حضرت بی بی پاک آمنہ بنتِ وہب سلامُ اللہ علیہا

 حضرت بی بی پاک آمنہ بنتِ وہب سلامُ اللہ علیہا کی بارگاہِ اقدس میں سلام و عقیدت پیش کرتے ہوئے دل محبت، تعظیم، ادب اور احترام سے سرشار ہو جاتا ہے، کہ آپ وہ مقدس اور برگزیدہ ہستی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے سیدالمرسلین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کے لیے منتخب فرمایا۔

حضرت بی بی پاک آمنہ بنتِ وہب سلامُ اللہ علیہا

 والدۂ رسولِ خدا ﷺ، سیدۂ قریش

حضرت آمنہ بنتِ وہب سلامُ اللہ علیہا، سیدالمرسلین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدۂ ماجدہ اور قریش کی نہایت معزز، پاکیزہ اور منتخب خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس عظیم سعادت کے لیے چنا کہ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کا وسیلہ بنیں، اور یوں آپ کو تاریخِ انسانیت میں ایک منفرد اور ابدی مقام عطا فرمایا۔

نام و نسب:

آپ کا مبارک نام آمنہ بنتِ وہب بن عبدِ مناف بن زہرہ بن کلاب ہے۔ اس طرح آپ کا نسب قبیلہ بنی زہرہ سے جا ملتا ہے، جو قریش کے معزز، شریف اور باوقار قبائل میں شمار ہوتا تھا۔ نسب، حسب اور خاندانی شرافت کے اعتبار سے حضرت آمنہ سلامُ اللہ علیہا مکہ مکرمہ کی ممتاز ترین خواتین میں سے تھیں۔

والدین:

آپ کے والد حضرت وہب بن عبدِ مناف اپنے زمانے میں بنی زہرہ کے سردار، صاحبِ رائے، صاحبِ وقار اور شریف النفس انسان تھے۔ آپ کی والدہ حضرت برّہ بنتِ عبدالعزیٰ نہایت عاقل، بااخلاق اور نیک سیرت خاتون تھیں۔ اس طرح حضرت آمنہ سلامُ اللہ علیہا کو شرافت، دانائی اور طہارت ایک پاکیزہ خانوادے سے وراثت میں ملی۔

ولادت اور پرورش:

حضرت آمنہ سلامُ اللہ علیہا کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ نے ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جہاں اگرچہ جاہلیت کا دور دورہ تھا، مگر آپ کی فطرت شروع ہی سے پاکیزگی، حیا، وقار اور سچائی سے آراستہ تھی۔ اہلِ مکہ آپ کو نجابت، حسنِ اخلاق اور متانت کی علامت سمجھتے تھے۔

نکاح:

حضرت آمنہ سلامُ اللہ علیہا کا نکاح حضرت سید عبداللہ بن عبدالمطلب علیہ السلام سے ہوا۔ یہ نکاح قریش کے معززین کی موجودگی میں انجام پایا اور اسے مکہ کے باوقار ترین نکاحوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دونوں ہستیاں شرافت، حسنِ سیرت اور پاکیزگی میں ایک دوسرے کی ہم پلہ تھیں۔

ازدواجی زندگی:

ازدواجی زندگی نہایت مختصر رہی، مگر محبت، سکون اور وقار سے بھرپور تھی۔ حضرت سید عبداللہ علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت آمنہ سلامُ اللہ علیہا نے صبر، حوصلے اور وقار کے ساتھ اپنی زندگی گزاری، اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر کامل رضا کا مظاہرہ فرمایا۔

حملِ مبارک اور بشارات:

حضرت آمنہ سلامُ اللہ علیہا کو حمل کے دوران غیر معمولی سکون، اطمینان اور روحانی کیفیات نصیب ہوئیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ کو اس دوران بشارت دی گئی کہ آپ اس ہستی کو جنم دیں گی جو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہو گی۔ یہ حمل نہایت آسان اور مشقت سے پاک تھا، جو اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت کی دلیل ہے۔

ولادتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:

حضرت آمنہ سلامُ اللہ علیہا مبارک سے عامِ فیل میں سیدالمرسلین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی۔ اس عظیم لمحے کے ساتھ ہی تاریخِ انسانیت کا ایک نیا باب روشن ہوا اور دنیا کو ہدایت کا دائمی چراغ نصیب ہوا۔

تربیتِ رسول:

ابتدائی زمانے میں حضرت آمنہ سلامُ اللہ علیہا نے خود اپنے لختِ جگر کی پرورش فرمائی۔ بعد ازاں عرب کی روایت کے مطابق آپ نے اپنے فرزند کو رضاعت کے لیے قبیلہ بنی سعد میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے سپرد فرمایا، مگر قلبی تعلق، شفقت اور ماں کی محبت ہمیشہ غالب رہی۔ تشیع کی روایات کے مطابق رسولِ خدا ﷺ کی تربیت ابتدا ہی سے اللہ تعالیٰ کی خصوصی حفاظت اور پاکیزہ خانوادے کے نورانی ماحول میں ہوئی۔ حضرت آمنہ سلامُ اللہ علیہا کی گود کو نبی ﷺ کی اخلاقی و روحانی پرورش کا اصل مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں ماں کی طہارت، ایمان اور فطری حکمت نے آپ کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔ قبیلہ بنی سعد میں رضاعت کا مرحلہ عرب معاشرتی روایت کے مطابق تسلیم کیا جاتا ہے، تاہم تشیع کے نزدیک اس کا تعلق زیادہ تر جسمانی صحت، فصاحتِ زبان اور دیہی ماحول سے تھا، جبکہ اصل روحانی تربیت، قلبی وابستگی اور معنوی نشوونما مسلسل والدۂ محترمہ اور الٰہی نگرانی کے زیرِ سایہ برقرار رہی۔ اسی بنا پر تشیع کے مطابق رسولِ اکرم ﷺ بچپن ہی سے عصمت، رحمت اور کمالِ انسانیت کے کامل مظہر تھے۔

مدینہ کا سفر:

حضرت آمنہ سلامُ اللہ علیہا اپنے فرزند حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ تشریف لے گئیں تاکہ اپنے شوہر کے مزار کی زیارت کریں اور ننہال بنی النجار سے ملاقات ہو۔ یہ سفر محبت، یاد اور وفا کی ایک خاموش داستان تھا۔

وصال:

مدینہ منورہ سے واپسی پر مقام ابواء میں حضرت آمنہ سلامُ اللہ علیہا کا وصال ہوا۔ اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کمسن تھے۔ یوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماں کی شفقت سے بھی محرومی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا، مگر یہ سب اللہ تعالیٰ کی عظیم حکمت کا حصہ تھا۔

شان و مقام:

حضرت آمنہ بنتِ وہب سلامُ اللہ علیہا وہ مقدس ہستی ہیں جن کی گود میں رحمۃٌ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنکھ کھولی۔ آپ کی ذات ایمان، صبر، وقار، طہارت اور انتخابِ الٰہی کی روشن مثال ہے۔ اہلِ سیر کے نزدیک آپ ان خوش نصیب خواتین میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تاریخِ انسانیت کے عظیم ترین منصب کے لیے منتخب فرمایا۔

حضرت آمنہ بنتِ وہب سلامُ اللہ علیہا کی بارگاہِ اقدس میں سلام، عقیدت، محبت، ادب اور احترام پیش کرنا ہر صاحبِ ایمان کے دل کی فطری آواز ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

تقسیمِ ہند ہجرت روحانی ورثہ اور قربانیوں کی داستان

گلزارِ جلالیہ | Gulzar-e-jalalia | Gulzar-e-jalaliya | Gulzar E Jalaliya

سید محبت علی اور سید حفیظ علی کی مکمل اولاد نسل در نسل تفصیل