حضرت علی الاصغر بن جعفر الزکی علیہ الرحمہ
حضرت علی الاصغر بن جعفر الزکی علیہ الرحمہ
حضرت علی الاصغر علیہ الرحمہ، حضرت جعفر الزکی بن امام علی نقی علیہ السلام کے فرزند تھے۔ آپ کا شمار ان ممتاز سادات میں ہوتا ہے جن کی نسل نے مختلف ادوار میں دینی، روحانی، علمی اور صوفی خدمات انجام دیں۔
نسبی تسلسل
علی الاصغر بن جعفر الزکی بن امام علی نقی بن امام محمد تقی بن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن علی بن ابی طالب علیہم السلام
کتبِ انساب کے مطابق آپ کی کنیت ابو الحسن تھی اور آپ بغداد و مشہدِ مقدس رضوی کے نقباء میں شمار ہوتے تھے۔ بعض مصادر میں آپ کو نقیبِ مشہدِ رضوی قرار دیا گیا ہے، جو آپ کے علمی، نسبی اور سماجی مقام کی دلیل ہے۔
سیرت و مقام
حضرت علی الاصغر کا ذکر علماء انساب میں اُن فرزندانِ جعفر الزکی میں کیا گیا ہے جن سے نسل چلی اور جو علمی و روحانی لحاظ سے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
آپ اہل تقویٰ، صاحبِ علم اور صالح بزرگ تھے۔
آپ کی نسل کو تاریخ میں سادات بخاری، نقوی سادات یا العلویون من نسل جعفر الزکی کہا جاتا ہے۔
آپ کی اولاد کے بہت سے افراد ہندوستان، افغانستان، ایران اور ماوراء النہر کے علاقوں میں پہنچے اور وہاں مقیم ہوئے۔
بعض سادات کی روایت کے مطابق، آپ کا مزار ماوراء النہر یا ترکستان کے کسی قدیم علاقے میں موجود ہے (تحقیق طلب)۔
نسل و اولاد
حضرت علی الاصغر علیہ الرحمہ کی نسل سے تعلق رکھنے والے کئی معروف شخصیات پیدا ہوئیں، جن میں شامل ہیں:
سید عبداللہ، سید احمد، سید محمود، سید محمد، سید جعفر، سید ابو المؤید علی بخاری
(جن کی اولاد سے حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ اور حضرت مخدوم جہانیانؒ پیدا ہوئے)
یہی نسل بعد میں سادات بخاری کہلائی اور برصغیر، خصوصاً اوچ شریف، ملتان، جالندھر، بہاولپور، سندھ، حیدرآباد، اتر پردیش، دہلی اور کشمیر میں پھیل گئی۔
علماءِ فنِّ انساب نے حضرت علی الاصغر بن جعفر الزکی ثانی کی اولاد کے حوالے سے یہ بات واضح کی ہے کہ ان کی نسل چند مخصوص افراد کے ذریعے برقرار رہی، جبکہ بعض ایسے نام بھی منقول ہوئے ہیں جن کی عقب مستند طور پر ثابت نہیں ہو سکی۔ اسی بنیاد پر اہلِ نسب نے ان کی اولاد کو معقب اور غیر معقب کی حیثیت سے جداگانہ طور پر بیان کیا ہے۔ چند معتبر مؤرخین، جن میں ابنِ مطقطقی اور بغدادی کے نام نمایاں ہیں، اس بات کی صراحت کرتے ہیں کہ حضرت علی الاصغر بن جعفر الزکی ثانی کی بعض اولاد کی عقب بعد کے زمانوں میں بلادِ ہند تک جا پہنچی، اور اس کی تائید مختلف کتبِ انساب سے ہوتی ہے۔
حوالہ جات
1. المعقبون من آل ابی طالب سید مہدی رجائی، جلد دوم، ص 330–332
2. لباب الانساب ابن فندق بہقی، جلد 2، ص 442
3. عمدة الطالب فی انساب آل ابی طالب ابن عنبہ الحسنی
4. مدرکُ الطالب فی نسبِ آلِ أبی طالب الموسوم بہ معارفِ الأنساب سید قمر عباس اعرجی ہمدانی
5. المجدی فی انساب الطالبین شیخ ابو الحسن عمری
Comments
Post a Comment