حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام امامِ مظلوم، والدِ امامِ مہدیؑ، نورِ سامرہ
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
امامِ مظلوم، ابو محمد، عسکری، زکی، صامت، نورِ سامرہ، والدِ امامِ مہدیؑ، حجّتِ خدا بر اہلِ زمانہ
حضرت امام حسن بن علی بن محمد علیہ السلام، اہل بیت علیہم السلام کے گیارہویں امام، علم، تقویٰ، زہد، اور مظلومیت کے عظیم نشان تھے۔ آپ کا مشہور لقب العسکری اس لیے ہے کیونکہ آپ کو عباسی خلفاء نے سامرہ کے محلہ عسکر میں جبراً مقیم رکھا، اور وہیں نظر بندی میں زندگی گزاری۔ اہلِ تشیع کے نزدیک آپ معصوم، منصوص من اللہ امام، اور حضرت امام محمد مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے والد ماجد ہیں، جو اہل تشیع کے بارہویں اور آخری امام ہیں، اور آخرالزمان میں ظہور فرمائیں گے۔
پیدائش: آپ کی ولادت 8 ربیع الثانی 232 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔
والد: امام علی نقی علیہ السلام
والدہ: سیدہ سلیل خاتون سلام اللہ علیہا، جو نہایت عبادت گزار، عارفہ، اور نیک سیرت خاتون تھیں۔
دورِ امامت
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے 254 ہجری میں اپنے والد امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت کے بعد منصبِ امامت سنبھالا۔ آپ کا دورِ امامت صرف چھ برس (254–260 ہجری) پر مشتمل ہے، جو شیعہ تاریخ کا سب سے کڑا اور سخت نگرانی والا دور تھا۔
القابات
عسکری، زکی، صامت، نقی، ابو محمد، خالص، طاہر، سراجُ آلِ محمد، نورُ العسکر، امامُ المظلومین، حجّتُ اللہ، ولیُّ اللہ
زوجہ
اہلِ تشیع کے مطابق آپ کی زوجہ محترمہ حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیہا تھیں، جو روم کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور بعد ازاں اسلام قبول کر کے اہل بیتؑ میں شامل ہوئیں۔
اولاد
امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند حضرت امام محمد بن الحسن المہدی علیہ السلام ہیں۔ آپ کی ولادت 15 شعبان 255 ہجری کو سامرہ میں ہوئی اور امام حسن عسکریؑ نے قریبی خواص و اصحاب کو ان کی ولادت کی گواہی دی۔
اہلِ تشیع اثنا عشری عقیدہ کے مطابق، یہی امام مہدی علیہ السلام بارہویں امام، امام منتظر، امام قائم، اور صاحب العصر والزمان ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے غیبت میں محفوظ رکھا ہے اور جو آخر الزمان میں ظہور فرمائیں گے تاکہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں، جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت امام محمد مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ولادت کو انتہائی راز داری میں رکھا۔
صرف منتخب اصحاب، خواتینِ اہلِ بیتؑ اور وکلا کو اس ولادت پر مطلع کیا گیا، تاکہ عباسی جاسوسی اس حقیقت تک نہ پہنچ سکے۔ یہی حکمتِ عملی بعد میں غیبتِ صغریٰ کی بنیاد بنی۔
وکالت کا آخری مرحلہ
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں وکالت اور توقیعات کا نظام اپنے عروج پر پہنچا۔ مختلف علاقوں میں وکلاء کے ذریعے عقائد، مالی امور اور شرعی مسائل کی رہنمائی کی جاتی رہی، تاکہ امام کی شہادت کے بعد شیعہ جماعت منظم رہے۔
اہم کردار
امام حسن عسکری علیہ السلام نے عباسیوں کے سخت ترین نگرانی، جبر اور قید و بند کے ماحول میں اہل بیتؑ کے پیغام کی حفاظت کی آپ نے شیعہ دنیا میں توقیعات (تحریری ہدایات) کے ذریعے وکلا اور نمایندوں سے رابطہ قائم رکھا۔
علمی طور پر آپ نے متعدد محدثین، فقہاء، اور علمائے اہل بیتؑ کی تربیت کی، اگرچہ شدید نگرانی میں تھے۔
عباسی نگرانی
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا زمانہ خصوصاً معتز، مہتدی اور معتمد عباسی کے ادوار پر محیط تھا۔ ان خلفاء نے امامؑ کو سامرہ میں عسکری محلہ کے اندر سخت نظر بندی میں رکھا، کیونکہ انہیں یہ اندیشہ تھا کہ اہلِ بیتؑ میں ایک ایسا فرزند پیدا ہوگا جو ظالم حکومتوں کا خاتمہ کرے گا۔
شہادت
آپ کی شہادت عباسی خلیفہ معتمد عباسی کے حکم سے زہر دیے جانے کے ذریعے ہوئی۔
تاریخِ شہادت: 8 ربیع الاول 260 ہجری
عمر مبارک: صرف 28 سال
مدفن: سامرہ (عراق) میں اپنے والد امام علی نقیؑ کے پہلو میں
شہادت کا پس منظر
امام حسن عسکری علیہ السلام کی بڑھتی ہوئی روحانی مرکزیت اور امام مہدیؑ کی ولادت کا خدشہ عباسی حکومت کے لیے ناقابلِ برداشت بن چکا تھا۔ اسی بنا پر معتمد عباسی کے حکم سے آپ کو زہر دیا گیا، جس کے نتیجے میں آپ کم عمری میں شہید ہو گئے۔
تاریخی مقام
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام وہ امام ہیں جنہوں نے امامت کو غیبت کے دور میں منتقل کرنے کی عملی تیاری کی۔ آپ کی قیادت کے بغیر غیبتِ صغریٰ ممکن نہ تھی۔ اسی لیے آپ کو امامت اور غیبت کے درمیان پل کہا جاتا ہے۔
حوالہ جات
الارشاد، شیخ مفید؛ کمالُ الدین و تمامُ النعمة، شیخ صدوق؛ بحارُ الانوار، علامہ مجلسی، جلد پچاس تا اکاون؛ کشفُ الغمہ، علی بن عیسیٰ اربلی؛ دلائلُ الامامہ، طبری شیعی؛ سیرُ اعلامِ النبلاء، امام ذہبی (اہلِ سنت)
Comments
Post a Comment