سید حفیظ علی بن سید نفیس علیؒ اور سید محبت علی بن سید نفیس علیؒ
سید حفیظ علی بن سید نفیس علیؒ اور سید محبت علی بن سید نفیس علیؒ
فیروز آباد سے آگرہ ہجرت رشتہ داروں کی سرپرستی
سید نفیس علی کے انتقال کے بعد، ان کے دونوں کمسن بیٹوں، سید حفیظ علی اور سید محبت علی، کو ان کے رشتہ داروں نے اپنی سرپرستی میں لے لیا، اگرچہ فیروز آباد میں ان کی وراثتی جاگیریں موجود تھیں، مگر کم سنی کی وجہ سے وہ وہاں قیام نہ کر سکے آگرہ میں، دونوں بھائی رشتہ داروں کی سرپرستی میں پروان چڑھےان کی پرورش اور دیکھ بھال کا زیادہ تر انتظام قریبی رشتہ داروں نے کیا۔
المعروف پھوپھی اماں، ایک غیرمعمولی روحانی شخصیت
المعروف پھوپھی اماں، جن کا اصل نام اب تاریخ کے صفحات میں گم ہو چکا ہے، فیروز آباد میں پیدا ہوئیں وہ سید عاشق علی کی صاحبزادی اور سید نفیس علی کی ہمشیرہ تھیں ایک ایسے خاندان میں آنکھ کھولی جہاں اہلِ بیتؑ سے والہانہ محبت، عقیدت، اور روحانیت کی روشنی نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔
فطرتاً دردمند، باوقار اور دینی شعور رکھنے والی یہ خاتون اُس وقت ایک غیرمعمولی کردار میں سامنے آئیں جب فرقہ واریت کی آگ میں اُن کے بھائی سید نفیس علی اور اُن کی اہلیہ کو شہید کر دیا گیا اس اندوهناک سانحے کے بعد جب اُن کے بھتیجے یتیم ہو گئے اور اُن کی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا، تو یہ پھوپھی اماں ہی تھیں جنہوں نے حالات کی پروا کیے بغیر بچوں کو راتوں رات فیروز آباد سے لے کر آگرہ کی جانب ہجرت کی۔
آگرہ پہنچنے پر اُن کے پاس نہ تو کوئی ٹھکانا تھا، نہ سہارے کے لیے کوئی قریبی ابتدا میں وہ اپنے دونوں بھتیجوں کے ہمراہ آگرہ کی کسی درگاہ کے احاطے میں مقیم ہوئیں یہ دینی و روحانی فضا اُن کے مزاج سے ہم آہنگ تھی کچھ ہی عرصے بعد، وہ رشتہ داروں کے پاس آگرہ کی ہینگ منڈی میں منتقل ہو گئیں، یہ اُن کے بھتیجوں کی نانی کا میکہ تھا تاہم، اُن کا قیام وہاں زیادہ دیر نہ رہا۔
فطری بےقراری اور روحانی وابستگی کے باعث پھوپھی اماں دوبارہ اُس درگاہ کی طرف لوٹ گئیں، جہاں پہلے پہل انہوں نے پناہ لی تھی اس بار ان کی ذات میں ایک واضح تبدیلی نظر آنے لگی اُن کے مزاج میں ایک ملنگانہ کیفیت ابھری، جو رفتہ رفتہ اُن کی مکمل شخصیت پر غالب آ گئی وہ دنیاداری، رشتہ داری، حتیٰ کہ اپنی ذمہ داریوں سے بھی مکمل طور پر کنارہ کش ہو گئیں، اور روحانیت میں مکمل طور پر ڈوب گئیں۔
خاندان میں ایک واقعہ آج بھی بڑے احترام سے بیان کیا جاتا ہے، جو اُن کی روحانی عظمت کا عکاس ہے کہا جاتا ہے کہ ایک روز درگاہ پر موجود ایک بزرگ، جو اُس وقت خود بھی صاحبِ حال، شیخ و مرشد کے درجے پر فائز تھے، پھوپھی اماں سے گفتگو میں مصروف ہوئے دورانِ گفتگو، پھوپھی اماں نے اُنہیں ایک مشروب ممکنہ طور پر دودھ، شربت یا چائے پیش کیا اور بڑے اصرار سے کہا:
میں چاہتی ہوں کہ آپ کی ملاقات ایک عظیم بزرگ سے ہو براہ کرم یہ مشروب نوش فرما لیجیے۔
جیسے ہی بزرگ نے مشروب نوش کیا، اُن پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہو گئی اُن کی آنکھیں بند ہو گئیں، جسم سکون میں آ گیا، اور وہ مراقبے کی حالت میں چلے گئے جب وہ کیفیت ختم ہوئی اور بزرگ نے ہوش میں آ کر لب کشائی کی، تو ان کا چہرہ نور سے دمک رہا تھا انہوں نے حاضرین کو بتایا:
میں نے اپنے روحانی تجربے میں حضرت خواجہ غریب نواز خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا وہ ایک بڑے سایہ دار درخت کے نیچے تشریف فرما تھے، اور اُن کے گرد کئی دیگر اولیائے کرام ذکرِ الٰہی میں مشغول تھے جبکہ وہاں ایسی شخصیات بھی موجود تھیں جو آپ سے بھی کافی زیادہ اُونچے درجے کی معلوم ہوتی تھیں، اور کچھ ایسے بھی تھے جو آپ ہی کے درجے کے، مگر کچھ الگ طرح کے لوگ معلوم ہوتے تھے۔
یہ سن کر پھوپھی اماں خاموشی سے مسکرا دیں گویا وہ جانتی تھیں کہ کیا ہونے والا ہے، اور اُن کا مقصد پورا ہو چکا تھا اس واقعے کے بعد، درگاہ کے حلقوں میں پھوپھی اماں کو ایک غیر معمولی، باکمال اور متبرک سیدہ خاتون کے طور پر جانا جانے لگا لیکن پھر کچھ ہی عرصے میں اُن کی شخصیت مکمل طور پر ملنگانہ قلندرانہ ہو گئی وہ دنیا و ما فیہا سے کٹ گئیں، کسی سے رابطہ نہ رکھا، اور ان کے بارے میں بعد ازاں کوئی خبر دستیاب نہ ہو سکی نہ اُن کی وفات کی تاریخ، نہ اُن کے دوبارہ اپنے بھتیجوں سے ملنے کا کوئی ذکر۔
مگر بیس23 میں سندھ کے ایک خاندان سے یہ معلومات حاصل ہوئی کہ سید نفیس علی کی وہ بہن بھی پاکستان آئیں تھی اپنے بھتیجوں اور شوہر کے ساتھ، اور ان کے شوہر اہلِ تصوف سے تعلق رکھتے تھے ممکنہ طور پر بخاری سید تھے ان کی صرف ایک اولاد، بیٹی تھی، اور وہ لوگ تقسیمِ ہند کے موقع پر راولپنڈی میں کسی مقام پر آباد ہوئے تھے جس کا علم سید امید علی کے بعد اور کسی کو نہ تھا، کیونکہ ان کی صرف ایک بیٹی تھی اور ان کی شادی بھی سادات میں ہوئی تھی اس سے زیادہ ان کے بارے میں اور معلومات نہیں ہیں بہر حال، آپ نے سادات کی ایک پوری نسل، اور اس نسل سے وابستہ کئی خانوادوں کی زندگیاں بچا کر اُنہیں مٹنے سے محفوظ رکھا یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ نے حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی سنت پر عمل کرتے ہوئے نسلِ سادات کو ظلم و ستم سے محفوظ رکھنے کا فریضہ انجام دیا اور تاریخ سے مٹنے سے بچایا۔
تاریخی مقامات سے وابستگی روحانی مراکز اور درگاہیں
جوانی میں قدم رکھتے ہی، سید حفیظ علی اور سید محبت علی اپنے جد سید شاکر علیؒ کی تاریخ اور روحانی ورثے سے دوبارہ جُڑنے لگے۔
جبکہ آگرہ، ہنگ منڈی اور وہاں سے ہجرت کر کے ساتھ آنے والے سادات خاندانوں کا ہمیشہ سے اور آج بھی دعویٰ یہ رہا ہے کہ دونوں بھائیوں نے پاکستان آ کر اثنا عشری سے بریلوی مکتب اختیار کیا بریلوی مکتبِ فکر میں آنے سے پہلے انہوں نے سلسلہ قادریہ میں بیعت کی تھی، پھر کچھ عرصے بعد وہ بریلوی مسلک سے منسلک ہو گئے۔ اس سب کے باوجود، آج تک ان کے محلے داروں اور دنیاِ فانی سے رخصت ہونے والے بزرگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ان میں اور ہم میں صرف اتنا سا فرق تھا کہ وہ ’غیر ماتمی تشیع‘ تھے اور ہم ’ماتمی تشیع‘ ہیں ایک پڑوسی سیدہ شیعہ خاتون کے بیٹے جعفری سید المعروف منا کا بھی یہی دعویٰ تھا وہ تمام خاندان، اور ان کی دوسری، تیسری اور چوتھی نسلیں آج بھی سید محبت علی کے گھر کے پڑوسی ہیں، جبکہ خود سید محبت علی کے گھر میں بھی ان کی اپنی دوسری، تیسری اور چوتھی نسل آباد ہے یہ سب لوگ کئی نسلوں سے ایک دوسرے کو بخوبی جانتے اور پہچانتے ہیں۔
اور حاجی سید حفیظ علی کے نواسے سید اصغر رضوی (صدرِ انجمن)، سید اکبر رضوی (نوحہ خوان قدم گاہ مولا علیؑ، حیدرآباد)، اور سید حیدر رضوی، نیز سید حفیظ علی کے داماد سید عابد رضوی بن سید شریف رضوی لکھنوی اور ان کے بڑے بھائی سید حامد رضوی بن سید شریف رضوی لکھنوی، اسی طرح سید محبت علی کے بیٹے سید اعجاز علی اور ان کا خاندان، سید امید علی اور ان کے بیٹوں سید قدیر علی اور سید ساجد علی، اور سید امید علی نقوی کے داماد سید عرفان علی نقوی بخاری سے بھی یہ بات زبانی اور روایتی طور پر ثابت ہے کے ان کے علاوہ ایک اور پڑوسی خاندان جو جعفری سادات کے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، یعنی سید منّا جعفری، جو اپنی والدہ کے ساتھ زندگی کے آخری وقت تک یہیں مقیم رہے آج بھی ان کی اولاد و نسل سید محبت علی کی اسی گلی میں آباد ہے، جبکہ ان کی دوسری والدہ سے ہونے والے چار بھائی کراچی (انچولی) میں اپنے اپنے خاندانوں کے ساتھ مستقل قیام پذیر ہیں ان کے والدین نے بھی اسی خاندان کے ساتھ ہجرت کی تھی یہ تمام خاندان سید محبت علی، سید امجد علی، سید شریف رضوی لکھنوی، سید محمد جعفری، اور سید محبت علی کے داماد سید شاہد علی جعفری نظامی اکبر آبادی ہجرت کے وقت سے ہی ایک دوسرے کے پڑوسی اور ساتھ رہائش پذیر رہے تمام مذکورہ افراد سے ہیرآباد والے سادات گھرانوں اور ان کے علاوہ سینکڑوں سادات خاندانوں سے یہ بات ثابت ہے کہ ایک وقت میں یہ سب تقیہ اختیار کر گئے تھے اور یہ سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا؛ بعد ازاں اکثر خاندانوں نے تقیہ ترک کر دیا جبکہ چند افراد صوفیانہ راہ کی طرف مائل ہو گئے جبکہ سید حفیظ علی اور سید محبت علی نے اپنی زندگی کے آخری ایام بریلویت کے حلقوں میں، تصوف کے دائرۂ کار کے تحت، ائمۂ اہلِ بیتؑ سے محبت و عقیدت کے ساتھ گزارے، اس کے باوجود ان کے گھر میں عزاداری کی رسومات کبھی ختم نہیں ہوئیں آج بھی سید حفیظ علی اور سید محبت علی کے اس گھر پر بھی علمِ عباسؑ نصب ہے، اور ان کی اولاد و نسل مکمل طور پر تشیع کے عقائد پر قائم ہے البتہ چند گھرانے مسلکِ بریلویت، قادریہ سے بھی وابستہ رہے ہیں۔
روحانی مراکز اور خانقاہی روایات سے ان کی گہری وابستگی تھی، اور وہ مختلف معروف درگاہوں اور روحانی اداروں سے فیض حاصل کرتے رہے تاریخی حوالوں کے مطابق:
● حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی درگاہ، دہلی روایات کے مطابق، سید امیر علیؒ کو اس درگاہ سے خصوصی وابستگی حاصل تھی۔
● آگرہ میں حضرت امیر علی ابوالعلائیؒ کی درگاہ آگرہ میں موجود سادات اور درگاہی سلسلے سے ان کا روحانی تعلق بھی پایا جاتا ہے۔
● خواجہ معین الدین چشتیؒ کی درگاہ، اجمیر سے بھی وابستگی رہی، اور درگاہ کے روحانی و انتظامی معاملات میں ان کا خصوصی دخل تھا۔
● حضرت حاجی علیؒ کی درگاہ، ممبئی وقتاً فوقتاً سادات کا یہ خانوادہ حاجی علی درگاہ سے بھی جُڑا رہا اور وہاں سے روحانی فیض حاصل کرتا رہا۔
● مزاراتِ شہیدِ ثالث، آگرہ حضرت قاضی نوراللہ شوشتریؒ سے منسوب ہے، جو اسلامی تاریخ میں شہیدِ ثالث کے لقب سے معروف ہیں آپ ایک عظیم شیعہ عالم، فقیہ اور متکلم تھے، جنہوں نے مغلیہ دور میں دینِ اسلام اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کے علمی دفاع میں نمایاں کردار ادا کیا حضرت قاضی نوراللہ شوشتریؒ نے دورِ اکبری میں مختلف عدالتی و علمی ذمہ داریاں انجام دیں اور بعد ازاں عہدِ جہانگیری میں اپنے عقائد اور علمی مؤقف کی بنا پر 1019ھ / 1610ء میں آگرہ میں شہید کر دیے گئے شہادت کے بعد آپ کو آگرہ ہی میں سپردِ خاک کیا گیا، اور وقت کے ساتھ آپ کی آخری آرام گاہ ایک باقاعدہ مزار کی صورت اختیار کر گئی یہ مزار آج بھی آگرہ میں شیعہ اور سنی دونوں طبقات کے لیے باعثِ عقیدت ہے، جہاں زائرین دعا، فاتحہ اور روحانی سکون کے لیے حاضر ہوتے ہیں روایات کے مطابق، ہجرت سے قبل سید امجد علی، سید حفیظ علی اور سید محبت علی اس مزار سے بھی عقیدت و وابستگی رکھتے تھے اور یہاں حاضری کو باعثِ برکت سمجھا جاتا تھا ہر سال آپ کی شہادت کی یاد میں خصوصی مذہبی اجتماعات اور مجالس منعقد کی جاتی ہیں، جن میں آپ کی علمی خدمات اور دینی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے یہ مزار تاریخی اعتبار سے بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ مغلیہ دور کے مذہبی تنوع، علمی اختلافات اور فکری جدوجہد کی ایک زندہ علامت سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں اس مزار کا انتظام وقف کے تحت انجام دیا جاتا ہے، اور یہ آگرہ کے نمایاں مذہبی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ سید محبت علی کا تاج محل کی انتظامیہ اور اس کی روحانی حیثیت میں بھی ایک اہم کردار کی جھلک ملتی ہے معلومات کے مطابق، تاج محل کے اندرونی معاملات میں سادات کو ایک خاص حیثیت حاصل تھی۔
معاشی ذرائع جوہری، سونار
اپنی دینی اور روحانی وابستگیوں کے ساتھ ساتھ، سید حفیظ علی اور سید محبت علی نے حلال روزی کمانے کو اپنا اصول بنایا اور مختلف کاروبار میں مشغول ہوئے۔
جوہری (سونار) کا کاروبار
ابتدائی طور پر، انہوں نے سونے اور چاندی کے زیورات کا کاروبار کیا، جو اس دور میں اہلِ ہنر کے درمیان ایک معروف پیشہ تھا تاہم، تقسیمِ ہند سے کچھ عرصہ پہلے،انہوں نے یہ کام ترک کر دیا کیونکہ ناپ تول میں معمولی سی غلطی کے امکان کو وہ اللہ کے دربار میں جواب دہی کا سبب سمجھتے تھے جبکہ ان کے رشتہ دار لکڑی کے کاروبار سے وابستہ تھے یہ آگرہ والے رشتہ دار اکثر ننھیال کی طرف کے رشتہ دار بتائے جاتے ہیں، تو خاندان میں یہ بات سننے میں آتی ہے کہ اکثر انہوں نے بھی اس کام سے استفادہ کیا ہوگا، مگر اس کی کوئی مضبوط شہادت موجود نہیں۔
تقسیمِ ہند ہجرت روحانی ورثہ اور قربانیوں کی داستان
تقسیمِ ہند کے دوران، آگرہ سے ایک بڑا قافلۂ ہجرت روانہ ہوا، جس میں اکثریت شیعہ سادات پر مشتمل تھی، جب کہ ان کے ساتھ چند صوفی سادات خاندان بھی شامل تھے خاندانی بزرگوں کی روایات کے مطابق یہ قافلہ تعداد کے اعتبار سے تقریباً ڈیڑھ ہزار افراد پر مشتمل تھا، جن میں بچے، بوڑھے، جوان اور خواتین سب شامل تھے، یہ قافلہ آگرہ سے روانہ ہوا اور حالات کی نزاکت اور وسائل کی کمی کے باعث اس نے مختلف انداز میں سفر کیا کہیں ریلوے کے ذریعے، کہیں پیدل اور بعض مقامات پر اونٹوں پر سوار ہو کر یہ قافلہ اپنی منزل کی جانب بڑھتا رہا طویل اور صبر آزما سفر کے بعد یہ قافلہ لاہور کے راستے پاکستان میں داخل ہوا۔
پاکستان میں داخلے کے بعد قافلے کی یکجائی آہستہ آہستہ مختلف مقامات پر منتشر ہونے لگی قافلے کے ایک بڑے حصے نے لاہور اور اس کے نواحی علاقوں میں سکونت اختیار کی، جب کہ ملتان میں بھی سادات کی ایک نمایاں تعداد آباد ہوئی اسی طرح راستے میں آنے والے چھوٹے شہروں اور قصبات میں بعض خاندان قدیم درگاہوں اور روحانی مراکز کے اطراف میں مقیم ہو گئے، جہاں انہیں مذہبی و روحانی وابستگی کا احساس میسر آیا۔
اس کے باوجود قافلے کا ایک حصہ مسلسل رواں رہا بعض سادات خاندان راولپنڈی میں مستقل طور پر آباد ہوئے، جب کہ آخرکار یہ قافلہ سندھ کے شہر حیدرآباد پہنچ کر ٹھہرا خاندانی روایات کے مطابق، حیدرآباد کے کچا قلعہ، پکا قلعہ اور ہیرآباد کے علاقوں میں آباد ہونے والے سادات کی ایک کثیر تعداد کا تعلق اسی تاریخی قافلے سے تھا۔
اسی قافلے کے ہمراہ سید حفیظ علی اور سید محبت علی نے بھی پاکستان کے صوبہ سندھ، حیدرآباد (پکا قلعہ) کی طرف ہجرت کی جبکہ ان کے بھائی سید امجد علی کراچی میں مقیم ہوئے تھے فیروزآباد اور آگرہ سے آنے والے کثیر تعداد میں شیعہ سادات نے بھی اسی سمت کا رخ کیا، کیونکہ یہ مقام حضرت مولا علیؑ کی قدم گاہ شریف کی موجودگی کے باعث سادات کے لیے سب سے زیادہ عقیدت اور روحانی کشش کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔
یہ ہجرت محض جغرافیائی نقل مکانی نہیں تھی بلکہ ایک روحانی ورثے، اعتقادی وابستگی اور عظیم قربانی کی داستان تھی، جس میں اہلِ بیتؑ سے عقیدت اور بالخصوص حضرت مولا علیؑ کی قدم گاہ شریف سے قلبی تعلق ایک بنیادی محرک کے طور پر نمایاں نظر آتا ہے۔
سید حفیظ علی کا حج اور سید محبت علی کی دین داری
سید حفیظ علی حج کی سعادت حاصل کی اور ایک دیندار اور نیک صفت شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے سید محبت علی بھی ایک انتہائی عبادت گزار اور زہد و تقویٰ کے حامل شخص تھے، جو دین کی طرف مائل تھے۔
حیدرآباد، سندھ: ہجرت کی وجوہات اور روحانی وابستگی
سادات خاندانوں کی بڑی تعداد کی ہجرت
تقسیم کے دوران، آگرہ اور دیگر علاقوں سے کئی سادات خاندان حیدرآباد کے پکا قلعہ اور کچا قلعہ میں آ کر آباد ہوئے یہ علاقہ روحانی اور تاریخی طور پر سادات، اہلِ بیتؑ، مرکزِ تشیع اور صوفی سلسلوں سے وابستہ افراد کے لیے ایک اہم مرکز بنتا گیا، اہلِ محلہ اور خاندانی روایات کے مطابق، آپ کو آپ کی اولاد و نسل نے اپنی حیات کے آخری لمحات تک اس حال میں پایا کہ آپ تہجد کی نماز ادا کرنے کے بعد فجر تک مسلسل تلاوتِ قرآن میں مشغول رہتے تھے، اور فجر کے بعد بھی گھر میں باقاعدگی کے ساتھ تلاوت جاری رکھتے تھے اس مسلسل عبادت اور تلاوت کے بعد روزانہ صبح کے اوقات میں لوگ آپ کے پاس حاضر ہونے لگتے، جن کے لیے آپ اپنے پوتوں کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر مالی اعانت کا انتظام فرمایا کرتے تھے آپ رقم اپنے پوتوں کے ہاتھوں میں دیتے اور وہ تمام ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے یہ امداد دراصل آپ کی اپنی کمائی میں سے ایک مستقل حصہ تھا جو خاص طور پر غریبوں، محتاجوں اور ضرورت مندوں کے لیے مختص کیا گیا تھا خاندانی روایت کے مطابق اس عمل میں باقاعدگی اور نظم پایا جاتا تھا، اور کسی دن بھی اس سلسلے میں کوتاہی نہیں کی جاتی تھی۔
یوں آپ نہ صرف عبادات اور تلاوتِ قرآن کے اعتبار سے نمایاں تھے بلکہ شریعتِ اسلامیہ کے انتہائی پابند، دیانت دار اور صاحبِ کردار شخصیت کے طور پر بھی پہچانے جاتے تھے، جن کی عملی زندگی عبادت، خدمتِ خلق اور تقویٰ کا حسین امتزاج تھی۔
حضرت مولا علی علیہ السلام کے نام سے منسوب شہر
حیدرآباد، سندھ، حضرت مولا علی علیہ السلام کے لقب حیدر سے منسوب ہے اس شہر میں حضرت شیخ عبد الوہاب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ پر مولا علیؑ کی قدم گاہ شریف موجود ہے، جو شیعہ، سنی، اور صوفی سادات کے لیے انتہائی عقیدت کا مقام ہے اس روحانی نسبت کے باعث، بہت سے سادات خاندان یہاں آ کر بس گئے۔
تصوف اور صوفی سلسلوں کی موجودگی
پکا قلعہ اور کچا قلعہ میں صوفیاء، مشائخ، اور بزرگانِ دین کا قیام تھا یہاں قادری، چشتی، جلالیه، قلندریه اور سہروردی سلسلے کے افراد موجود تھے، جو تصوف کے مختلف سلسلوں سے وابستہ تھے۔
سید محبت علی اور سید حفیظ علی نے کچھ عرصہ بعد جب بریلویت اختیار کی تصوف کو اپنایا اور بعد میں سلسلہ قادریہ میں مرید ہو گئے شیعہ اقوال کے مطابق تقیہ اختیار کیا، سنی اقوال کے مطابق بریلویت کو اپنایا، اور صوفی اقوال کے مطابق وہ ابتدا ہی سے اہلِ تصوف سے وابستہ تھے۔
پکا قلعہ میں سید محبت علی کی دینی خدمات
حیدرآباد پہنچ کر، سید محبت علی نے انتہائی سادہ زندگی بسر کی، پکا قلعہ، گلی نمبر 5 میں ایک مسجد کی تعمیر کے بعد امامت کی ذمہ داری سنبھالی، جبکہ زیادہ تر مؤذن کے فرائض انجام دیتے رہے وہ فجر، تہجد، اور دیگر نمازوں کی سختی سے پابندی کرتے تھے، اکثر ذکر، تلاوت، اور روحانی عبادات میں مشغول رہتے تشیع کے اقوال کے مطابق ان تمام افراد نے باہم مل کر اسے ایک امامیہ مسجد بنانے کی کوشش کی تھی، مگر چونکہ یہ ایک چھوٹی سی مسجد تھی اور اس کے قریب ہی مولیٰ علیؑ کی قدم گاہ واقع تھی جو صرف چند قدم کے فاصلے پر ہے، اس لیے ابتدائی چند ہی برسوں میں یہ بریلویت کے زیرِ اثر آ گئی یہی وہ دور تھا جسے بعد ازاں تقیہ یا فرقہ جاتی تبدیلی کے دعوے سے منسوب کیا جاتا ہے۔
معاشی جدوجہد اور دینی استقامت
اس دور میں جب لوگ زمینوں پر قبضے کر رہے تھے اور جائیدادوں کی جنگ میں مصروف تھے، انہوں نے سادہ باعزت زندگی بسر کی اور حلال روزی کو ہمیشہ ترجیح دی اور ان کے بچوں نے جوتے بنانے کا کام بطور پیشہ اختیار کیا، انہوں نے جوتے سازی کے کارخانے بھی قائم کیے جو دو نسلوں تک ان کی شناخت بنا رہااور آج بھی پکا قلعہ میں انہی کی بدولت اور کچے قلعہ میں بھی جوتے بنانے کا کاروبار اسی خاندان کی مرہونِ منت فروغ پایا ہے یہ خاندان آج بھی پکا قلعہ میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ مشہور جوتے بنانے والوں میں شمار ہوتا ہے، اور آج بھی ان کا یہی پیشہ کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے، اگرچہ تیسری اور چوتھی نسل کے اکثر افراد روایتی پیشوں کے بجائے آفس ورکنگ، آئی ٹی سیکٹر اور اس نوعیت کے دیگر نجی شعبوں سے وابستہ ہو چکے ہیں، کیونکہ وہ جدید دور کی دنیاوی تعلیم، مہارتوں اور رائج اقدار کے ساتھ اپنے سفر پر گامزن ہیں؛ ان میں سے کچھ خاندان کراچی میں آباد ہیں۔
سید محبت علی کا انتقال بیماری اور تاریخی ورثے کا نقصان
سید محبت علی ٹی بی (Tuberculosis) کے مرض میں مبتلا ہو گئے اور اسی بیماری کے باعث ان کا انتقال ہوا۔
ان کے انتقال سے پہلے جب انہیں ہسپتال لے جایا گیا، تو اسی دوران ان کے گھر پر ایک بڑی چوری کا واقعہ پیش آیا، جس میں نہ صرف قیمتی اشیاء بلکہ بے حد نایاب اور تاریخی دستاویزات بھی گم ہو گئیں یہ گھر زمین پر بنا ہوا ہے اور آج بھی ان کی اولاد اور نسل کے پاس موجود ہے، مگر اس چوری نے خاندانی ورثے کا ایک اہم حصہ ضائع کر دیا خاندانی روایات کے مطابق سید امید علی کی زوجہ بیان کرتیں کہ سید محبت علی نے 'کشتہ سونا' کھایا تھا، مگر اس کی شدید حدت ان کے مزاج کے موافق نہ آئی اور وہ اس کے مضر اثرات کا شکار ہو گئے وقت گزرنے کے ساتھ یہ عارضہ شدت اختیار کرتا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انہیں منہ سے خون آنے لگا بعد ازاں یہی بیماری ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی اور ان کی وفات کا سبب بنی۔
چوری شدہ قیمتی تاریخی دستاویزات
اس چوری میں جو اہم دینی، تاریخی اور وراثتی دستاویزات ضائع ہوئیں، ان میں شامل ہیں:
مسجد کے چندے کی رقم، وراثتی دستاویزات، بہت پرانے تاریخی نسخہ جات نسب نامے، قدیم مخطوطات، پرانے بزرگوں کے ہاتھوں سے لکھے ہوئے قدیم کاغذی نسخے جو کہ شجروں کا حصہ تھے اور یہ چوری خاندانی ورثے کے زوال اور تاریخی حقائق کے ضیاع کی ایک بڑی مثال تھی، کیونکہ ان دستاویزات میں وہ تمام حوالوں کی مکمل صحیح ترتیب اور صحیح تفصیل درج تھی جن کا ذکر اس میں جگہ جگہ ملتا تھا۔
تاریخی شواہد اور ان کا زوال
یہ بھی ممکن ہے کہ مغل دربار سے منسلک شاہیااسناد اور فرامین باقی رہے ہوں، مگر چونکہ اس خاندان کی نسل میں کسی نے بھی ان کا دعویٰ نہیں کیا، اس لیے مغل تاریخ میں ان کا تذکرہ ہی باقی رہ گیاکچھ شواہد جان بوجھ کر مٹا دیے گئے، قدیم ترین شجروں کے کچھ نادر نسخے موجود رہے، مگر دیگر تاریخی حوالہ جات کو غائب کر دیا گیا۔
روحانی ورثہ، صوفی روایت اور کھوئے ہوئے تاریخی شواہد
سید حفیظ علی اور سید محبت علی نے اپنے جدِ امجد کے روحانی ورثے کو برقرار رکھا اور حیدرآباد (پکا قلعہ) کو اپنا مسکن بنایا حیدرآباد، سندھ، کی تاریخی اور روحانی نسبت کی وجہ سے، بہت سے سادات اور اہلِ بیتؑ کے چاہنے والے یہاں منتقل ہوئے سید محبت علی نے مسجد کی امامت اور دینی خدمات انجام دیں، جبکہ سید حفیظ علی ایک حج گزیده، دین دار شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے انہوں نے دنیاوی جائیداد اور زمینوں کے جھگڑوں سے دور رہتے ہوئے، سادہ مگر باوقار زندگی گزاری سید محبت علی کے انتقال کے وقت، ان کے گھر پر جو چوری ہوئی، اس میں اہم تاریخی و دینی دستاویزات سے جڑی تحریریں ضائع ہو گئیں یہ صرف ایک خاندان کی تاریخ نہیں، بلکہ قربانی، سچائی، اور روحانی وابستگی کی ایک زندہ مثال ہے یہ تاریخی ورثے کے زوال اور اس کے شواہد مٹانے کی ایک روشن مثال بھی ہے، کیونکہ اس خانوادے سے منسلک کچھ حقائق آج بھی تاریخی حوالوں میں بکھرے ہوئے ہیں، مگر بہت سے نشانات مٹا دیے گئے یہ خاندان ہمیشہ محبتِ اہلِ بیتؑ، اور خدمتِ خلق کے اصولوں پر قائم رہا، اور دنیاوی مال و متاع کی بجائے دینی و روحانی ورثے کو ترجیح دیتا رہا یہ داستان آج بھی اپنے کھوئے ہوئے ورثے کے آثار کی تلاش میں ہے۔
یہ خاندان تاریخ، ہجرت، اور بین الاقوامی روابط
تقسیمِ ہند کے بعد، خاندان کے اہم حصے کراچی اور حیدرآباد میں آباد ہوئے تاہم، ہجرت کی یہ روایت نئی نہیں تھی بلکہ مغل دور کے آخری عہد تک یہ خاندان عرب ممالک، ایران، افغانستان، اوچ شریف اور ہندوستان کے ساتھ مسلسل روابط میں یہ خاندان عرب دنیا کے علمی اور روحانی حلقوں سے وابستہ رہا اور مغل دربار کے آخری دور تک اس کے افراد عرب خطوں میں آتے جاتے رہے اہلِ بیتؑ سے نسبت اور تعلق کی بنا پر سعودی عرب، ایران، عراق اور افغانستان میں اس کے علمی و روحانی روابط قائم رہے مغل دربار سے وابستگی کے باوجود خاندان نے بین الاقوامی صوفی اور اثنا عشری علمی مراکز سے اپنا رشتہ برقرار رکھا اگرچہ یہ خاندان عام طور پر معروف نہیں رہا، لیکن تاریخ، تصوف اور اثنا عشری علمی روایت سے دلچسپی رکھنے والے خواص میں ہمیشہ پہچانا جاتا رہا ہندوستان، پاکستان، عرب دنیا اور ایران سے تاریخی وابستگی، اہلِ بیتؑ کی نسبت اور علمی و روحانی ورثے نے اسے ایک منفرد شناخت دی، جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہی اس تناظر میں سید محبت علی ایک عبادت گزار، درویش صفت اور خدمتِ خلق کی نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
حاجی سیّد حفیظ علی کی ازدواجی و خاندانی تفصیل
حاجی سیّد حفیظ علی کی دو ازواج تھیں پہلی زوجہ سیدہ قادری خاتون دوسری زوجہ سیدہ خورشید خاتون تھیں۔
سیدہ قادری خاتون سے حاجی سیّد حفیظ علی کے ایک بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں ان کے بیٹے کا نام سیّد قمر علی تھا ان کے خاندان کے افراد کراچی میں آباد ہیں سیدہ خورشید خاتون سے صرف ایک بیٹی سیدہ سعیدہ ہوئی سیدہ سعیدہ کے شوہر سید صابر رضوی بن سید شریف رضوی لکھنوی المعروف شریف چچا تھے سیدہ سعیدہ اور سید صابر کی دو بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں جو سید اصغر رضوی صدرِ انجمن اور سید اکبر رضوی حیدرآبادی مشہور نوحہ خواں اور سید حیدر رضوی کی والدہ تھیں، جو سید حفیظ علی کے نواسے ہیں۔
سیّد قمر علی کی چھ بیٹیاں اور چار بیٹے ہوئے، بیٹے: سید قیصر علی، سید محسن علی، سید عاصم علی، سید فیصل علی، یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سیدہ قادری خاتون ، سیّد محبّت علی کی دونوں ازواج کی سگی بہن تھیں۔
سید قمر علی نے اپنے خاندانی اور اہلِ بیتؑ سے جڑے روایتی مسلک کے برخلاف فکر کی طرف رجحان کیا جس کا اثر ان کی اولاد میں بھی ظاہر ہوتا ہے اس کے برعکس ان کی بہن نے خاندانی روایت کے مطابق تاحیات مکتبِ تشیع سے وابستگی برقرار رکھی یہ واقعہ اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ مسلکی تبدیلی عموماً ماحول و تربیت کا نتیجہ ہوتی ہے، جس کا جواب حکمت، علم اور رجوع الی اللہ میں ہے۔
یہ ایک تلخ مگر حقیقت پر مبنی واقعہ ہے کہ سید قمر علی اور ان کی نسل کو ان کے خاندانی پس منظر کے باعث کبھی خاندانی شجرہ نسب فراہم نہیں کیا گیا سید قمر علی کے عقائد اور زندگی کے بعض معاملات پر خاندان میں شدید تحفظات رہے یہی بنیادی وجہ بنی کہ ان کی اولاد کو شجرۂ نسب دینے سے خاندان نے انکار کر دیا۔
ایک اہم واقعہ بیس19 کا ہے جب سید محسن علی بن سید قمر علی، اپنے بھائی سید فیصل علی کی شادی کا دعوت نامہ دینے کے لیے، سید سلمان ذاکر علی عرف مانی بن سید نصیر علی بن سید محبت علی کے ہمراہ، سید قدیر علی کے گھر پہنچے اس ملاقات کے دوران سید محسن علی اور سید سلمان ذاکر علی جو سید قمر علی کے داماد ہیں نے مودبانہ انداز میں شجرہ دینے کی درخواست کی اور کہا :براہِ کرم ہمیں بھی خاندانی شجرہ دی دیجیے ۔
اس وقت سید اُمّید علی بن سید محبت علی موجود تھے جب ان تک یہ بات پہنچی کہ سید قمر علی کے بیٹے شجرہ طلب کر رہے ہیں، تو انہیں وہی خاندانی مؤقف یاد آیا جو برسوں سے قائم تھا کہ سید قمر علی کے اعتقادی انحراف اور متنازعہ طرزِ حیات کی بنا پر ان کی نسل کو شجرہ نہ دیا جائے اس طرح، سید محسن اور ان کے بھائی اب تک اپنے نسبی شجرے کی تلاش میں ہیں، لیکن انہیں خاندان کی جانب سے مسلسل انکار کا سامنا ہے۔
تاہم بیس24 میں ایک نیا مکالمہ اس وقت سامنے آیا جب سید قدیر علی اور سید شاہ زیب علی کے مابین خاندان سے متعلق گفتگو ہوئی اس موقع پر سید قیصر علی نے خاندانی بنیاد پر بتایا ہمارے بزرگوں میں چار لوگ تھے جو عرب سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے، جن میں سے دو سے نسل چلی، ایک درویش بن گئے اور نامعلوم ہو گئے، اور ایک نے کبھی شادی نہیں کی یہ روایت گو کہ ظاہری طور پر درست معلوم ہوتی تھی، مگر تحقیق سے معلوم ہوا کہ سید قیصر علی کو خود بھی درست تاریخی معلومات نہیں تھیں اور انسابِ سادات پر پوری طرح سے بے علم ہیں ۔ انہوں نے نادانستگی میں ساداتِ بارہا/ بلگرامی کے بزرگوں کا ذکر کر دیا، حالانکہ اصل نسبت ساداتِ نقوی بخاری سے ہے جیسا کہ بعد ازاں مختلف تحقیقاتی مراحل میں ثابت ہے یقیناً یہ بات حقیقت ہے کہ آگرہ اور فیروزآباد میں ساداتِ بارہ کی اکثریت ہے، مگر دیگر سادات خصوصاً نقوی اور بخاری سادات بھی وہاں موجود رہے ہیں اکثر عام لوگ علاقے کی روایت اور اکثریت کو دیکھ کر کسی اور شاخ کے بزرگ کو اپنا بزرگ مان لیتے ہیں جبکہ سید امید علی کا بیان روایت کردہ کچھ ایسا تھا ہندوستان کی سرزمین پر درحقیقت صرف دو بھائیوں یا باپ بیٹوں کی آمد ہوئی تھی جو کہ ممکنہ طور پر موجِ دریا رحمتُ اللہ کی فتوحات کے بعد کی نسلوں میں ہجرت کرنے والے سادات میں سے کوئی تھے سید امید علی اس مؤقف کی بنیاد اُن محفوظ خاندانی روایات پر ہے جو سید قمر علی کی شاخ سے مختلف اور زیادہ مستند مانی جاتی ہیں بےشک یہ خاندان امامِ صادق علیہ السلام سے ہوتا ہوا نقوی سادات، پھر بخاری اور سید امیر علی سے ہوتا ہوا سید حفیظ علی، سید امجد علی اور سید محبت علی تک پہنچتا ہے۔
سید محبت علی اور سید حفیظ علی کی مکمل اولاد نسل در نسل تفصیل
سید محبت علی کی اولاد
سیّد محبت علی کی دو ازواج تھیں ایک کا نام سیدہ نادِرِی خاتون تھا اور دوسری کو سیدہ منی خاتون کے نام سے جانا جاتا تھا۔
سیّد محبت علی کی بیٹیوں کے نام یہ ہیں: سیدہ افسری، سیدہ فیروزا، سیدہ بلقیس، سیدہ نسیم، سیدہ امینہ اور سیدہ روبینہ۔
جبکہ سیّد محبت علی کے بیٹوں کے نام درج ذیل ہیں: سیّد امید علی، سیّد نیاز علی، سیّد اعجاز علی، سیّد نصیر علی، سیّد شباب علی اور سیّد جاوید علی۔
سیدہ نادرؔی خاتون کے بطن سے سید محبت علی کی اولاد درج ذیل ہے:
سید امید علی، سید نصیر علی عرف کلّو چچا، سیدہ افسری، سیدہ فیروزا، اور سیدہ بلقیس۔
جبکہ سیدہ مُنّی خاتون کے بطن سے جو اولاد ہوئی، وہ یہ ہیں:
سیدہ امینہ، سید شباب علی، سید نیاز علی، سید اعجاز علی، سیدہ روبینہ، اور سید جاوید علی۔
سیدہ بلقیس بنتِ سید محبت علی کے شوہر سید شاہد حسین جعفری المعروف شاہد نیازمی اکبر آبادی ایک باکمال، ولی صفت شخصیت تھے، جنہوں نے برصغیر پاک و ہند میں علمِ عروض کی پہلی درسگاہ قائم کی جو کے مفت بھی تھی جہاں انہوں نےعلمِ عروض کی تعلیمات دیں جس کا نام علی اسکول برائے علمِ عروض برِ صغیر پاک و ہند کا پہلا اسکول (بلا معاوضہ) ہے اور مولاؑ علی قدمگاہ پر آباد رہے آپ نے یہ درس گاہ اپنی رہائش گاہ پر ہی قائم کی یہاں علمِ عروض اہلِ بیتؑ کی مدح و ثنا کے لیے سکھایا جاتا رہا ہے آپ نے خود بھی اہلِ بیتؑ کی مدح میں بے شمار اشعار اور نظمیں تخلیق کی ہیں اور انہیں خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے اُن سے کئی مشہور اور معتبر افراد نے علمِ عروض سیکھا اور اُن کے شاگرد بنے۔
آپ کے صاحبزادے پانچ ہیں:
1. سید ابرار حسین، 2. سید زاہد حسین، 3. سید ساجد حسین، 4. سید ریحان حسین، 5. سید فرحان حسین
اور تین بیٹیاں ہیں:
.1سیدہ نسرین .2 سیدہ سندس .3 سیدہ لاریب
سید شاہد حسین جعفری ایک ولی مزاج انسان تھے، جنہوں نے اپنی زندگی میں کئی کتابیں بھی تصنیف کیں آپ اہلِ بیتؑ کے شاعر بھی رہے، علمِ عروض کے استاد، علمِ جعفر کے ماہر، اور قطب، ابدال، قلندر و ولایت کی صفات سے مزین شخصیت تھے دین و دنیا دونوں میں آپ ایک تعلیم یافتہ، باوقار اور قابلِ قدر وجود تھے۔
آپ کے ساتھ ایک روحانی واقعہ بھی پیش آیا:
ایک مرتبہ آپ نے خواب میں حضرت سید ابوطالب علیہ السلام کی زیارت کی، جو نہایت واضح، روشن اور ہر شک و شبہ سے پاک خواب تھا آپ نے دیکھا کہ حضرت سید ابوطالبؑ نے آپ کو مولاؑ علی قدمگاہ کے قریب ایک عیدگاہ گراؤنڈ میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھائی، جس میں وہ خود امام تھے نماز کے بعد انہوں نے آپ کی طرف رجوع فرمایا۔
سیدہ افسری بنتِ سید محبت علی کے شوہر کا نام سید یوسف علی تھا۔
سید یوسف علی کے بھائیوں کے نام سید منظور علی اور سید مبارک علی شاہ تھے۔
سیدہ افسری کے چھ بچے تھے: دو بیٹیاں اور چار بیٹے۔
بیٹوں کے نام:
سید یونس علی، سید شاہد علی، سید زاہد علی اور سید وقار علی۔
بیٹیوں کے نام:
سیدہ عائشہ اور سیدہ سیما۔
● سید نصیر علی بن سید محبت علی کے پانچ بیٹے ہیں: سید فیضان علی ، سید رضوان راجو علی ، سید عدنان شاکر علی ، سید ناصر علی ، سید سلمان ذاکر علی اور ایک بیٹی: سیدہ ناصیرا۔
● سید شباب علی بن سید محبت علی کا ایک بیٹا ہے: سید سجاد علی اور پانچ بیٹیاں ہیں: سیدہ حنا، سیدہ ثنا، سیدہ بشریٰ، سیدہ حُما، سیدہ ۔
● سید نیاز علی بن سید محبت علی کی تین بیٹیاں ہیں خاندان کراچی میں آباد ہے۔
● سید جاوید علی بن سید محبت علی کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں بیٹے سید وجاہت علی نقوی، سید حاشر علی نقوی اور سید حارس علی نقوی ہیں یہ خاندان کراچی میں آباد ہے۔
● سید اعجاز علی بن سید محبت علی: عقیدے پر مضبوطی سے قائم ہیں سادگی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، آپ کی چار بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں سید اسامہ علی نقوی ، سید علی نقوی ، اور سید عرفان علی نقوی ان میں سے ایک بیٹے، سید علی، کو آپ نے اپنی بہن کو گود دے دیا تھا، جن کے شوہر بھی سادات کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔
● سید امید علی بن سید محبت علی: سب سے بڑے بیٹے والد کے انتقال کے بعد، ہندوستان سے آئے ہوئے ایک صوفی وفد نے انہیں روحانی گدی سنبھالنے کی پیشکش کی، مگر انہوں نے انکار کر دیا انہوں نے باوقار زندگی بسر کی اور تصوف کی تعلیمات پر عمل پیرا رہے ان کا خاندان پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیوں پر مشتمل ہے۔
بیٹیاں:
سیدہ فریدہ، سیدہ فرحت، سیدہ شبنم، سیدہ کوثر اور سیدہ ندا ان میں سے سیدہ فرحت کے شوہر بھی نقوی بخاری سادات میں سے ہیں سید عرفان علی نقوی البخاری جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ سید امیر علی کے بھائیوں یا چچاؤں میں سے ایک ہی نسب ہے تاہم یہ بات یاد رہے کہ یہ عرفان بن سید اعجاز علی نہیں ہیں، بلکہ ان کا شجرۂ نسب اوپر کی کئی نسلوں میں جا کر ملتا ہے، جن کا شجرۂ نسب حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچتا ہے۔ یوں ان کی اولاد دو طرفہ نقوی بخاری سادات میں شمار ہوتی ہے ان کی اولاد میں صرف تین بیٹیاں ہیں۔
بیٹے:
سید قدیر علی نقوی، سید امیر علی نقوی، سید ماجد علی نقوی، سید ساجد علی نقوی، سید ذوہیب علی نقوی
● سید قدیر علی کراچی میں آباد ہیں اور آپ کے چار بیٹے ہوئے: سیّد شاہ زیب علی نقوی، حافظ سیّد شاہ زین علی نقوی، سیّد شارق علی نقوی، اور سیّد یوشع علی نقوی جن میں سے سب سے چھوٹا، سیّد یوشع علی نقوی، پیدائش کے وقت ہی وفات پا گیا تھا۔
● سید امیر علی نقوی حیدرآباد میں آباد ہیں ان کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں بیٹوں کے نام سید حسنین علی نقوی، سید حسن علی نقوی اور سید حسّان علی نقوی ہیں، جبکہ بیٹیوں کے نام سیدہ ایمن، سیدہ انعمتہ اور سیدہ انابیہ ہیں۔
● سید ماجد علی کراچی میں آباد ہیں آپ کے تین بیٹے ہوئے: سید رافع علی نقوی، سید مصطفیٰ علی نقوی، سید حمزہ علی نقوی۔
● ان کے خاندان کے افراد آج بھی اپنے آبائی عقائد پر قائم ہیں۔
سید ساجد علی نقوی بن سید امید علی کے مطابق، جب حیدرآباد میں مقیم دیگر خاندانوں سے حکیم سید فرخ حسین کے بارے میں دیگر سادات حکیموں اور ان کی نسلوں سے رابطے کیے گئے تو یہ معلوم ہوا کہ سید عرفان علی نقوی بخاری اوپر ایک ہی نسب سے ہیں سید امیر علی کے بھائیوں یا چچاؤں میں سے ایک ہی نسب ہے۔ حکیم سادات خاندان نے یہ بھی بتایا کہ ان کی والدہ بھی یہ بات اچھی طرح جانتی تھیں، اور سید امید علی بھی جانتے تھے کہ یہ رشتہ داروں میں سے ہیں اور ایک ہی نسب سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ بھی واضح کیا گیا کہ سید عرفان علی نقوی کے بڑے بھائی، سید محسن علی نقوی البخاری بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے، اور سید محبت علی کے گھر ان سب گھر والوں کا کافی آنا جانا تھا سید قدیر علی بن سید امید علی کے مطابق، انہیں ان کا آنا جانا اچھی طرح یاد ہے کہ وہ ہمارے اور دادا کے گھر آتے تھے وہ 1985 کا ایک واقعہ بھی بیان کرتے ہیں کہ جب ان کے والد اور سید محسن علی نقوی بخاری بھی ساتھ تھے تو سید امید علی اور یہ خاندان اکثر یہی کہا کرتے تھے کہ ہم ایک ہی خاندان اور نسل سے ہیں۔
یہ بات بالکل درست تھی کہ اس خاندان کا گہرا تعلق تھا سید محبت علی کی اولاد کا کہنا تھا کہ ہم انہیں شروع سے ہی جانتے تھے، یہ بھی ہمارے ساتھ ہی آگرہ سے آئے تھے اسی رشتہ داری اور تعلق کے باعث سید امید علی نے اپنی بیٹی کی شادی 1996 میں سید عرفان علی نقوی سے کر دی۔
جبکہ خود سید عرفان علی نقوی بخاری کا کہنا تھا کہ ہماری والدہ نے کافی پریشانی کے وقت میں تقیہ اختیار کیا اور وہ شادی سے کچھ عرصہ پہلے کا معلوم ہوتا ہےجو اُنہیں بخوبی یاد ہے، جس میں سید محبت علی، سید حفیظ علی، اور سید شریف رضوی کے ساتھ آئے بیشتر خاندانوں نے یہ ساتھ ہی کیا تھا معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ سب ایک دوسرے کے بہت قریبی نسب سے ہیں، کیونکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سید عرفان علی نقوی بخاری والے شکل و صورت، عادات اور جسمانی معاملات میں ایسے ظاہر ہوتے ہیں جیسے یہ سب بھائی سید محبت علی کی نسل کے سگے بھائی ہوں۔ 1) سید محسن علی نقوی البخاری، 2) سید نوشاد علی نقوی البخاری، 3) سید قمر علی نقوی البخاری، 4) سید مظہر علی نقوی البخاری، 5) سید عرفان علی نقوی البخاری، 6) سید علی نقوی البخاری ان سب نے ابتدا میں جوتوں کے کام کو ہی بطور کارخانہ ذریعہ معاش بنایا، بعد میں اپنی تعلیم اور ہنر کے مطابق الگ الگ شعبوں کا انتخاب کیا۔
Comments
Post a Comment