حضرت سید جلال الدین حسین المعروف مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ

 حضرت سید جلال الدین حسین المعروف مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ

(شیخ الاسلام، سیاح عالم، فرزندِ حضرت سید احمد کبیر رحمۃ اللہ علیہ)

حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ کی فکری و اعتقادی بنیاد اہلِ بیتِ اطہارؑ کی ولایت، امامت اور حسینی فکر پر قائم تھی آپ اصلًا سلسلۂ سہروردیہ سے وابستہ تھے، اور قادریہ، چشتیہ اور کبرویہ سے بھی اجازت رکھتے تھے۔ ، قدیم نسَبی و تاریخی مصادر کے مطابق آپ کی اصل وابستگی اہلِ بیتؑ سے تھی واقعۂ کربلا، مظلومیتِ آلِ محمدؑ، اور امامتِ ائمہؑ آپ کی دینی فکر کے مرکزی اصول تھے آپ کے نزدیک تصوف شریعت و ولایتِ اہلِ بیتؑ کے تابع تھا ۔

نام و نسب

حضرت کا اسمِ گرامی سید جلال الدین حسین بخاری تھا، کنیت ابو عبداللہ اور عرف عام میں آپ کو مخدوم جہانیاں جہاں گشت، شیخ الاسلام، اور سیاحِ عالم کہا جاتا ہے آپ کا نام آپ کے جدِ اعلیٰ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نام پر رکھا گیا۔

آپ کا سلسلۂ نسب سترہ پشتوں کے ذریعے حضرت امام حسین علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ آپ خاندانِ ساداتِ نقوی بخاری سے تعلق رکھتے تھے اور آپ کے نسب کی تفصیل یوں ہے:

 سید جلال الدین جہانیاں جہاں گشت بن سید احمد کبیر بن سید جلال الدین سرخ پوش بن سید علی بن سید جعفر بن سید محمد بن سید محمود ... تا امام حسین علیہ السلام۔

ولادت و ابتدائی زندگی

آپ کی ولادت باسعادت 14 شعبان المعظم 707ھ مطابق 9 فروری 1308ء کو اوچ شریف (مدینۃ السادات، ضلع بہاولپور، پنجاب) میں ہوئی۔

 آپ کی پیشانی مبارک سے طفولیت ہی میں رشد و ہدایت کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ روایت ہے کہ آپ کے والد ماجد نے آپ کو پیدائش کے بعد حضرت شیخ جمال خنداں رو رحمۃ اللہ علیہ کے قدموں میں ڈال دیا، جنہوں نے فرمایا:

یہ فرزند دنیا میں اسی طرح چمکے گا جیسے آج کی شبِ برات روشن ہے۔

ازدواجی زندگی اور اولاد

ازواج

حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ کی ایک سے زائد ازواج تھیں، جن میں کم از کم تین کے بارے میں معتبر ذرائع میں ذکر موجود ہے۔ ان ازواج کا تعلق معروف سادات، علما یا روحانی خانوادوں سے تھا، تاکہ دین، علم اور روحانیت کا تسلسل قائم رہے۔

1. بی بی امۃ اللہ سادات خاندان کی خاتون، جن سے کئی صاحبزادے پیدا ہوئے۔

2. بی بی نجم النساء جن کا تعلق روحانی خانوادے سے تھا۔

3. ایک زوجہ کا تعلق دہلی کے ممتاز دینی خانوادے سے تھا (نام صراحت سے مذکور نہیں مگر تذکروں میں موجود ہے کہ دہلی قیام کے دوران نکاح ہوا)۔

صاحبزادگان 

حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ کے درج ذیل صاحبزادگان تھے، جن میں سے اکثر نے علمی، روحانی اور انتظامی خدمات سرانجام دیں:

1. حضرت مخدوم شیخ علاؤالدین علی بن سعد الحسینی

 بڑے عالمِ دین، فقہ، تفسیر، حدیث اور تصوف کے ماہر۔

 آپ ہی کے توسط سے کئی کتب کی تعلیم و اشاعت ہوئی۔

2. سید جلال الدین ثانی

 جنہوں نے سلسلہ جلالیہ کے تبلیغی و نسبی نظام کو آگے بڑھایا۔

3. سید یحییٰ الدین

 جن کے متعلق بعض تذکروں میں کشمیر، دہلی یا جھنگ سے منسلک روحانی خدمات کا ذکر آتا ہے۔

4. سید احمد الدین

 آپ کی نسل مختلف علاقوں میں پھیلی: خصوصاً بھکر، شورکوٹ اور ملتان کے اطراف۔

صاحبزادیاں 

حضرت کی بیٹیوں کے بارے میں کم تفصیلات دستیاب ہیں، تاہم مستند تذکروں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ:

1. کم از کم دو بیٹیاں تھیں جن کی شادیاں معروف سادات یا مشائخ خاندانوں میں ہوئیں۔

2. ایک بیٹی کی شادی حضرت شاہ میراں سیالوی خاندان میں ہوئی (شاہ جالندھری کی نسل میں)

3. دوسری بیٹی کا نکاح دہلی کے قاضی خاندان میں ہوا، جو بعد ازاں سادات کوہِ کھراج میں شمار ہوتے ہیں۔

نسلی تسلسل

حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ کی نسلِ پاک آج بھی برصغیر، خراسان، عراق، اور حجاز تک پھیلی ہوئی ہے:

ساداتِ جلالیہ

ساداتِ ناگویہ

ساداتِ دُکوہا (جالندھر)

ساداتِ شورکوٹ، جھنگ، ٹوبہ، اور بھکر

ساداتِ دہلی، یو پی، فیروزآباد، آگرہ، جونپور، گجرات، سندھ

حضرت جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان کا دینی و روحانی کردار ان کے بعد کئی صدیوں تک قائم رہا۔ ان کی اولاد نے علم، تبلیغ، تصوف، عرفان اور فقہ کی شاخوں میں نمایاں خدمات انجام دیں، اور ان کی اولاد کی کئی شاخیں آج بھی مشایخ ساداتِ کرام کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

تحصیلِ علم

ابتدائی تعلیم و تربیت اوچ شریف میں ہوئی علامہ قاضی بہاءالدین آپ کے پہلے استاد تھے بعد ازاں آپ ملتان منتقل ہوئے جہاں شیخ موسیٰ اور مولانا مجد الدین سے مزید علوم حاصل کیے  فقہ کی مشہور کتابیں ہدایہ اور قدوری آپ نے نہایت قلیل وقت میں مکمل کر لیں۔

تعلیم کے اعلیٰ مدارج کے لیے آپ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے جہاں آپ نے ساتوں قراءتیں حاصل کیں۔ پھر مدینہ منورہ میں مقیم ہو کر مشہور اساتذہ شیخ عبد اللہ یافعی اور شیخ عبد اللہ مطری سے علومِ شریعت، حدیث، فقہ اور تصوف میں کامل دسترس حاصل کی۔ خاص طور پر صحاح ستہ، عوارف المعارف اور دیگر کتب کا درس تہجد کے وقت لیا کرتے تھے۔

شیخ مطری نے آپ سے محبت کے جذبے کے تحت وہ نادر نسخہ بھی عنایت فرمایا جس پر حضرت شہاب الدین سہروردی کا مطالعہ ثبت تھا۔

بیعت و خلافت

ابتدائی بیعت آپ نے اپنے والد محترم حضرت سید احمد کبیر رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر کی۔ خرقۂ خلافت چچا حضرت محمد غوث سے حاصل کیا۔

 والد کے وصال کے بعد حضرت شیخ رکن الدین ابوالفتح ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے دست پر بیعت کی اور سلسلہ سہروردیہ میں خلافت و اجازت حاصل کی۔

آپ فرماتے تھے:

میں نے چودہ جلیل القدر بزرگوں سے خلافت و اجازت حاصل کی ہے۔

ان میں شامل تھے:

 حضرت نظام الدین اولیاء (عالمِ خواب میں)، شیخ قوام الدین، شیخ امام یافعی، شیخ عبد اللہ مطری، شیخ نجم الدین کبریٰ، حضرت خضر، سید احمد رفاعی، قطب عدن حضرت فقیمہ بصال، وغیرہ۔

حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ کے مختلف مشائخ سے بیعت و اجازت کے تذکرے کو قدیم علماء نے روحانی استفادہ اور علمی اجازت کے معنی میں لیا ہے، نہ کہ فقہی یا اعتقادی تقلید کے طور پر۔ آپ کی اصل شناخت ایک علوی، حسینی، اور امامی سید کی تھی، جنہوں نے اہلِ بیتؑ کی علمی و اخلاقی وراثت کو مختلف خطوں تک منتقل کیا۔

اس طرح حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت ایک ایسے بزرگ کی صورت میں سامنے آتی ہے جس میں نسبِ اہلِ بیتؑ، علمِ شریعت، اور باوقار روحانیت ایک ہی فکری دائرے میں جمع ہو گئے تھے۔

سیرت و خصائص

آپ اپنے وقت کے عالمِ باعمل، مجتہد تھے

دینِ مصطفیٰ ﷺ کی تبلیغ آپ کی زندگی کا نصب العین تھا

خدمتِ خلق، اشاعتِ شریعت، اور سُنّتِ اہلِ بیتؑ کی حقیقی روح آپ کی زندگی میں نمایاں تھی

آپ نے جنوب پنجاب، سندھ، گجرات، اور کاٹھیاواڑ میں ہزاروں غیر مسلموں کو دائرۂ اسلام میں داخل کیا

علمی مقام

آپ کو 188 علوم پر عبور حاصل تھا

آپ کے مشہور دروس میں قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر، مشکوٰۃ، مدارک، ہدایہ، قدوری، عوارف المعارف، قصیدہ لامیہ، رسالہ مکیہ وغیرہ شامل تھے

آپ کا حلقۂ درس ہمہ وقت طلبہ و طالبانِ حق سے بھرا رہتا تھا

سادگی، تواضع، حلم، اور علم کا جامع نمونہ تھے

عبادات و وظائف

پنج وقتہ نماز کے ساتھ ساتھ تہجد، اشراق، چاشت، صلاۃ التسبیح، صلاۃ الاوابین کا اہتمام کرتے

ذاتی کھانے سے گریز کرتے، اکثر احباب کے ساتھ کھاتے

شریعت کے سخت پابند، فرماتے:

 جب تک شریعت پر مضبوطی سے عمل نہ کیا جائے، حقیقت تک رسائی ممکن نہیں

سفرنامہ و لقب

آپ نے مکہ، مدینہ، یمن، دمشق، لبنان، تبریز، فارس، خراساں، نیشاپور، سمرقند، غزنین، دہلی، آگرہ، جونپور، ملتان، بھکر، الور، اور روہڑی سمیت درجنوں شہروں کا سفر کیا۔

 ان اسفار کا مقصد صرف دینِ اسلام کا پیغام پہنچانا تھا۔ ان عظیم خدمات کے سبب آپ کو جہانیاں جہاں گشت کے لقب سے دنیا جانتی ہے۔  آپ کے اسفار کی تفصیل سفرنامۂ جہانیاں جہاں گشت میں محفوظ ہے۔

بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں قبولیت

جب آپ مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو عرض کی السلام علیک یا جدّی جواب آیا  وعلیک السلام یا ولدی

 یہ بشارت آپ کی مقبولیتِ خاصہ کی دلیل ہے۔

ارشادات و اقوالِ زرین

1. جاہل صوفیوں سے بچو، وہ دین کے راہزن ہیں

2. علمِ لدنی کے لیے تقویٰ شرطِ اول ہے

3. ہر مسلمان پر علم، عمل سے پہلے لازم ہے

4. ولی اللہ صرف اللہ سے ڈرتا ہے 

حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کا بنیادی منہج یہ تھا کہ تصوف بغیر علم کے گمراہی کا سبب بن جاتا ہے، اور حقیقی باطنی علم تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ آپ جاہل صوفیانہ رویّوں پر تنقید فرماتے اور اس بات پر زور دیتے تھے کہ دین میں عمل سے پہلے علم لازم ہے۔

ماخوذ از: ملفوظاتِ جہانیاں، تذکرہ مخدوم جہانیاں جہاں گشت، سیر الاخیار، عوارف المعارف کے دروس

وصال و مزار

آپ کا وصال 10 ذوالحجہ 785ھ مطابق 2 فروری 1384ء بروز پیر عیدالاضحی کے دن ہوا۔

 آپ کا مزار مبارک اوچ شریف، تحصیل احمد پور شرقیہ، ضلع بہاولپور میں واقع ہے اور مرجعِ خلائق ہے۔ ہر سال آپ کا عرس مبارک روحانی عقیدت سے منایا جاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

تذکرہ اولیائے پاک و ہند، انسائیکلوپیڈیا اولیاء کرام (جلد 5)، یادگارِ سہروردیہ، تذکرہ مخدوم جہانیاں جہاں گشت، تذکرہ اولیائے پاکستان (جلد دوم)، سفرنامہ جہانیاں جہاں گشت۔


Comments

Popular posts from this blog

تقسیمِ ہند ہجرت روحانی ورثہ اور قربانیوں کی داستان

گلزارِ جلالیہ | Gulzar-e-jalalia | Gulzar-e-jalaliya | Gulzar E Jalaliya

سید محبت علی اور سید حفیظ علی کی مکمل اولاد نسل در نسل تفصیل