سید اُمید علی ایک غیرمکمل مگر انمول داستانِ حیات

 سید اُمید علی ایک غیرمکمل مگر انمول داستانِ حیات

اس کتاب میں درج اکثر روایات، خصوصاً وہ جو طویل اور تفصیلی نوعیت کی ہیں، زیادہ تر سید اُمید علی سے منقول ہیں ان روایات کی تصدیق آپ کے دیگر بہن بھائیوں اولاد اور نسل کی جانب سے بھی ہوتی ہے، اور آپ کے اہلِ محلہ، آپ کے کارخانے کے اہلِ محلہ، آپ کے والد سید محبت علی کے اہلِ محلہ، آپ کے دوست احباب اور وہ تمام رشتہ دارخصوصاً پکا قلعہ، مولا علی قدم گاہ اور ہراآباد کے رہنے والے اس تصدیق میں بالخصوص شامل ہیں کیونکہ آپ نے اپنی زندگی میں خاندان کے دونوں طرف کے فقہی، سماجی، اور نسبی پہلوؤں کو براہِ راست دیکھا اور پرکھا تھا آپ کی حیات کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ آپ اور آپ کی اولاد اور آپ کے بھائی بیس10 تک ہندوستان کے بار بار سفر پر جاتے رہے ان سب میں سب سے زیادہ سفر اور رابطے خود آپ کے ہی رہے وہاں موجود عزیز و اقارب سے آپ کے تعلقات یہاں کے عزیزوں کی طرح ہی گہرے اور مستحکم تھے۔

کتاب کی نامکملی: ایک اجتماعی نقصان

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب آپ کی زندگی میں مکمل نہ ہو سکی اگر یہ تحریر مکمل ہو جاتی تو آج اس خاندان کو تاریخ کے حوالے سے کوئی الجھن یا تضاد باقی نہ رہتا یہ کتاب صرف ایک جلد پر مشتمل نہ ہوتی، بلکہ یہ عظیم ذخیرہ بن جاتی لیکن آپ کی زندگی مسلسل ایسے سخت حالات سے گزری کہ آپ کو اپنے علم، مشاہدات اور نسبی خزانے کو قلمبند کرنے کا وقت، ماحول اور سہولت ہی نہ ملی۔

ہجرت، غربت اور ذمہ داریوں کا بوجھ

آپ نے بچپن ہی میں ہجرت کا صدمہ اٹھایا، اپنے خاندان کے ساتھ دربدر کی زندگی گزاری، جوانی غربت میں دیکھی، اور پھر جیسے ہی حالات نے سنبھلنے کا موقع دیا، آپ نے اپنی توجہ مکمل طور پر ذریعہ معاش اور خاندانی کفالت پر مرکوز کر دی آپ نے کاروبار کی طرف قدم بڑھایا، اور آپ کے والد سید محبت علی کا انتقال ہو گیا نتیجتاً، آپ ہی کو پورے خاندان، اپنے بہن بھائیوں اور اپنی اولاد کا سب سے بڑا سہارا بننا پڑا۔

پکا قلعہ کا قضیہ  بیس سال کی قانونی جنگ

اسی اثنا میں ایک اور بڑا مسئلہ سامنے آ گیا آپ کے والد سید محبت علی کی جائیداد میں شامل ایک اہم حصہ پکا قلعہ، واقع جوتے سازی کا کارخانہ  جو تمام کارخانوں کا مرکز بن چکا تھا، اُس پر آپ کے تایا زاد بھائی نے دعویٰ کر دیا کہ یہ سید حفیظ علی کی ملکیت ہے جبکہ حقیقت میں یہ جائیداد آپ کے والد سید محبت علی کی تھی، اور ان کی اولاد ہی اس کی جائز وارث تھی خاندان میں سب سے بڑے اور سمجھ دار ہونے کی حیثیت سے یہ مقدمہ آپ، سید اُمید علی، نے لڑا یہ مقدمہ آپ کی زندگی کے بیس سال نگل گیا ان بیس برسوں میں آپ کا وقت عدالتوں اور کاغذی کارروائیوں میں گزرتا رہا کئی کئی دن اور راتیں عدالت میں گزارنا پڑتی تھیں بعض اوقات آپ کئی دن تک گھر بھی نہیں آ پاتے تھے یقیناً یہ بات قابلِ غور ہے کہ ایک طرف چچا زاد اور تایا زاد بھائیوں کے درمیان ایک مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت تھا، اور دوسری طرف سادات خاندان کی پرانی روایات اور تربیت اپنی جگہ قائم تھیں خاص طور پر رات کا کھانا سب افراد ایک ہی دسترخوان پر اکٹھے بیٹھ کر کھاتے تھے ایک بار ایسا ہوا کہ سید قمر علی کسی رنجش کے باعث کھانے پر نہ آئے، تو سید امید علی خود جا کر انہیں مناکر لائے، اور پھر سب نے مل کر کھانا کھایا  یہ واقعہ اس بات کا مظہر ہے کہ گزشتہ ادوار میں سادات گھرانوں میں اتحاد، رواداری اور بھائی چارے کی فضا آج کے دور کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہوا کرتی تھی۔

خاندان کی محنت اور تعلیمی خلا

اسی دوران، غربت کا ماحول بھی قائم رہا آپ کے بھائیوں نے اپنی اپنی گھریلو ذمہ داریاں سنبھالیں آپ کے بڑے بیٹے سید قدیر علی نے بھی اپنے کنبے کی ذمہ داری اٹھائی دوسرے بیٹے سید امیر علی بھائی کے شانہ بشانہ رہے  چچاؤں کے مشورے پر عمل کرتے، محنت کرتے، آپ کے مقدمے کے لیے مالی معاونت فراہم کرتے، گھر بھی چلاتے اور کارخانہ بھی دوبارہ شروع کیا جیسے ہی خاندان نے ترقی کی طرف قدم بڑھایا، تعلیم کو نظر انداز کر دیا گیا اگرچہ آپ کچھ تعلیم یافتہ تھے، اور آپ کے بھائی سید نیاز علی نے ماسٹرز کیا اور ایک سرکاری ملازمت اختیار کی، سید قمر علی کی اولاد بھی پڑھی لکھی لیکن آپ اور آپ کے بھائیوں کی اگلی نسلیں تعلیم سے محروم رہ گئیں یہی تعلیمی خلا نسب اور تاریخ کے تحریری کام میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا۔

آپ نے آخرکار وہ مقدمہ جیت لیا، آپ کے بہن بھائیوں نے یہ کہا تھا کہ بھائی، آپ یہ مقدمہ خود لڑ لیں اگر آپ کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ جائیداد آپ ہی کی ہوگی ہم اس سلسلے میں کسی قسم کی مالی معاونت نہیں کر سکتے، اس لیے تمام اخراجات اور ذمہ داری آپ خود برداشت کریں اور جائیداد اپنے پاس رکھیں ،لیکن اس وقت تک آپ کے بیس سال گزر چکے تھے، اور آپ کی نسلیں شادی کے مرحلے میں داخل ہو چکی تھیں جب عدالت، گھر، کارخانہ اور دیگر ذمہ داریوں سے کچھ فراغت ملی، تو اولاد کی شادیاں، نئی زندگی کے مسائل، اور معاشرتی الجھنیں آپ کی زندگی میں آ گئیں گھر اور کاروبار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا، اور تعلیم کی کمی نے وہ سب کچھ ممکن کر دیا جس سے بچنا ضروری تھا ان سب حالات کی وجہ سے خاندان کا دھیان نسب، علم اور تاریخ سے ہٹ گیا۔

اسی دوران آپ اپنی سب سے چھوٹی جوان بیٹی سیدہ ندا کے انتقال کے صدمے سے دوچار ہوئے اس کے بعد آپ نے اپنا بڑھاپا دنیاوی مسائل اور گھریلو الجھنوں میں گزارا پھر ایک حادثے میں آپ کی کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی، آپ کا آپریشن ہوا، تھوڑا بہتر ہوئے، لیکن پھر دوبارہ بیمار ہوئے اور رضائے الٰہی سے انتقال فرما گئے تین سال بعد آپ کی اہلیہ کا انتقال ہوا۔

آپ کی علمی دولت ضائع ہو گئی

کسی کو بھی آپ سے تفصیلی، مسلسل اور آرام دہ گفتگو کا موقع نہ مل سکا حتیٰ کہ آپ کی اپنی اولاد کو بھی نہیں اس کی ایک بڑی وجہ آپ کی سخت طبیعت اور غصے کا غیرمعمولی انداز تھا آپ کے سامنے آپ کے بہن بھائی، بیوی اور بچے تک یہ ہمت نہیں کرتے تھے کہ آپ کے کسی جملے کے بعد دوسرا سوال یا بات کر سکیں آپ کی زندگی نے آپ کو مہلت نہ دی، اور نہ ہی ایسا ماحول ملا کہ آپ وہ علم اور نسبی خزانہ جو آپ کے پاس تھا، اسے قلمبند کر سکتے ایک اور اہم رکاوٹ فقہی تناؤ بھی تھا یعنی شیعہ سنی شناخت کے حساس معاملات کیونکہ خاندان میں سب مل جل کر رہتے تھے، حتیٰ کہ کھانے بھی اکٹھے ہوتے تھے، لہٰذا کوئی ایسا تحریری کام جو کسی فرقے کو ناراض کرے، ممکن نہ تھا۔

فقہی شناخت اور خاموشی

آپ نے اپنے اور والد اور تایا کے آبائی فقہ کو بڑی حد تک چھپانے کی کوشش کی آپ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کی اولاد یا آپ کے بھائیوں کی نسل کو اس تبدیلی کا علم ہو آپ نے اپنی بریلوی سنی شناخت کو قائم کرنے کی غرض سے تاریخی تحریر کو روک دیا اگر کسی نے بہت اصرار کیا تو آپ بتا بھی دیتے تھے، لیکن یوں کہہ کر یہ سب پہلے ہمارے یہاں ہوتا تھا، پھر شیعوں نے شروع کر دیا، ہم نے چھوڑ دیا،اگر آپ نے تاریخ پر قلم اٹھایا ہوتا تو آپ کو ایک ماہرِ اَنساب تسلیم کیا جاتا آپ کے بعد خاندان میں اس علم کی محض ایک جھلک آپ کے بھائی سید نیاز علی میں پائی گئی، تاہم سید نیاز علی کی تعلیم تصوف کے زیرِ اثر آ گئی، جس کے باعث وہ علمِ اَنساب میں پوری طرح تسلسل قائم نہ رکھ سکے بعد ازاں سید اُمید علی کے پوتے، سید شاہ زیب علی نے اعلیٰ درجے کا علم حاصل کیا اور اپنے دادا، پردادا اور دیگر اجداد کی روایت کے مطابق اَنسابِ سادات کے علم میں گہری مہارت حاصل کی تاہم جو تاریخی و علمی سرمایہ سید اُمید علی کے ذہن میں محفوظ تھا، وہ مکمل طور پر منتقل نہ ہو سکا، اور بالآخر سید اُمید علی کا انتقال ہو گیا اسی بنا پر انساب و تاریخ کے معاملے میں سید اُمید علی کے پوتے سید شاہ زیب علی ماہر الانساب سادات ہیں اور ان کے علم کو فیصلہ کن اہمیت دی جاتی ہے، اور اب کسی بھی فریق کی بجائے سید شاہ زیب علی ہی کو مستند اور قابلِ اعتماد تسلیم کیا جاتا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ وہ واحد فرد ثابت ہوا جس نے نہ صرف اپنے نسب اور خاندانی تاریخ پر عبور حاصل کیا بلکہ ساداتِ نقوی کے نسب پر، دیگر سادات کے شجرہ جات، اور اسلامی تاریخ کے تمام فرقوں کے ساتھ ساتھ خلافت و امامت، اہلبیتؑ، آئمہ طاہرین، خلافتِ عباسیہ، خلافتِ اُمیہ تاریخی و نسبی پہلو پر غیرمعمولی عبور حاصل ہے وہ کثیر تعداد میں سادات کےکتب، شجرہ جات، اور نسبی دستاویزات کا مطالعہ کر چکے ہیں، اور نسب و تاریخ ان کا ایک تحقیقی شوق بن چکا ہے۔

مکمل نسل کی موجودہ صورتحال

سید محبت علی اور سید حفیظ علی کی نسل زیادہ تر حیدرآباد پکا قلعہ اور کراچی میں آباد ہےکراچی میں بسنے والے خاندان کے زیادہ تر افراد مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں یہ خاندان ہمیشہ سے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہا ہے چاہے اہلِ بیتؑ کے مقام و درجات میں کمی کرنے والے کسی بھی عقیدے سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا، نہ فکری طور پر، نہ عملی طور پر خاندان کے کچھ افراد آج بھی جوتوں کے کاروبار سے وابستہ ہیں، جو ان کی روایتی صنعت رہی ہے، جبکہ نئی نسل جدید تعلیم کے ساتھ آئی ٹی کے شعبے ، مارکیٹنگ، امپورٹ ایکسپورٹ، ای کامرس اور دفتری امور جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کر کے خدمات انجام دے رہی ہے جب کہ وہ دینی حلقوں سے وابستگی بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں، اور اپنے اپنے مکتب فکر سے فکری و عملی تعلق رکھتے  ہیں۔ 


Comments

Popular posts from this blog

تقسیمِ ہند ہجرت روحانی ورثہ اور قربانیوں کی داستان

گلزارِ جلالیہ | Gulzar-e-jalalia | Gulzar-e-jalaliya | Gulzar E Jalaliya

سید محبت علی اور سید حفیظ علی کی مکمل اولاد نسل در نسل تفصیل