امام زادے سید جعفر ثانی بن علی النقیؑ

 امام زادے سید جعفر  ثانی بن علی النقیؑ

الزکی، جعفر کذّاب، جعفر التوّاب

نام و نسب

 جعفر بن علی النقی علیہ السلام، امام علی النقی علیہ السلام کے فرزند اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بھائی تھے۔ اہلِ تشیع میں انہیں زیادہ تر جعفر کذّاب کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد امامت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور اپنے بھتیجے امام مہدی علیہ السلام کی امامت و غیبت کا انکار کیا۔ بعض روایات میں انہیں جعفر التوّاب یعنی توبہ کرنے والا بھی کہا جاتا ہے۔

کنیت: ابو عبد اللہ

 القاب: جعفر کذّاب، الزکی، التواب، المصدق (مختلف تاریخی حوالوں میں مختلف القاب ملتے ہیں)

 پیدائش: 226 ہجری / 840ء

 وفات: 271 ہجری / 884ء

 سکونت: سامرا، مدینہ

 مدفن: حرم عسکریین، سامرا

خاندانی پس منظر

والد: امام علی النقی علیہ السلام

والدہ: سمانہ خاتون

بھائی: امام حسن عسکری علیہ السلام  محمد بن علی النقیؑ  بعض مصادر میں کم ذکر، کم عمری میں وفات کا ذکر  حسین بن علی النقیؑ  بعض نسبی کتب میں نام آیا ہے

انکارِ امامت اور دعویٰ خلافت

امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد جعفر نے امامت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور عباسی حکمرانوں کے ساتھ تعلقات بنا کر اپنے آپ کو امام ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے امام مہدی علیہ السلام کی غیبت صغری کے دوران ان کے نائبین کو اذیت دی اور ان کی موجودگی کو تسلیم نہیں کیا۔ جعفر کا یہ دعویٰ سخت مسترد کیا گیا۔

توبہ اور واپس آنا

تاریخی روایات کے مطابق، جعفر نے اپنی ناکامی کے بعد زندگی کے آخری ایام میں توبہ کی اور اہل بیت علیہم السلام کی حمایت کی۔ شیخ مفید اور ابن طاووس جیسے علما کے نزدیک جعفر نے اپنے بیٹے اور بیٹی کو اہل تشیع کے علما کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اہل بیتؑ کے اصلی عقائد کو اپنائیں۔

امام مہدی علیہ السلام کی جانب سے ایک توقیع میں فرمایا گیا

اے آلِ محمدؐ کے شیعوں، میرے چچا جعفر کے بارے میں بدگمانی نہ کرو، اللہ نے انہیں معاف کیا اور ان پر رحم فرمایا۔

نسل اور اثنا عشری تشیع میں واپسی

جعفر کی نسل نے وقت کے ساتھ اثنا عشری شیعہ عقائد کو قبول کیا اور اہل بیتؑ کی تعلیمات کو اپنایا۔ ان میں سے کئی افراد نے صوفی سلسلوں خاص طور پر چشتیہ، اور سہروردیہ میں شامل ہو کر روحانیت کے ذریعے اہل بیتؑ کی محبت کا اظہار کیا، مگر عقیدے میں بارہ اماموں کی امامت کو تسلیم کیا۔ ان کے خاندان میں سے کئی افراد علم و فضل میں نمایاں ہوئے۔

سیاسی دباؤ اور ہجرت

جعفر کذاب کی نسل کو عباسی دور کے سخت سیاسی دباؤ اور ظلم کا سامنا رہا، جس کی وجہ سے ان کے بعض افراد نے ایران اور افغانستان کے سرحدی علاقوں، خصوصاً چشت، ہرات، بخارا، ملتان، اتر پردیش کے علاقوں کی جانب ہجرت کی۔ وہاں وہ صوفی سلسلوں کا حصہ بن گئے، جبکہ کچھ نے تشیع کی بنیاد ہی قائم رکھی ۔

ازواج 

دستاویزات میں ازواج کے نام مخصوص طور پر درج نہیں، تاہم درج ذیل باتیں اہم ہیں:

جعفر ثانی کی کئی ازواج تھیں جن سے ان کی کثیر اولاد ہوئی۔

ان کی بیویوں کی شناخت عمومی طور پر ان کی اولاد کے ذریعے کی جاتی ہے، کیونکہ اس دور میں بیویوں کے نام اکثر روایات میں درج نہیں کیے جاتے تھے، خاص طور پر اگر وہ غیر ہاشمی یا غیر معروف قبیلوں سے تعلق رکھتی ہوں۔

اولاد 

معتبر ماخذ:

المعقبون من آل ابی طالب از سید مہدی رجائی

لباب الانساب از ابن فندق بہقی

بیٹے (18):

.1 سید ابو الحسن علی الاصغر رحمۃ اللہ علیہ، .2 سید عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ، .3 سید یحییٰ صوفی رحمۃ اللہ علیہ، .4 سید ابو القاسم طاہر رحمۃ اللہ علیہ، .5 سید اسماعیل حریفا رحمۃ اللہ علیہ، .6 سید ادریس رحمۃ اللہ علیہ، .7 سید عیسیٰ المجد رحمۃ اللہ علیہ، .8 سید ہارون رحمۃ اللہ علیہ، .9 سید ابو الحسین محسن رحمۃ اللہ علیہ، .10 سید عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ، .11 سید موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ، .12 سید ابو جعفر محمد رحمۃ اللہ علیہ، .13 سید عباس رحمۃ اللہ علیہ، .14 سید عبیداللہ رحمۃ اللہ علیہ، .15 سید ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ، .16 سید ابو محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ، .17 سید احمد رحمۃ اللہ علیہ، .18 سید اسحاق رحمۃ اللہ علیہ۔

ان میں سے وہ بیٹے جن کی نسل آگے چلی

.1 سید اسماعیل حریفا رحمۃ اللہ علیہ، .2 سید ابو القاسم طاہر رحمۃ اللہ علیہ،.3 سید ہارون رحمۃ اللہ علیہ،.4 سید ادریس رحمۃ اللہ علیہ،.5 سید ابو الحسن علی الاصغر رحمۃ اللہ علیہ، .6 سید یحییٰ صوفی رحمۃ اللہ علیہ۔

 بیٹیاں (27) 

.1 سیدہ زینبؒ، .2 سیدہ اُم عیسیٰؒ، .3 سیدہ اُم حسنؒ، .4 سیدہ اُم حسینؒ، .5 سیدہ سکینہؒ، .6 سیدہ اسماءؒ، .7 سیدہ اُم عبداللہؒ، .8 سیدہ اُم احمدؒ، .9 سیدہ کلثوم صغریؒ، .10 سیدہ اُم فروہؒ، .11 سیدہ اُم القاسمؒ، .12 سیدہ خدیجہؒ، .13 سیدہ اُم موسیٰؒ، .14 سیدہ آمنہؒ، .15 سیدہ اُم الفضلؒ، .16 سیدہ اُم محمدؒ، .17 سیدہ مریمؒ، .18 سیدہ آمنہ صغریؒ، .19 سیدہ کلیمؒ، .بیس سیدہ حکیمہؒ، .21 سیدہ دریّہؒ، .22 سیدہ اُم جعفرؒ، .23 سیدہ اُم سلمہؒ، .24 سیدہ حسنہؒ، .25 سیدہ اُمینہؒ، .26 سیدہ میمونہؒ، .27 سیدہ سمیہؒ۔

مشہور فرزندان 

اسماعیل حریفا بن جعفر الزکی ان کی نسل مختلف علاقوں میں موجود ہے۔

علی الاصغر بن جعفر الزکی مشہور نسبی شخصیات انہی کی اولاد میں سے ہیں۔

یحییٰ صوفی بن جعفر الزکی ان کی نسل اہل تصوف میں خاص طور پر جانی جاتی ہے۔

جعفر ثانی کی ازواج کے نام روایات میں محفوظ نہیں ہیں۔

ان کے کل 45 بچے (18 بیٹے + 27 بیٹیاں) بیان ہوئے ہیں۔

کم از کم 6 بیٹوں سے نسل کا تسلسل پایا جاتا ہے، جو سادات بخاری، سرسی، امروہی، ناصری آبادی، جلالی، مودودی اور دیگر شاخوں کی بنیاد بنے۔

جعفر کذاب نے امام مہدی علیہ السلام کی امامت کا انکار کیا، لیکن بعد میں توبہ کر کے اہل بیتؑ کی حمایت میں آ گئے۔ ان کی نسل نے اثنا عشری میں واپس آ کر اہل بیتؑ کے اصولوں کو اپنایا اور صوفی سلسلوں میں بھی روحانی کردار ادا کیا۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جھوٹے دعوے طویل عرصے تک قائم نہیں رہ سکتے اور سچائی بالآخر غالب آتی ہے۔

حوالہ جات

کمال الدین و تمام النعمة (شیخ صدوق)، بحار الانوار (علامہ مجلسی)، الارشاد (شیخ مفید), الغیبة (شیخ طوسی), رجال کشی، کشف الغمہ (علی بن عیسی اربلی)، رحلات ابن بطوطہ، کشف المحجوب (سید علی ہجویری)، سیر اعلام النبلاء (امام ذہبی)۔


Comments

Popular posts from this blog

تقسیمِ ہند ہجرت روحانی ورثہ اور قربانیوں کی داستان

گلزارِ جلالیہ | Gulzar-e-jalalia | Gulzar-e-jalaliya | Gulzar E Jalaliya

سید محبت علی اور سید حفیظ علی کی مکمل اولاد نسل در نسل تفصیل