حضرت سید نظام الدین بخاری رحمۃ اللہ علیہ
حضرت سید نظام الدین بخاری رحمۃ اللہ علیہ
فرزندِ حضرت سید جلال الدین بن سید علم الدین بخاری رحمۃ
اللہ علیہ
حضرت سید نظام الدین بخاری رحمۃ
اللہ علیہ ساداتِ نقوی بخاری کے اُن جلیل القدر بزرگان میں شمار ہوتے ہیں جن کے
حالاتِ زندگی پر تفصیلی تذکرہ کم دستیاب ہے، تاہم خاندانی شجرہ جات اور قدیم نسبی
روایات میں آپ کا ذکر ایک ذمہ دار، باوقار اور خاندانی امانت کا امین بزرگ
کے طور پر محفوظ ہے آپ نے اپنی زندگی زیادہ تر اسی خاموش خدمت اور نسبی و دینی ذمہ
داری کے ساتھ بسر کی جو آپ کے والد، دادا اور اسلاف کی روایت چلی آ رہی تھی۔
نسب
آپ
کا تعلق ساداتِ حسینیہ، نقوی بخاریہ سے تھا اور آپ کا نسب حضرت امام علی نقی علیہ
السلام کے ذریعے حضرت امام حسین علیہ السلام تک پہنچتا ہے آپ کا نسبی تعارف درج ذیل ہے:
حضرت سید نظام الدین بن
حضرت سید جلال الدین بن سید علم الدین بخاری رحمۃ اللہ علیہم سلسلۂ
نسب تا امام علی نقیؑ و امام حسینؑ
عہد
اور خاندانی ذمہ داریاں
حضرت
سید نظام الدینؒ کے زمانے میں ساداتِ بخاریہ مختلف علاقوں میں آباد ہو چکے تھے اور
ان پر دینی، سماجی اور نسبی ذمہ داریاں عائد تھیں، جن میں شامل تھیں ساداتِ
خاندان کے معاملات کی نگرانی نسبِ اہلِ بیتؑ کی حفاظت خاندانی روایتِ دیانت، وقار اور
مذہبی شناخت کا تسلسل عوام میں باوقار اور غیر نمائشی دینی کردار
حضرت سید نظام الدینؒ نے یہ تمام
ذمہ داریاں کسی ظاہری شہرت کے بغیر نہایت سنجیدگی اور امانت کے ساتھ نبھائیں۔
اعتقادی
پس منظر تشّیع کا تدریجی ظہور
یہ وہی دور تھا جب بخاری سادات کے
علاقوں میں اہلِ بیتؑ سے وابستگی اور اثناعشری تشیع کا رنگ بتدریج نمایاں ہو رہا
تھا۔ اگرچہ اس زمانے میں یہ وابستگی زیادہ تر خاموش، علمی اور
نسبی وفاداری کی صورت میں تھی، تاہم واقعۂ کربلا اور مظلومیتِ اہلِ بیتؑ کو خاندانی روایت میں
مرکزی مقام حاصل تھا امامتِ ائمہؑ کا احترام اور ولائی شعور نسل در نسل منتقل ہو
رہا تھا اہلِ بیتؑ کی اخلاقی و نسبی سنت کو مقدم رکھا جاتا تھا۔
اولاد
اور ذمہ داریوں کی منتقلی
حضرت
سید نظام الدین بخاریؒ کے دو صاحبزادے تھے:
- حضرت سید صفی الدین بخاری
رحمۃ اللہ علیہ
- حضرت سید عمر بخاری رحمۃ اللہ
علیہ
قدیم خاندانی شجروں اور روایتی نسبی مصادر کے مطابق حضرت
سید عمر رحمۃ اللہ علیہ کے دو صاحبزادے تھے، جن کے ذریعے آپ کی نسل آگے بڑھی:
- حضرت
سید قطب شاہ رحمۃ اللہ علیہ
جن کا شمار ساداتِ بخاری کے اُن افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے دینی و سماجی خدمات کے ذریعے خاندانی وقار کو برقرار رکھا۔ - حضرت
سید عبدالجلیل شاہ رحمۃ اللہ علیہ جن کی
نسل اور خدمات بعض علاقوں میں علیحدہ شناخت کے ساتھ آگے چلیں اور ساداتِ
بخاری کے تسلسل میں اہم کردار ادا کیا۔
آپ
کے بعد خاندانی و دینی ذمہ داریاں حضرت سید صفی الدینؒ کو منتقل ہوا، جنہوں نے بعد
ازاں انہی ذمہ داریوں کو روحانی رنگ کے ساتھ آگے بڑھایا یہ منتقلی اس بات کی علامت
ہے کہ ساداتِ بخاریہ میں قیادت اہلیت،
تقویٰ اور خاندانی اعتماد سے منتقل ہوتی تھی۔
Comments
Post a Comment