حضرت سید ابوطالب علیہ السلام
حضرت سید ابوطالب علیہ السلام
والدِ امیرالمؤمنین علیؑ، چچا و کفیلِ رسولِ خدا ﷺ، ناصرِ رسول ﷺ، حامیِ نبوت، مومنِ قریش، موحد علی ملتِ ابراہیم، شیخُ البطحاء، رئیسِ بنی ہاشم
حضرت ابوطالب علیہ السلام، جن کا اصل نام عبد مناف بن عبدالمطلب تھا، نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے چچا اور بچپن سے لے کر اعلانِ نبوت کے بعد تک آپ ﷺ کے محافظ، سرپرست اور خیرخواہ رہے۔ آپ حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کے صاحبزادے اور حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے والد محترم تھے۔ جب نبی اکرم ﷺ آٹھ برس کے ہوئے اور دادا کا سایہ اٹھ گیا، تو حضرت ابوطالب علیہ السلام نے آپ ﷺ کو اپنے گھر میں رکھا، اپنی اولاد سے بڑھ کر محبت دی، اور ہر لمحہ آپ کی خدمت و حفاظت کو اپنا فریضہ بنایا۔ آپ علیہ السلام نہ صرف قریش کے معزز سرداروں میں سے تھے بلکہ عربی شعری ادب میں بھی اعلیٰ مقام رکھتے تھے، اور نبی ﷺ کی مدح و دفاع میں اشعار بھی کہتے تھے۔
حضرت ابوطالب علیہ السلام توحید پر یقین رکھنے والے، دینِ کے پیرو، اور بت پرستی سے بیزار تھے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے اعلانِ نبوت کے بعد، تمام تر قبائلی اور معاشرتی دباؤ کے باوجود، آپ ﷺ کی حفاظت اور مدد میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ شعبِ ابی طالب کا سخت محاصرہ اور بائیکاٹ ان ہی کی سربراہی میں برداشت کیا گیا، جو ان کی وفاداری، محبت اور توحید پر یقین کی روشن دلیل ہے۔ ان کا مشہور قول تھا: ہم اُس وقت تک تمہیں دشمنوں کے حوالے نہیں کریں گے جب تک ہم میں سے ایک بھی زندہ ہے۔
حضرت ابوطالب علیہ السلام کا وصال اعلانِ نبوت کے دسویں سال مکہ مکرمہ میں ہوا، اسی سال کو نبی کریم ﷺ نے عام الحزن (غم کا سال) فرمایا، کیونکہ اسی سال حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا بھی دنیا سے رخصت ہوئیں۔
حضرت سید ابوطالب علیہ السلام کی ازواج اور اولاد
1. ازواج:
حضرت ابوطالب علیہ السلام کی سب سے معروف زوجہ محترمہ تھیں:
● حضرت فاطمہ بنت اسد سلامُ اللہ علیہا
یہ عظیم المرتبت خاتون قبیلہ بنی ہاشم سے تھیں اور حضرت علی علیہ السلام کی والدہ تھیں۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بچپن سے جوانی تک خدمت کی، اور آپ ﷺ خود فرمایا کرتے تھے: یہ مجھے اپنی اولاد سے بڑھ کر چاہتی تھیں۔
فاطمہ بنت اسد سلامُ اللہ علیہا وہ خاتون ہیں جنہوں نے خانہ کعبہ کے اندر حضرت علی علیہ السلام کو جنم دیا یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں متواتر شہرت رکھتا ہے۔
(حوالہ: المستدرک علی الصحیحین للحاکم، جلد 3، ص 142، سیر اعلام النبلاء، ذہبی، جلد 2)
2. اولاد (معروف و مستند):
حضرت ابوطالب علیہ السلام کی اولاد میں مندرجہ ذیل ہستیاں شامل ہیں:
● حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام
امامِ اوّل، مولائے کائنات، وصیِ رسولؐ، خلیفۂ راشد، دامادِ رسولؐ، بابُ مدینۃ العلم، اہلِ بیتؑ کے سربراہ و پیشوا، وصیّ رسولؐ، اخوِ رسولؐ، امیر المؤمنین، ابو الحسن، اسدُ اللہ، اسدُ اللہ الغالب، حیدرِ کرّار، شہسوارِ خیبر، صدیقِ اکبر، فرّخ اعظم، بابُ العلم، علیُّ المرتضیٰ، صاحبِ ذوالفقار، قاضیُ القضاة، مولا الموحدین، اوّلُ المؤمنین، زوجِ بتولؑ، سیدُ العرب، قریبِ نبیؐ، نفسِ نبیؐ، انزع البطین، کرّارٌ غیر فرّار، سیدُ الاوصیاء، مفتاحُ بابِ العلم، مولا العالمین، امام المتقین، منبعِ کرم، علیّ العظیم، صفوتُ اللہ، بابِ حطّہ، نورُ الانوار، اوّلُ القومِ اسلاماً، قاتلُ الجبابرہ، صاحبُ المعاجز، نفوسٌ زکیّہ، شہیدُ المحراب، زاہدُ الزہّاد، عابدُ اللیل، سیفُ اللہ المسلول۔
● حضرت جعفر بن ابی طالب علیہ السلام (جعفرِ طیار)
حبشہ کے پہلے سفیرِ اسلام، اور غزوۂ موتہ میں شہید ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جعفر کے ہاتھوں کو اللہ نے شہید ہونے کے بعد پروں سے بدل دیا، اور وہ جنت میں پرواز کرتے ہیں۔
(حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 3703)
● حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
علم و نسب کے ماہر، فتح مکہ کے بعد ایمان لائے، اور نبی ﷺ سے شدید محبت رکھتے تھے۔
● حضرت طالب بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ )
ان کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا ایمان لائے یا نہیں، تاہم وہ اہلِ بیت کے خانوادے سے تھے۔
● اسماء بنت ابی طالب سلامُ اللہ علیہا (بعض کتب میں ذکر موجود ہے)
اگرچہ تفصیل کم ہے، لیکن بعض روایات میں ان کا ذکر بھی اہل بیت میں ملتا ہے۔
حوالہ جات برائے اولاد و ازواج: سیرۃ ابن ہشام (جلد 1)، طبقات ابن سعد (جلد 1)، الاستیعاب (ابن عبد البر)، الاصابہ (ابن حجر)، اور البدایہ والنہایہ (جلد 3، ابن کثیر) میں تفصیلی ذکر موجود ہے۔
مستند حوالہ جات: سیرۃ ابن ہشام (جلد 1، ص 247–250)، دلائل النبوۃ (جلد 2، امام بیہقی)، الشفاء (جلد 1، قاضی عیاض)، طبقات ابن سعد (جلد 1)، اور البدایہ والنہایہ (جلد 3) مستند ماخذ کے طور پر معتبر ہیں۔
Comments
Post a Comment