حضرت بی بی فاطمہ الزہراء سیدہُ نساءِ العالمین سلامُ اللہ علیہا

 حضرت بی بی فاطمہ الزہراء سیدہُ نساءِ العالمین سلامُ اللہ علیہا

بنتِ رسولِ خدا ﷺ، سیدہُ نساءِ اہلِ جنت، امُّ ابیہا، صدیقہ، صدیقۂ کبریٰ، طاہرہ، مطہرہ، بتول، زکیہ، راضیہ، مرضیہ، محدثہ، معصومہ، مظلومہ، مغصوبہُ الحق، شہیدہ، کوثرِ نبوی، نورِ عینِ مصطفیٰ ﷺ، قرۃُ عینِ رسول ﷺ، زوجۂ امیرالمؤمنین علیؑ، مادرِ حسنینؑ، مادرِ ائمۂ اطہارؑ، حجتُ اللہ علی الحجج، سرُّ اللہ، اسمُ اللہِ الاعظم، سببِ بقاءِ نبوت، بابُ ولایت

حضرت بی بی فاطمہ الزہرا سلامُ اللہ علیہا، رسولِ اکرم ﷺ کی وہ واحد صاحبزادی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نبوت، امامت اور ولایت کے تسلسل کا مرکز بنایا۔ آپ سیدہ النساء العالمین، خاتونِ جنت، سیدہ صدیقہ، طاہرہ، زکیہ، مرضیہ، رضیہ جیسے عظیم القابات سے یاد کی جاتی ہیں۔ آپ نہ صرف نواسۂ رسول ﷺ کے سروں کا تاج ہیں بلکہ خود تُکڑأ رسول ہیں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی۔ یہ مقام کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔

آپ کی ولادت کے ساتھ ہی رسالت کو وہ تسلسل ملا جس نے قیامت تک حق و باطل میں فرق کو زندہ رکھا۔ بچپن ہی سے آپ نے شعبِ ابی طالب کی سختیاں دیکھیں، والدِ گرامی ﷺ پر ڈھائے گئے مظالم اپنی آنکھوں سے دیکھے، اور کم عمری میں ہی صبر، حوصلہ اور غیرتِ دینی کا وہ معیار قائم کیا جو تاریخ میں بے مثال ہے۔ آپ کی پوری زندگی زہد، عبادت، عفت، علم اور خدمتِ خلق کا عملی نمونہ رہی۔ گھر کی چکی پیسنا، بچوں کی پرورش، شوہرِ نامدار امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا ساتھ دینا، اور اس کے ساتھ ساتھ امت کی فکری و اخلاقی تربیت  یہ سب آپ کی سیرت کا حصہ ہیں۔

حضرت بی بی فاطمہ سلامُ اللہ علیہا سردارِ شبابِ اہلِ جنت حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہما السلام کی والدہ ہیں، اور اسی نسبت سے آپ کو مادرِ شبابِ جنت کہا جاتا ہے۔ آپ کی گود سے وہ ہستیاں اٹھیں جنہوں نے اسلام کو خونِ شہادت سے زندہ رکھا۔ آپ کا گھر وحی کا مرکز، ملائکہ کی آمد کا مقام، اور دعا و عبادت کا آسمانی نمونہ تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ آپ کا علم، حکمت اور خطبۂ فدک آج بھی اسلامی سیاسی و سماجی فکر کی بنیادوں میں شمار ہوتا ہے آپ کی مظلومیت بھی اتنی ہی واضح ہے جتنی آپ کی عظمت۔ رسولِ اکرم ﷺ کے وصال کے بعد آپ پر جو مصائب آئے، وہ تاریخِ اسلام کے سب سے دردناک ابواب میں سے ہیں۔ حقِ اور گھرِ نبوت کی حرمت کو پامال کرنا  ان سب کے باوجود آپ نے صبر کو ترک نہ کیا مگر حق پر خاموشی بھی اختیار نہ کی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی زندگی حق گوئی، استقامت اور مظلومیت کی زندہ دلیل بن گئی۔

رسولِ اکرم ﷺ کو آپ سے جو محبت تھی، وہ محض باپ بیٹی کا رشتہ نہیں بلکہ ایک الٰہی محبت تھی۔ نبی ﷺ آپ کے آنے پر کھڑے ہو جاتے، آپ کے ہاتھ چومتے، اور آپ کو اپنے مقام پر بٹھاتے۔ آپ واقعی رسول کی لاڈلی، عزیز ترین، اور دل کا چین تھیں۔ مؤرخین کے نزدیک حضرت بی بی فاطمہ سلامُ اللہ علیہا کی ذات وہ میزان ہے جس پر حق و باطل، وفا و جفا، اور نور و ظلمت کو پرکھا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تاریخِ اسلام میں حضرت بی بی فاطمہ الزہرا سلامُ اللہ علیہا نہ صرف ایک عظیم بیٹی، زوجہ اور ماں ہیں بلکہ کائناتی سطح پر حق کی نمائندہ، مظلوموں کی سردار، اور اہلِ بیت کی روح سمجھی جاتی ہیں  اور قیامت تک سمجھی جاتی رہیں گی۔

حضرت بی بی فاطمہ الزہرا سلامُ اللہ علیہا کا نکاح محض ایک زمینی عقد نہیں تھا بلکہ روایات کے مطابق یہ آسمانوں میں طے پایا ہوا الٰہی رشتہ تھا۔ جبرائیلِ امین علیہ السلام اللہ کے حکم سے رسولِ اکرم ﷺ کے پاس یہ پیغام لے کر آئے کہ فاطمہ کا نکاح علی سے کر دیا گیا ہے، اور اہلِ آسمان نے اس نکاح پر خوشی منائی۔ یہ وہ واحد نکاح ہے جس میں زمین نے آسمان کی پیروی کی، اور جسے خود رسولِ خدا ﷺ نے سادگی، تقویٰ اور روحانیت کی عملی مثال بنایا۔ اس نکاح سے یہ پیغام ملا کہ ازدواجی زندگی کی اصل بنیاد مال و جاہ نہیں بلکہ ایمان، اخلاق اور قربِ الٰہی ہے۔

حضرت بی بی فاطمہ سلامُ اللہ علیہا کی ولادت مبارکہ بیس جمادی الثانی، مکہ مکرمہ میں ہوئی، اور آپ کی شہادت تین جمادی الثانی کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی عمر مبارک مختصر تھی مگر حیاتِ طیبہ معنی، مقصد اور حق گوئی سے بھرپور تھی۔ آپ رسولِ اکرم ﷺ کے وصال کے بعد مسلسل رنج و غم میں رہیں، اور آپ کا رونا محض ذاتی غم نہیں بلکہ امت کی گمراہی، اہلِ بیت پر ہونے والے مظالم اور دین کے مستقبل کا نوحہ تھا۔ اسی غم کی شدت کے پیشِ نظر امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے آپ کے لیے بیتُ الاحزان قائم کیا، جہاں آپ تنہائی میں اللہ کے حضور گریہ و دعا کرتی تھیں۔

حضرت بی بی فاطمہ سلامُ اللہ علیہا کا خواتین کے لیے پیغام یہ تھا کہ عورت کی عظمت اس کی عفت، حیا، عبادت اور کردار میں ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ پردہ کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے، اور گھر کی ذمہ داری نبھانا سماجی پسماندگی نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت ہے۔ شوہروں کے لیے آپ کی سیرت یہ درس دیتی ہے کہ بیوی کے احترام، محبت اور عزت میں ہی گھر کی برکت ہے، جبکہ اولاد کے لیے آپ کا پیغام والدین کے ادب، خدمت اور اطاعت پر مبنی ہے۔ آپ خود رسولِ اکرم ﷺ کے سامنے اس قدر ادب سے کھڑی ہوتیں کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی آپ کی اولادِ اطہار وہ سرمایۂ الٰہی ہے جس نے اسلام کو دوام بخشا۔ آپ کے بچوں کے نام یہ ہیں:

حضرت امام حسن علیہ السلام، حضرت امام حسین علیہ السلام، حضرت زینب سلامُ اللہ علیہا، حضرت ام کلثوم سلامُ اللہ علیہا، حضرت رقیہ سلامُ اللہ علیہا، اور حضرت محسن علیہ السلام۔ یہی وہ گھرانہ ہے جسے نے اہلِ بیت کی طہارت کا مرکز قرار دیا، اور جس کی محبت کو اجرِ رسالت کہا گیا۔

حضرت بی بی فاطمہ الزہرا سلامُ اللہ علیہا کی زندگی ولادت سے شہادت تک صدق، مظلومیت، عبادت، علم اور ولایت کا مکمل دائرہ ہے۔ آپ نہ صرف رسولِ خدا ﷺ کی سب سے لاڈلی اور عزیز بیٹی تھیں بلکہ قیامت تک آنے والی عورتوں کے لیے زندہ معیار بھی ہیں۔ آپ کی خاموشی احتجاج ہے، آپ کا گریہ تاریخ ہے، اور آپ کی ذات حق و باطل کے درمیان ہمیشہ کے لیے حجت بن چکی ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

تقسیمِ ہند ہجرت روحانی ورثہ اور قربانیوں کی داستان

گلزارِ جلالیہ | Gulzar-e-jalalia | Gulzar-e-jalaliya | Gulzar E Jalaliya

سید محبت علی اور سید حفیظ علی کی مکمل اولاد نسل در نسل تفصیل