حضرت سید علی المعید بخاری علیہ الرحمہ
قطب کمال حضرت سخی سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ
نام: سید جلال الدین
کنیت: ابو احمد
القاب: سرخ پوش، مخدوم اعظم، جلال گنج، میر سرخ، شیر شاہ، قطب الاقطاب، سید الاولیا، پیر جلال، جلال اکبر، شرف اللہ، معجزہ گاہِ ازلی
نسب: امام علی النقی علیہ السلام کی نسلِ پاک سے، نسب نامہ امام حسین علیہ السلام سے ملتا ہے۔
نسبی سلسلہ
سید جلال الدین سرخ پوش بخاری بن سید علی المعید بن سید جعفر محمد حسین بن سید محمد بن سید محمود بن سید احمد بن سید عبداللہ بن سید علی اصغر بن سید جعفر بن امام علی نقی بن امام محمد تقی بن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن امام علی علیہ السلام
اہلِ بیتِ اطہار سے روحانی نسبت
حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ نہ صرف نسباً امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے بلکہ فکری، روحانی اور عملی طور پر بھی اہلِ بیتِ اطہار سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی تعلیمات میں محبتِ اہلِ بیت، احترامِ شہدائے کربلا اور اخلاقِ حسینی نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی خانقاہی تربیت میں صبر، ایثار، حق گوئی اور مظلوم کی حمایت کو بنیادی مقام حاصل تھا۔
ولادت و ابتدائی زندگی
تاریخ ولادت: 5 ذوالحجہ 595ھ (1199ء) مقام ولادت: بخارا (موجودہ ازبکستان) والد: سید علی المعید دادا: سید جعفر محمد حسین
ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی، اور سات سال کی عمر میں علوم و فنون میں کمال حاصل کر لیا۔ آپ کے روحانی کمالات بچپن ہی سے ظاہر ہونا شروع ہوگئے تھے۔
عہدِ خلافت اور سیاسی پس منظر
حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا زمانہ عباسی خلافت کے آخری عہد سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ کی ولادت کے وقت خلافتِ عباسیہ علمی و روحانی اعتبار سے قائم تھی، تاہم سیاسی اقتدار بتدریج کمزور ہو چکا تھا۔ آپ کی حیات کے دوران خلیفہ الناصر لدین اللہ، خلیفہ الظاہر، خلیفہ المستنصر اور خلیفہ المستعصم باللہ جیسے خلفاء کا دور آیا۔ اسی زمانے میں تاتاری یلغار، وسط ایشیا میں بدامنی اور برصغیر میں دہلی سلطنت کا قیام عمل میں آیا۔
اس غیر یقینی سیاسی ماحول میں صوفیاء کرام نے دینِ اسلام کی روحانی بنیادوں کو محفوظ رکھا اور عوام الناس کو ایمان، اخلاق اور معرفت سے جوڑے رکھا، جن میں حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
ہجرتیں اور روحانی سفر
پہلی ہجرت: 635ھ میں، پہلی زوجہ سیدہ فاطمہ بنت سید قاسم کی وفات کے بعد، اپنے دو بیٹوں علی اور جعفر کے ساتھ بخارا سے بھکر (پنجاب) ہجرت کی۔
دوسری ہجرت: بھکر سے کوچ کر کے اُوچ شریف میں سکونت اختیار کی اور دین اسلام کی اشاعت شروع کی۔
دیگر سفر: آپ نے سندھ، ملتان، لاہور، ٹھٹھہ، بنگال، دہلی، گجرات، اتر پردیش کے دیگر مشہور علاقوں میں کشمیر، حتیٰ کہ مکّہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ترکستان تک متعدد روحانی و تبلیغی سفر کیے۔
حیاتِ مبارکہ کا زمانی خاکہ (مختصر)
595ھ ولادت، بخارا، 602ھ6بیسھ تعلیم، تربیت اور روحانی کمالات 635ھ پہلی ہجرت، بخارا سے بھکر 640ھ کے بعد اُوچ شریف میں قیام، خانقاہ کا قیام 650ھ 680ھ برصغیر میں وسیع تبلیغی سفر 690ھ وصال، اُوچ شریف
ازدواجی زندگی اور اولاد
کل ازواج: 3
کل اولاد: 22 بیٹے، متعدد بیٹیاں
1. سیدہ فاطمہ بنت سید قاسم (بخارا): بیٹے: سید علی، سید جعفر
2. بی بی طاہرہ (زہرا) بنت سید بدرالدین بھاکری (بھکر): بیٹے: سید صدرالدین محمد غوث، سید بہاؤالدین محمد معصوم
3. سیدہ فاطمہ حبیبہ سعیدہ (دوسری بیٹی بدرالدین بھاکری): بیٹے: سید احمد کبیر (والدِ مخدوم جہانیاں جہاں گشت)
اہم خلفاء اور اولیاء سلسلہ
مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ، ابو محمد عبداللہ (برہان الدین قطبِ عالم) ؒ، شاہِ عالم گجراتی ؒ، بہاؤالدین محمد معصوم ؒ، صدرالدین محمد غوث ؒ، بابا شاہ جمال (لاہور) ؒ، سید پَلوان شاہ (کرم ایجنسی) ؒ، غازی بابا (وڈپگہ شریف، پشاور)
سلسلہ روحانیت
آپ سلسلہ سہروردیہ کے عظیم ترین قطب تھے اور جلالیہ شاخ کے بانی تھے۔ آپ چار یار (سہروردیہ اور چشتیہ کے چار بانی بزرگوں) میں سے ایک تھے:
حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ؒ، حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی ؒ، حضرت لال شہباز قلندر ؒ، حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری ؒ، یہاں چار یار سے مراد برصغیر میں سہروردیہ و چشتیہ سلاسل کے وہ چار عظیم روحانی ستون ہیں جنہوں نے تیرھویں صدی میں اسلام کی اخلاقی، روحانی اور سماجی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ اس اصطلاح کا استعمال صوفیانہ روایت میں بطورِ علامت کیا جاتا ہے۔
منصبِ قطبیت کی توضیح
تصوف کی اصطلاح میں قطب اُس کامل ولی کو کہا جاتا ہے جسے اپنے زمانے میں روحانی نظامِ عالم کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ قطبیت کوئی رسمی عہدہ نہیں بلکہ باطنی ذمہ داری ہے، جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو اہلِ تصوف نے اپنے عہد کا قطبِ کمال تسلیم کیا، جس کی دلیل آپ کا ہمہ گیر روحانی اثر، وسیع تبلیغی دائرہ اور بے شمار اولیاء و خلفاء کی تربیت ہے۔
جلالیہ شاخ کی خصوصیات
جلالیہ شاخ، سلسلہ سہروردیہ کی وہ روحانی جہت ہے جس میں جلال، غیرتِ ایمانی، حق گوئی اور دعوتِ دین کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس شاخ میں سالک کو باطنی مجاہدہ کے ساتھ ساتھ سماجی اصلاح اور دعوتِ حق کی ذمہ داری بھی سونپی جاتی ہے۔ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسی توازن کے ساتھ تصوف کو عوام الناس تک پہنچایا۔
معجزات و ملاقاتیں
● چنگیز خان کو اسلام کی دعوت دی۔
● شاہ دولہ شہید (بنگال) کو فتح کی دعا دی، جنہوں نے بنگال میں شہادت پائی۔
● نصیر الدین محمود (سلطان دہلی) نے اُوچ میں آپ کی زیارت کی۔
● لالہ/لالیشوری (کشمیر) کو آپ کے پوتے مخدوم جہانیاں کے ہاتھوں اسلام ملا۔
● مائی ہیر (ہیراں رانجھا) کے والد سید احمد کبیر کے مرید چُوچک سیال کی بیٹی تھیں۔
معجزات، واقعات اور ائمۂ اہلِ بیتؑ سے منسوب ولائی آثار
اہلِ بیتؑ کی پیروی اور حسینی نسبت کے تناظر میں ذیل میں بیان کیے گئے واقعات اور کرامات حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی نسلی، فکری اور اعتقادی وابستگی کو واضح کرتے ہیں۔ یہ واقعات اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی ولایت، ائمۂ بارہ گانہ کی پیروی، اور اولادِ علیؑ کو عطا ہونے والی نصرتِ الٰہی کے تناظر میں بیان کیے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد کسی صوفیانہ رنگ کو اجاگر کرنا نہیں بلکہ حسینی سادات کی ولائی شان، شجاعتِ ایمانی اور استقامتِ علوی کو نمایاں کرنا ہے۔
ہلاکوخان /تاتاری حکم رانوں کو دعوتِ اسلام
تاریخی و روایتی بیانات کے مطابق حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے تاتاری یلغار کے دور میں تاتاری حکم رانوں، بالخصوص ہلاکو خان کے عہد میں، اہلِ اقتدار کے سامنے دعوتِ اسلام اور حقِ اہلِ بیتؑ کا پیغام پیش کیا۔ آپ نے ظلم، قتلِ عام اور بے گناہوں کے خون ریزی کو واقعۂ کربلا اور شہادتِ امام حسین علیہ السلام کے تناظر میں واضح کرتے ہوئے عدلِ علوی اور معیارِ حق و باطل کو اہلِ بیتِ اطہارؑ کی تعلیمات کی روشنی میں بیان فرمایا۔ اگرچہ تاتاری حکم ران اسلام قبول نہ کر سکے، تاہم آپ کی حسینی جرأت، علوی استقامت اور اولادِ رسول ﷺ سے منسوب روحانی وقار کے سبب آپ کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا گیا۔ اہلِ تشیع اور سادات کی روایات میں اس واقعے کو اہلِ بیتؑ سے وابستہ نفوسِ قدسیہ کو حاصل خدائی تحفظ، حق گوئی اور بے خوف دعوتِ دین کی روشن مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
ہلاکو خان، منگول حکم ران اور چنگیز خان کا پوتا تھا، جس کا زمانہ تیرھویں صدی عیسوی اور ساتویں صدی ہجری سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی کے عہد میں 656ھ (1258ء) میں بغداد پر تباہ کن حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں خلیفہ المستعصم باللہ کی موت اور عباسی خلافت کا عملی خاتمہ واقع ہوا، امام جعفر صادق علیہ السلام کے عہد سے جو عباسی حکمران ساداتِ اہلِ بیتؑ، ان کی تعلیمات اور سنتِ اہلِ بیتؑ کے دشمن بنے رہے تھے، اس عہدِ تاتار میں بالآخر ان کے ظلم و استبداد کا خاتمہ ہو گیا۔ اسی مقام سے اہلِ بیتِ اطہارؑ اور ساداتِ کرام پر ایک نئے ظالمانہ دور کا آغاز ہوا۔ اگرچہ عباسی حکومت کا خاتمہ ہو چکا تھا، مگر عباسیوں کے زیرِ تربیت ترک غلاموں اور عسکری طبقات نے عالمِ اسلام پر غلبہ حاصل کر لیا۔ یہ وہ عناصر تھے جن کی فکری و سیاسی تربیت اہلِ بیتؑ کے احکام، تعلیمات اور سنت سے مخالفت کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ اس دور میں بظاہر اہلِ بیتؑ سے محبت کے دعوے عام نظر آتے ہیں، مگر عملی طور پر اہلِ بیتؑ کے احکام و سنت کا مکمل انکار، انہیں جھٹلانا، اور ان پر عمل کرنے والوں کو معاشرے میں موردِ الزام ٹھہرانا ایک منظم روش بن گئی۔ سنتِ اہلِ بیتؑ پر کاربند افراد کے خلاف علمی دائرہ تنگ کیا گیا، ان سے دشمنی کو فروغ دیا گیا، حتیٰ کہ بعض ادوار میں تکفیر کے نعروں تک کا آغاز اسی ماحول میں شدت اختیار کرتا گیا یوں اگرچہ عباسی سلطنت ختم ہو گئی، مگر اہلِ بیتؑ سے عداوت اور ظلم کی وہی روش ایک فکری و سیاسی وراثت کی صورت میں باقی رہی، جس کے اثرات آج بھی تکفیری سوچ اور سنتِ اہلِ بیتؑ سے انحراف کرنے والے گروہوں کے طرزِ عمل میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس پورے دور میں بقیدِ حیات تھے، اور شیعہ و سادات کی روایات میں یہ ذکر ملتا ہے کہ آپ نے تاتاری دور کے اہلِ اقتدار، بالخصوص ہلاکو خان کے عہد میں، حقِ اہلِ بیتؑ اور عدلِ علوی کا پیغام پیش کیا۔ ان ہی روایات کے مطابق ہلاکو خان اگرچہ اسلام میں داخل نہ ہوا، تاہم اس کے طرزِ عمل میں اہلِ بیتِ اطہارؑ سے منسوب شخصیات کے لیے بعض مواقع پر نرمی اور احترام کا عنصر پایا جاتا تھا، جس پر خواجہ نصیرالدین طوسیؒ جیسے شیعہ علما و مفکرین کے فکری و اخلاقی اثرات کو بھی سبب قرار دیا جاتا ہے اہلِ تشیع کے نزدیک یہ نرمی اعتقادی ہم آہنگی نہیں بلکہ اہلِ بیتؑ کے علمی وزن اور طوسیؒ کے فکری اثر کا نتیجہ تھی۔ یہ تمام بیانات شیعہ تذکروں اور سادات کی منقول روایات میں محفوظ ہیں، جن کا مقصد اس عہدِ فتن میں اولادِ رسول ﷺ کی جرأتِ ایمانی، حق گوئی اور اہلِ بیتؑ سے وابستگی کو نمایاں کرنا ہے۔
آگ کا امتحان اور سیادت کا اثبات حضرت لال شہباز قلندرؒ کے ساتھ واقعہ
روایات میں مذکور ہے کہ بعض اوقات حکمرانوں یا مخالفین کی جانب سے آپ کی سیادت اور فاطمی نسبت کو آزمانے کے لیے آگ میں داخل ہونے کی شرط رکھی گئی۔ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ امتحان اللہ، رسول ﷺ اور اہلِ بیتؑ پر کامل یقین کے ساتھ قبول کیا۔ روایت کے مطابق آگ نے آپ کو نقصان نہ پہنچایا، جو اولادِ فاطمہؑ کے لیے عطا کی گئی حفاظتِ ربانی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
روایت ہے کہ حضرت لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد تین ماہ تک حرمِ مکہ میں قیام پذیر رہے۔ اس کے بعد دونوں بزرگ دینِ اسلام کی تبلیغ، حصولِ علم اور اولیائے کرام کی زیارت کی نیت سے دنیا کے مختلف علاقوں کی طرف سفر پر روانہ ہوئے اسی سفر کے دوران وہ عراق پہنچے وہاں سے آگے روانہ ہوتے وقت دونوں بزرگ سرخ رنگ کا لباس زیبِ تن کیے ہوئے تھے، سرخ ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھوں میں سرخ چمکدار پتھروں سے بنی ہوئی طویل تسبیحیں تھیں، جن پر وہ مسلسل ذکرِ الٰہی میں مشغول تھے جب وہ بخارا کی سرحد پر پہنچے تو سرحدی محافظوں نے انہیں دیکھا سرخ لباس اور غیر معمولی شان و وقار کی وجہ سے وہ انہیں مشکوک سمجھ بیٹھے چنانچہ انہیں روک لیا گیا اور پوچھا گیا :تم کون ہو اور یہاں کس مقصد سے آئے ہو؟
حضرت لعل شہباز قلندرؒ اور حضرت سید جلال الدین سرخ بخاریؒ نے فرمایا :ہم سید ہیں اور علم کی تلاش میں نکلے ہیں سنا ہے کہ بخارا علم و فضل کا مرکز ہے، ہم یہاں کے علما اور فضلا سے فیض حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے سوا ہماری کوئی اور غرض نہیں ہمیں علما تک پہنچا دیا جائے۔
لیکن سرحدی محافظوں نے انہیں علما کے پاس لے جانے کے بجائے بخارا کے حاکم کے دربار میں پیش کر دیا۔
حاکمِ بخارا نے ان دونوں بزرگوں سے پوچھا :تم کون لوگ ہو اور یہاں کیوں آئے ہو؟
انہوں نے فرمایا :ہم سید زادے ہیں اور یہاں کے علما و مشائخ سے ملاقات کے لیے آئے ہیں۔
حاکم نے کہا :تمہارا یہ دعویٰ کہ تم سید ہو، اس کی کیا دلیل ہے؟
حضرت سید جلال الدین سرخ بخاریؒ نے فرمایا :ہمارا اقرار ہی ہماری دلیل ہے، اس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔
یہ سن کر حاکمِ بخارا بولا :یہاں بہت سے لوگ اپنی شان بڑھانے کے لیے خود کو سید کہتے ہیں، حالانکہ وہ سید نہیں ہوتے سید اور غیر سید میں کوئی فرق تو ہونا چاہیے، اور سید کو پرکھنے کا کوئی پیمانہ بھی ضرور ہونا چاہیے محض زبانی دعویٰ کیسے دلیل بن سکتا ہے؟
اس پر بزرگوں نے فرمایا :تمہارے نزدیک سید کو پرکھنے کا کیا طریقہ ہے؟
حاکم نے جواب دیا :میں نے سنا ہے کہ آگ کسی صورت بھی سید کو نقصان نہیں پہنچا سکتی اگر تم اس آزمائش پر پورے اتر جاؤ تو میں تمہیں سید مان لوں گا۔ یہ کہہ کر اس نے آگ کا الاؤ تیار کروانے کا حکم دیا۔
دونوں بزرگوں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور بارگاہِ الٰہی میں دعا کی :اے پروردگار! تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ کو گلزار بنا دیا تھا۔ آج تیرے محبوب نبی ﷺ کے نام لیواؤں کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ ہماری عزت و حرمت تیرے ہی ہاتھ میں ہے ہمیں اپنی رحمت سے سرخرو فرما اور اس نادان حاکم کو ہدایت عطا فرما۔
جب آگ کا دہکتا ہوا الاؤ تیار ہو گیا تو حاکم نے پوچھا :تم میں سے کون پہلے آگ میں جائے گا؟
یہ سن کر حضرت سید جلال الدین سرخ بخاریؒ نے فرمایا :میں آگ میں سے گزروں گا۔ اگر اللہ کا حکم ہوا تو آگ مجھ پر اثر نہیں کرے گی۔
حاکم نے کہا :تو پھر دیر کس بات کی ہے؟ آگ میں داخل ہو جاؤ۔
حضرت سید جلال الدین سرخ بخاریؒ نے اللہ کا نام لے کر دوڑتے ہوئے آگ میں چھلانگ لگا دی۔ مجمع پر سکتہ طاری ہو گیا۔ سب کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں جب انہوں نے دیکھا کہ آپ آگ کے الاؤ سے صحیح سلامت باہر نکل آئے اور بلند آواز سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا۔
آپ نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :یاد رکھو! انسان کمزور اور بے بس ہے کوئی بھی طاقت یا صلاحیت اللہ کی مرضی کے بغیر ظاہر نہیں ہو سکتی۔ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے، میرا کوئی کمال نہیں۔
یہ منظر دیکھ کر حاکمِ بخارا کانپ اٹھا فوراً تخت سے اتر آیا، دونوں بزرگوں کے قدموں میں گر گیا اور معافی مانگی اپنی گستاخی کے کفارے کے طور پر اس نے اپنی بیٹی کا نکاح حضرت سید جلال الدین سرخ بخاریؒ سے کر دیا۔
اس واقعے کے بعد حضرت لعل شہباز قلندرؒ اور حضرت سید جلال الدین سرخ بخاریؒ نے کچھ عرصہ بخارا میں قیام کیا، وہاں کے علما و مشائخ سے ملاقاتیں کیں اور روحانی و علمی فیض حاصل کیا۔ یہی وجہ تھی کہ بعد کے ادوار میں تشیع کے اندر عزاداری کی بعض ایسی صورتیں شامل ہو گئیں جن میں آگ کا ماتم جیسی رسومات بھی نظر آتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ کوئی مستقل دینی عمل نہیں تھا بلکہ مخصوص حالات میں بزرگوں کی ایک مجبوری اور وقتی آزمائش تھی، جسے بعد میں لوگوں نے غلط فہمی کی بنا پر رسم کی شکل دے دی۔
آلِ امیر کی زبانی روایات
اس کے ساتھ ساتھ آلِ امیر، یعنی سید امیر علیؒ کی اولاد سے زبانی روایات میں یہ بات بھی ملتی ہے کہ اس خاندان کے بعض بزرگ ایسے گزرے ہیں جن پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا بیان کیا جاتا ہے کہ جب وہ حضرات رات کے وقت تنہائی میں عبادت میں مشغول ہوتے تو ان کی کیفیت عام انسانوں سے بالکل مختلف ہوتی۔ بعض روایات کے مطابق ان کے جسم کے حصے الگ الگ ہو کر مختلف مقامات پر عبادت میں مصروف ہو جاتے تھے۔ یہ سب کیفیات ان بزرگوں کی روحانی عظمت، مجاہدۂ نفس اور اللہ تعالیٰ سے غیر معمولی قرب کی علامت کے طور پر بیان کی جاتی ہیں۔ یہ تمام واقعات زبانی روایات میں محفوظ چلے آ رہے ہیں، جنہیں خاندان کے بزرگ بطور کرامت اور روحانی مقام کے اظہار کے طور پر بیان کرتے رہے ہیں، نہ کہ عام انسانوں کے لیے کسی عمل یا رسم کے طور پر۔
روضۂ رسول ﷺ پر ولایتِ اہلِ بیتؑ کا اظہار
روایات میں ذکر آتا ہے کہ حرمِ نبوی ﷺ میں حاضری کے دوران حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سیادت اور نسبتِ اہلِ بیتؑ کے اثبات میں غیر معمولی کیفیت کا اظہار فرمایا۔ بعض بیانات کے مطابق متولیانِ حرم کے سامنے آپ نے اللہ کے حکم سے ایسے آثار ظاہر کیے جن سے یہ واضح ہوا کہ اولادِ رسول ﷺ کو اللہ کی خاص حفاظت حاصل ہے۔ یہ واقعہ ولایتِ اہلِ بیتؑ اور شرافتِ نسب کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
امام حسینؑ اور شہدائے کربلا سے دائمی گریہ و غم
یہ بات متعدد روایات اور خاندانی بیانات میں محفوظ ہے کہ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ساری زندگی امام حسینؑ، اہلِ بیتؑ اور شہدائے کربلا کے غم میں گریہ فرمایا اسی نسبت سے آپ نے سرخ لباس اختیار فرمایا، جو خونِ حسینؑ کی یاد اور مظلومیتِ کربلا کی علامت سمجھا جاتا ہے یہ عمل آپ کے فکری میلان اور حسینی وفاداری کو واضح کرتا ہے۔
غیر مسلم قبائل کو اسلام کی طرف دعوت
حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ہندوستان اور سندھ کے متعدد غیر مسلم قبائل کو اسلام قبول کروایا آپ کی دعوت کا مرکز اہلِ بیتؑ کی محبت، عدلِ علوی اور سیرتِ حسینی تھا، جس نے مقامی قبائل کے دلوں کو متاثر کیا اور وہ رضاکارانہ طور پر اسلام میں داخل ہوئے یہ عمل اہلِ بیتؑ کے اخلاقی پیغام کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ تمام واقعات حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی حسینی سیادت، ائمۂ اہلِ بیتؑ کی پیروی، اور ولایتِ علوی کے مظاہر ہیں۔ انہیں تصوف یا خانقاہی روایت تک محدود کرنا درست نہیں، بلکہ یہ اولادِ رسول ﷺ کو عطا ہونے والی وہ روحانی شان ہے جو تاریخِ اسلام میں متعدد مقامات پر ظاہر ہوئی۔
علمی و تبلیغی کارنامے
● سندھ، جنوبی پنجاب اور بنگال میں لاکھوں لوگوں کو اسلام میں داخل کیا۔
● سمو، سیال، چدھر، دھاڑ، وارڑ، وٹو، راجپوت قبائل آپ کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوئے۔
● اُوچ شریف میں دینی درسگاہ اور خانقاہ قائم کی۔
● ترکستان، بخارا، ہندوستان، گجرات، لاہور اور دہلی میں لاکھوں مریدین تیار کیے۔
طریقۂ تبلیغ
حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اسلوبِ تبلیغ جبر یا مناظرانہ طرز پر مبنی نہیں تھا، بلکہ حکمت، اخلاق، خدمتِ خلق اور روحانی تاثیر پر قائم چودہ معصومینؑ کی تعلیمات پر اصولی طریقے سے عمل پیرا ہوناتھا۔ آپ مقامی زبان، ثقافت اور سماجی اقدار کو سمجھ کر دعوت دیتے، جس کے باعث غیر مسلم قبائل آپ کے اخلاق اور کردار سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرتے تھے۔ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی تبلیغ کا سب سے بڑا اثر معاشرتی اصلاح کی صورت میں ظاہر ہوا۔ قبائلی معاشروں میں عدل، امانت، اخلاق اور باہمی احترام کو فروغ ملا۔ ذات پات، ظلم اور جاہلیت کے کئی مظاہر ختم ہوئے اور اسلامی معاشرت کی بنیاد مضبوط ہوئی جو اس وقت عباسی فرقوں سے پاک، دُور، محفوظ اور ان سے بالاتر تھا۔
خانقاہی نظام اور تربیت
اُوچ شریف میں قائم خانقاہ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی مشن کا مرکز تھی۔ یہاں قرآن، حدیث، فقہ، اور اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی تھی۔ مسافروں کی خدمت، فقراء کی کفالت، اور اہلِ علم کی سرپرستی خانقاہ کے بنیادی اصول تھے۔ اسی نظام کے ذریعے آپ نے ایسے خلفاء تیار کیے جو بعد میں مختلف خطوں میں دین کی اشاعت کا ذریعہ بنے۔
فقہی وابستگی
حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ فقہی اعتبار سے اہلِ بیت ہی کی تعلیم و سنت پر عمل پیرہ رہے آپ کا تعلق کسی ایسے شخص کی پیروی سے نہ تھا کے جو چودہ معصومین اطہار میں سے نہ تھے، جبکہ روحانی طور پر سلسلہ سہروردیہ سے وابستہ تھے آپ کی تعلیمات میں شریعت اور طریقت کا حسین امتزاج نمایاں تھا، جس نے عوام و خواص دونوں کو متاثر کیا۔
وصال
تاریخ وصال: 19 جمادی الاول 690ھ (بیس مئی 1291ء)
عمر: 95 سال
مدفن: ابتدا میں سونک بیلہ (نزدیک اُوچ)، بعد ازاں تین مرتبہ منتقل کیا گیا:
1. پہلی بار سیلاب سے بچانے کے لیے اُوچ میں منتقل کیا گیا۔
2. 1027ھ میں مخدوم حمید نے دوبارہ تدفین کی اور پختہ عمارت بنوائی۔
3. 1670ء میں نواب بہاول خان دوم نے دوبارہ تعمیر کرائی۔
وصال کے بعد روحانی فیضان
حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد بھی آپ کا روحانی فیضان منقطع نہیں ہوا آپ کے خلفاء اور اولاد کے ذریعے یہ سلسلہ برصغیر، وسط ایشیا اور عرب دنیا تک پھیلتا رہا، اور آج بھی آپ کا مزار اُوچ شریف میں اہلِ عقیدت کے لیے مرکزِ فیض ہے۔
مزار اقدس
● مقام: اُوچ شریف، پنجاب
● طرزِ تعمیر: مغل، سندھی، بخاری
● تزئین: نیلے کاشی کاری، لکڑی کے ستون، عظیم مسجد
● UNESCO کی tentative heritage list میں شامل
مستند مآخذ، حوالہ جات اور تحقیقی منابع: اس تحریر میں پیش کردہ تمام معلومات مستند، تحقیقی اور تاریخی اعتبار سے معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ بالخصوص، درج ذیل کتابی تصانیف اور روحانی مراجع کو بنیاد بنایا گیا ہے: مراۃِ جلالی اور مزہرِ جلالی جیسی مستند تصانیف جو سادات کرام کے روحانی، تاریخی اور نسبی پس منظر کو اجاگر کرتی ہیں؛ مناقبِ قطبی اور ظہورِ قطبی، جن میں ساداتِ کرام، اولیاء اللہ اور قطب الاقطاب کی سیرت و کرامات کو مستند انداز میں بیان کیا گیا ہے؛ سیر العارفین اور سیر الاخیار جیسی تذکرہ نویسی کی اہم کتابیں جو صوفیاء کرام کی سوانح، تعلیمات، اور تبلیغی سفر کی تفصیلات بیان کرتی ہیں؛ تذکرۃ الاولیا اور تذکرہ اولیاء اُوچ شریف (مرتبہ سیّد فہیم کاظمی چشتی اجمیری) جن میں بالخصوص اُوچ شریف کے بزرگانِ دین اور ان کے روحانی فیوض و برکات کا تذکرہ موجود ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، مخدومِ اعظم مخدوم جہانیاں جہاں گشت کی اصل تصانیف، خطوط، ملفوظات اور مرازعاتِ جہاں گشت جیسے نایاب مآخذ سے بھی استفادہ کیا گیا ہے، جو نہ صرف اُن کی علمی عظمت بلکہ روحانی اثر پذیری کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاریخِ اُوچ جیسی علاقائی تاریخ پر مشتمل کتاب نے اُوچ شریف کی عظمت، صوفیاء کی موجودگی، اور سادات کے اثرات کو تاریخی ربط کے ساتھ پیش کیا۔
علاوہ ازیں، مزاراتِ صوفیاء جیسی کتب میں محفوظ معلومات، دائرۂ امیر کے سلسلہ وار ریکارڈ، اور ساداتِ المحاذ کے دستاویزی خزانے اس تحقیقی سلسلے کا اہم حصہ رہے ہیں۔ ان مآخذ میں موجود نایاب روایات، نسب نامے، مشائخ کے فیوض، اور خانقاہی علوم کو نہایت احتیاط سے جمع اور محفوظ کیا گیا ہے۔
اس تحقیقی کام میں جہاں کتابی مواد سے استفادہ کیا گیا ہے، وہیں یونیسکو (UNESCO) کے تحت مکلی اور اُوچ شریف جیسےعالمی ورثے کی حامل مزارات و مقامات کے ریکارڈز، نقشہ جات، اور محفوظ کردہ تاریخی بیانات کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے، تاکہ کسی بھی حوالہ جاتی یا تحقیقی خلا کو باقی نہ رہنے دیا جائے۔
اہم خاندان اور مقامات
پاکستان میں اہم مقامات و خانوادے:
1. اُوچ شریف (اُوچ بخاریان): حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ کا اصل مرکز۔ یہاں اُن کا مزار مبارک واقع ہے۔ اُوچ شریف کو مکہ صغریٰ بھی کہا جاتا ہے۔
2. شاہ جمال، لاہور: لاہور میں تبلیغی مرکز۔ حضرت شاہ جمال بخاریؒ کی درگاہ، جو سرخ پوش بخاری خانوادے سے تعلق رکھتی ہے۔
3. نورکوٹ، ضلع سیالکوٹ (شاہ سلیم): ساداتِ بخاری کا قدیم علاقہ، جہاں خانوادہ بخاری کے بزرگ آباد ہوئے۔
4. بلوٹ شریف، ضلع اٹک: یہ مقام صوفی بزرگوں کا مسکن رہا ہے اور یہاں ساداتِ بخاری کی ایک روحانی شاخ آباد ہے۔
5. دریگ، ڈیرہ غازی خان (جام بخاری ناقوی): ناقوی نسب کے حامل سادات بخاری کا اہم مرکز، جہاں دین کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا گیا۔
6. کرم ایجنسی، اورکزئی، کوہاٹ، نوشہرہ، وڈپگہ شریف: ان قبائلی و سرحدی علاقوں میں ساداتِ بخاری کے مریدین اور اولاد نے دینی خدمات انجام دیں۔
7. گجرات: علمی و فقہی خانوادے، بخاری سادات کے تحت یہاں قائم ہوئے۔
8. سندھ کے علاقے: الا شریف، مٹیاری، ٹنڈو جہانیاں، نواب شاہ، میرپور خاص، حیدرآباد پکا قلعہ، دادو، سیہون شریف، یہ تمام علاقے بخاری سادات کے مبلغین، درویشوں، اور مشائخ سے منور رہے ہیں۔
9. حیدرآباد، پکا قلعہ: سید شاکر علی بن سید امیر علی کا خانوادہ آلِ امیر: یہ خانوادہ بھارت کے علاقوں فیروزآباد اور آگرہ میں آباد رہا، بعد ازاں ہجرت کر کے حیدرآباد سندھ کے تاریخی پکا قلعہ میں مقیم ہوا۔ ان کا تعلق ساداتِ بخاری کے روحانی و تبلیغی سلسلے سے ہے، جنہوں نے دین اسلام کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔
بھارت میں اہم مقامات و خانوادے:
1. اتر پردیش: آگرہ (ہینگ منڈی)، فیروزآباد، علی گڑھ، بریلی، مئو شریف، کانپور، جونپور، فتح پور، اعظم گڑھ اور بلرام پور سمیت متعدد علاقوں میں ساداتِ بخاری کی قدیم آبادیاں موجود رہیں۔ ان تمام علاقوں میں یہ خانوادے صدیوں سے مقیم رہے اور دینی، علمی، تبلیغی اور خانقاہی خدمات انجام دیتے رہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان ساداتِ بخاری میں سے زیادہ تر افراد شہنشاہ اکبر کے زمانے کے فوراً بعد مختلف علاقوں میں انفرادی طور پر آباد ہونا شروع ہوئے، اور انہی انفرادی طور پر آباد ہونے والوں کی نسلوں سے اتر پردیش اور اس کے اطراف میں متعدد چھوٹے چھوٹے خانوادے وجود میں آئے، جو بعد کے ادوار میں مقامی دینی، علمی اور سماجی زندگی کا حصہ بنتے چلے گئے ان تمام علاقوں میں ساداتِ بخاری کے خانوادے صدیوں سے مقیم ہیں اور دینِ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔
2. بہار: پٹنہ، گیا، و دیگر علاقوں میں ساداتِ بخاری نے قیام کیا اور مدارس، مساجد اور مزارات قائم کیے۔
3. بنگال: مرشد آباد، کلکتہ، و دیگر شہروں میں ساداتِ بخاری نے تبلیغ، تدریس اور قیادت انجام دی۔
4. مدھیہ پردیش: بھوپال، اندور و دیگر شہروں میں ساداتِ بخاری نے فقہی و علمی میدان میں خدمات انجام دیں۔
5. مہاراشٹرا: اورنگ آباد، ناندیڑ و دیگر علاقوں میں قدیم ہجرت شدہ سادات کے آثار موجود ہیں۔
6. دکن: حیدرآباد دکن میں نظامی ریاست کے دور میں ساداتِ بخاری نے عظیم علمی و عدالتی خدمات انجام دیں۔
7. راجستھان و گجرات: اجمیر، احمد آباد و دیگر شہروں میں بھی سرخ پوش سادات کے خانوادے موجود ہیں۔
8. پنجاب :جالندھر، ہوشیارپور اور اطراف کے علاقوں میں بھی ساداتِ نقوی بخاری کی قدیم آبادیاں ملتی ہیں، جہاں یہ خاندان تبلیغِ دین، علمی خدمات اور خانقاہی نظام کے ذریعے اثر انداز رہے۔
Comments
Post a Comment