خاتمُ النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ
خاتمُ النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ
احمدِ مجتبیٰ، محمودِ اکبر، رحمۃٌ للعالمین، سیدُ المرسلین، سیدُ الانبیاء، امامُ الانبیاء، افضلُ الخلق، خیرُ البشر، اشرفُ المخلوقات، حبیبُ خدا، محبوبِ کبریا، محبوبِ سبحانی، رسولُ اللہ، نبیُّ اللہ، نبیِ آخرالزماں، رسولِ ہدایت، داعیِ توحید، مبلغِ قرآن، صاحبِ خلقِ عظیم، صادق، امین، امینُ اللہ، نورُ الہدیٰ، نورِ مجسم، سراجِ منیر، شمسُ الضحیٰ، بدرُ الدجیٰ، بشیر، نذیر، شاہد، داعی، مزکی، عبدُ اللہ، عبدُ ربہ، محمد، احمد، محمود، قاسم، ابو القاسم، طٰہٰ، یٰس، مزمل، مدثر، رحمۃِ کاملہ، نعمتِ عظمیٰ، نبیُّ الرحمہ، نبیُّ التوبہ، شافعِ محشر، شفیعُ المذنبین، صاحبِ مقامِ محمود، صاحبِ لواءُ الحمد، صاحبِ حوضِ کوثر، امامُ المتقین، قائدُ الغرّ المحجلین، تاجدارِ مدینہ، سردارِ مکہ، مقبولِ بارگاہِ الٰہی، محبوبِ اہلِ سما و ارض، قائدِ لولاک، سببِ تخلیقِ کائنات، واسطۂ فیضِ الٰہی، وجہِ قربِ خداوندی، الماحی، الحاشر، العاقب، المقفی
حضرت خاتم الانبیاء، سیدالمرسلین، شفیع المذنبین، رحمۃٌ للعالمین، محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سب سے محبوب اور مکرم ترین بندے اور رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کائنات کو تخلیق کیا گیا، اور جن کی نسبت سے ہر نعمت، ہدایت اور رحمت بنی نوع انسان کو عطا ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ سراپا نور، مجسم اخلاق، کامل توحید ، اور خالقِ کائنات کی عبدیت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ آپ کی محبت ہر مؤمن کے دل کی جان ہے، اور آپ کا ادب و احترام و محبت ایمان کی بنیاد ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت ربیع الاول عام الفیل کو مکہ مکرمہ میں اُس وقت ہوئی جب دنیا گمراہی، ظلمت اور جہالت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ والد گرامی حضرت عبداللہ علیہ السلام اور والدہ مکرمہ حضرت آمنہ بنت وہب سلامُ اللہ علیہا کا سایہ بچپن ہی میں اٹھ گیا، مگر اللہ تعالیٰ نے خود آپ کی پرورش کا اہتمام فرمایا۔ بچپن سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت بے مثل اور سراسر صدق و امانت سے بھرپور رہی، یہاں تک کہ مکہ کے لوگ آپ کو الصادق اور الامین کے القاب سے یاد کرنے لگے۔
چالیس برس کی عمر میں غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی، اور آپ کو نبوت عطا ہوئی۔ آپ نے 23 سال تک مسلسل سختیوں، طعنوں، ہجرتوں، اور دشمنی کے باوجود صبر، حلم، اور کامل حسن خلق کے ساتھ اللہ کی توحید، عدل، محبت، اور انسانیت کا پیغام پہنچایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو ایمان کی روشنی دی، غلاموں کو آزادی، یتیموں کو سہارے، عورتوں کو عزت، اور انسانوں کو انسانیت کا شعور عطا فرمایا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل ہمیشہ امت کی خیر خواہی، دعا اور مغفرت میں مشغول رہا۔ آپ کی محبت کو ایمان کی شرط قرار دیا گیا ہے، اور قرآن نے آپ کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت کے برابر ٹھہرایا۔ آپ کی ایک نظرِ کرم سے جہالت کے صحرا گلزار بن گئے، اور ظلمت کے اندھیرے نور میں بدل گئے۔وصال 12 ربیع الاول 11 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوا، اور آپ کا روضۂ اطہر مسجد نبوی امت کا مرکزِ عشق و عقیدت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں، ہادی، محسن، معلم، شافع، اور قیامت کے دن عرش کے سائے تلے امت کے سفارشی ہوں گے۔ آپ سے محبت، ادب، اور اطاعت ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی ہے، اور جو آپ پر درود نہیں بھیجتا، وہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق محروم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل محبت، ادب، اور اتباع نصیب فرمائے۔
نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی کفالت و قیام کے ادوار (پیدائش تا وصال):
پیدائش تا 6 سال (حضرت آمنہ سلامُ اللہ علیہا کے زیر سایہ):
حضور اکرم ﷺ کی ولادت ربیع الاول عام الفیل میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ پیدائش سے قبل والد محترم حضرت عبداللہ علیہ السلام کا وصال ہو چکا تھا۔ اہل سنت کی روایت کے مطابق ابتدائی چار سال بنو سعد میں دایہ حلیمہ سعدیہ سلامُ اللہ علیہا کے ہاں گزرے۔ اس کے بعد آپ ﷺ والدہ محترمہ حضرت آمنہ سلامُ اللہ علیہا کے پاس واپس آئے اور چھ برس کی عمر تک ان کے زیر سایہ پرورش پائی۔ اسی عمر میں حضرت آمنہ سلامُ اللہ علیہا کا ابواء کے مقام پر وصال ہو گیا۔
تا 8 سال (دادا حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کے زیر سایہ):
والدہ کے انتقال کے بعد دادا حضرت عبدالمطلب علیہ السلام نے آپ ﷺ کی کفالت سنبھالی۔ آپ ﷺ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ دو سال بعد جب آپ ﷺ آٹھ سال کے ہوئے تو حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کا بھی وصال ہو گیا۔
8 تا تقریباً 50 سال (چچا حضرت ابوطالب علیہ السلام کے زیر سایہ و گھر میں قیام):
حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کی وصیت پر آپ ﷺ کی کفالت آپ کے چچا حضرت ابوطالب علیہ السلام نے سنبھالی۔ چالیس سال تک، یعنی اعلانِ نبوت سے قبل تک، آپ ﷺ انہی کے زیر سایہ ان کے گھر میں مقیم رہے۔ چچا نے ہمیشہ آپ ﷺ سے والہانہ محبت کی اور ہر مرحلے پر آپ کا ساتھ دیا، حتیٰ کہ سخت ترین معاشرتی بائیکاٹ میں بھی۔
(ازدواجی زندگی حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا کے ساتھ):
25 برس کی عمر میں آپ ﷺ کا نکاح حضرت خدیجہ بنت خویلد سلامُ اللہ علیہا سے ہوا۔ آپ ﷺ ان کے ساتھ ان کے گھر میں رہے۔ یہ زمانہ آپ ﷺ کی اولین ازدواجی اور نبوی زندگی کا پُرسکون دور تھا۔ حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا نے آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا مقام پایا اور ہر قدم پر آپ کی پشت پناہی کی۔
50 تا 53 سال (شعبِ ابی طالب و ہجرت سے قبل):
حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا اور حضرت ابوطالب علیہ السلام کے وصال کے بعد آپ ﷺ کو شدید تکالیف اور مکی مشرکین کی دشمنی کا سامنا ہوا۔ ان دنوں آپ ﷺ کبھی اپنے گھر، کبھی شعبِ ابی طالب اور کبھی مختلف رشتہ داروں کے پاس قیام فرماتے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہجرت مدینہ کا فیصلہ فرمایا۔
53 تا 63 سال (مدینہ منورہ اپنا گھر، مسجد نبوی کے قریب):
ہجرت کے بعد آپ ﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک مستقل گھر تعمیر فرمایا جو مسجد نبوی کے ساتھ متصل تھا۔ باقی دس سال آپ ﷺ اسی مقدس گھر میں رہے۔ یہیں سے اسلام کو ریاستی نظام ملا، وحی نازل ہوئی، معرکہ بدر، احد، خندق، اور فتح مکہ سمیت دیگر اہم تاریخی واقعات پیش آئے۔ 63 سال کی عمر میں 12 ربیع الاول 11 ہجری کو مدینہ ہی میں آپ ﷺ کا وصال ہوا۔
خلاصہ:
پیدائش: ربیع الاول، عام الفیل، مکہ مکرمہ، وصال: 12 ربیع الاول، 11 ہجری، مدینہ منورہ، کل عمر مبارک: 63 سال، کفالت کے مراحل: والدہ پیدائش تا 6 سال، دادا 6 تا 8 سال، چچا 8 تا اعلانِ نبوت و اس کے بعد، پھر خود مختار گھر مدینہ میں 53 تا 63 سال۔
اللہ تعالیٰ ہمیں آپ ﷺ کی محبت، ادب، اور اتباع نصیب فرمائے آمین۔
البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)، سیرت ابن ہشام، طبقات ابن سعد، الشفاء (قاضی عیاض)، سہیلہ بحوالہ صحیح احادیث، بخاری و مسلم کی صحیح روایات
بے شک یہ تمام ہستیاں اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے لیے نہایت عزیز تھیں، اور اللہ کے رسول ﷺ ان کے لیے سراپا رحمت و محبت تھے، مگر یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ پر سوائے اللہ وحدہٗ لاشریک کے کسی مخلوق کا کوئی احسان نہیں۔ آپ ﷺ اللہ کے بندے، برگزیدہ رسول، اور آخری نبی ہیں۔
Comments
Post a Comment