کے داماد، سید عرفان علی نقوی البخاری، کا گھر تھا ان کا گھرانہ اور آپ کے دادا والے اور حکیم فَرّخ علی والے ایک ہی پردادا کی اولاد میں سے تھے، مگر آگرہ میں یہ الگ الگ محلّوں سے اٹھ کر آئے تھے ساتھ ہی کچھ انہی کے رشتہ دار تھے جو فیروز آباد، لکھنؤ اور حیدرآباد دکن سے آئے تھے، جبکہ ان کے کچھ اور رشتہ دار تھے جو راستے میں رک گئے پھر انہوں نے بتایا کہ ہمارے اجداد ان کے ساتھ آئے تھے، ہجرت آگرہ سے پنجاب کی طرف ہوئی تھی نہ کہ سیدھ سندھ کی طرف ، اور یہ ایک بڑی ہجرت تھی انکے مطابق، اور سید قدیر علی کے بیان کے مطابق بھی، اس بڑے گروہ میں بارہ سو سے زائد افراد شامل تھے جو رشتہ داروں میں سے تھے، اور سب ہی سادات تھے، جبکہ اکثریت مکتبِ تشیع سے تعلق رکھتی تھی۔

سید ساجد علی نقوی  کے مطابق، اُن خاندانوں نے بیان کیا کہ جب ہجرت سادات کے اس بڑے گروہ کی پنجاب کی طرف لاہور بارڈر سے ہوئی تو اُن کی اکثریت نے بہاولپور میں، آج کے عزیز آباد  کے علاقے میں، کچھ مہینوں کا قیام کیا اس کے بعد وہ مزید آگے بڑھے اور سعید آباد کے نام سے کچھ فاصلے پر ایک مقام پر آباد ہوئے  چند ماہ بعد اُن میں سے بعض لوگ درگاہوں کی طرف نکل گئے، کچھ وہیں رکے رہے اور کچھ نے اُوچ شریف کا رُخ کیا باقی کا قافلہ تمام درگاہوں کی زیارت کے بعد آخری زیارت اُوچ شریف پر حاضر ہوا۔

یہاں چند لوگوں نے مستقل سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اس میں اس حکیم خاندان کا بھی کہنا تھا کہ یہاں سید محبت علی اور اُن کے قریبی رشتہ داروں نے اس جگہ کو اپنے اجداد کی جگہ بتایا، مگر یہاں رہائش کا فیصلہ ترک کر دیا، کیونکہ یہاں ذرائع معاش کے معاملات نہیں تھے اور یہ ماحول ایک گاؤں کا سا تھا، جس میں گرمی اور دیگر پریشانیاں لاحق تھیں اس وقت آگرہ ایک تجارتی شہر تھا اور ساتھ ہی دیگر بڑے شہر بھی تجارت اور صنعت میں جدید دور میں تھے اور ان کو اسی طرح کے ماحول کی عادت تھی، اس وجہ سے وہ وہاں مقیم نہ ہو سکے۔

آگے بڑھتے ہوئے حیدرآباد میں ایسا مقام میسر آیا جو وہ چھوڑ کر آئے تھے، اور یہی وجہ بنی یہاں آباد ہونے کی جبکہ سید امید علی کے بھی پنجاب میں دیگر جگہوں پر رشتہ داروں سے روابط رہے یہاں تک کہ ملتان سید امید علی کا آنا جانا بھی رہا آگے بڑھتے ہوئے یہی وہ مقام تھا جہاں اس خاندان کے مطابق تمام سادات نے ایک دوسرے کے خاندانوں کے شجرے اپنے پاس قلمبند کیے اور الگ الگ مقامات پر آگے بڑھتے گئے ممکن ہے یہ وہی وقت ہو جب سید محبت علی نے اُوچ شریف کی طرف اپنے شجرو کی نقل بھیجوائی تھی مخدوم پورہ اور اس کے گرد و نواح کے کئی علاقے، جبکہ کچھ لوگ سعید آباد سے گزرتے ہوئے گاؤں گوٹھوں کے راستے اُوچ شریف کے قریب پہنچے، اور وہاں سے بعض نے مزید دوسرے علاقوں کا رخ کیا۔

مزید آگے بڑھتے ہوئے، سندھ حیدرآباد میں مولا علیؑ کے قدم گاہ پر مقیم ہوئے، جو سادات کا گڑھ تھا اور تقریباً شیعہ آبادی پر مشتمل تھا شہر کا نام بھی مولا کے نام حیدر پر تھا  یہ جگہ عقیدت کی وجہ بنی اور یہاں سکونت اختیار کی اس طرح یہ خاندان یہاں مستقل طور پر آباد ہوا۔

اللہ تعالیٰ اس شجرے اور اس کتاب میں موجود ہر ایک شخص پر دنیا و آخرت میں اپنی نعمتیں، رحمتیں، کرم، مغفرت اور نجات عطا فرمائے۔ آمین۔


أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ

لَّآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ


Comments

Popular posts from this blog

تقسیمِ ہند ہجرت روحانی ورثہ اور قربانیوں کی داستان

گلزارِ جلالیہ | Gulzar-e-jalalia | Gulzar-e-jalaliya | Gulzar E Jalaliya

سید محبت علی اور سید حفیظ علی کی مکمل اولاد نسل در نسل تفصیل