سیدامیر علی شاہؒ بن سید حیدر شاہؒ
سیدامیر علی شاہؒ بن سید حیدر شاہؒ
سید امیر علی شاہؒ کے چار صاحبزادوں کے نام خاندانی شجروں اور روایات میں ملتے ہیں ان میں سید بابا درویشؒ (لاولد)، سید علیؒ (لاولد)، سید شاکر علی شاہؒ فیروزآبادی اور سید ذاکر علی شاہؒ فیروزآبادی شامل تھے ان میں سے بعض کے بارے میں یہ صراحت ملتی ہے کہ ان کی کوئی اولاد نہیں ہوئی، جبکہ بعض کی نسل کے بارے میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں خاندانی روایات میں سید ذاکر علی شاہؒ فیروزآبادی کی اولاد کے جاری رہنے کا دعویٰ تو ملتا ہے، مگر اس نسل کی واضح تفصیل، شجرہ یا مستند تاریخی ریکارڈ محفوظ نہیں رہ سکا یہ امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ ان کی نسل آج بھی فیروزآباد ہی میں آباد ہو، یا پھر کسی اور علاقے کی طرف ہجرت کر چکی ہو، تاہم اس بارے میں کوئی قطعی اور مستند معلومات دستیاب نہیں ہیں تاریخی شواہد کے مطابق، آپ کی نسلِ پاک صرف ایک ہی زوجہِ مطہرہ سے چلی ہے، جبکہ دیگر ازواج سے اولاد کا کوئی ثبوت دستِ یاب نہیں ہے۔
اس کے برعکس، جو نسل سب سے زیادہ مستند، ثابت شدہ اور تسلسل کے ساتھ محفوظ چلی آ رہی ہے، وہ سید شاکر علی شاہؒ فیروزآبادی سے منسوب ہے خاندانی شجروں اور زبانی روایات کے مطابق سید شاکر علی شاہؒ کے ایک صاحبزادے سید عاشق علیؒ تھے، جن کے ذریعے اس شاخ کا نسلی تسلسل آگے بڑھا ان کے علاوہ سید شاکر علی شاہؒ کی بیٹیوں کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں، جن میں تعداد کہیں تین، کہیں چار اور ایک بیان کی گئی ہے، تاہم بیٹیوں کی تعداد کے بارے میں قطعی اتفاق موجود نہیں۔
یوں مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ سید امیر علی شاہؒ کی اولاد میں سے نسلی تسلسل کے اعتبار سے جو شاخ تاریخی طور پر زیادہ مضبوط، محفوظ اور قابلِ اعتماد ہے، وہ سید شاکر علی شاہؒ فیروزآبادی کی نسل ہے، جبکہ دیگر صاحبزادوں کی اولاد کے بارے میں معلومات یا تو دستیاب نہیں رہیں یا پھر وقت کے ساتھ غیر واضح ہو گئی ہیں ہم ان کی نسل کے جاری رہنے سے انکار نہیں کرتے، البتہ ہمارے پاس ان کی نسل کے بارے میں مستند معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
سید امیر علی شاہؒ جدِ آلِ امیر سید امیر علی شاہؒ وہ بزرگ ہیں جن سے آلِ امیر کا نسبتاً زیادہ مستند، مفصل اور محفوظ تاریخی و خاندانی ذکر شروع ہوتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے کی کئی نسلوں کے نام شجروں اور زبانی روایات میں محفوظ ہیں، مگر ان کی مکمل تاریخی تفصیلات قلم بند نہیں ہو سکیں۔ اس کے برعکس، سید امیر علی شاہؒ کے بعد خاندان کی تاریخ، شجرہ اور روایات زیادہ واضح اور مربوط صورت میں سامنے آتی ہیں، اسی لیے انہیں آلِ امیر کی تاریخ میں ایک مرکزی اور فیصلہ کن مقام حاصل ہے، جبکہ ان کے بھائی ضامن شاہؒ، سید وزیر علی شاہؒ اور سید سردار علی شاہؒ کی نسلیں بھی الگ الگ شاخوں کی صورت میں آگے بڑھیں یہ بات علمی دیانت کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے کہ سید جلال الدین حیدرؒ کے بعد کی بعض درمیانی نسلوں کے حالات تفصیل کے ساتھ محفوظ نہیں رہ سکے لاہور اور اس کے اطراف میں ابتدائی نسلوں کی موجودگی کے بعض دعوے ضرور ملتے ہیں، مگر ان کے پاس بھی مکمل تحریری تاریخی شواہد موجود نہیں اس کے باوجود یہ تمام نام خاندانی شجروں اور زبانی روایات میں احترام کے ساتھ محفوظ چلے آتے ہیں، یہ سلسلہ بالآخر شاکر علی شاہؒ بن سید امیر علی شاہؒ کے صاحبزادے سید عاشق علی شاہؒ تک اور پھر اُن کے فرزند شہید سید نفیس علی شاہؒ کے ذریعے سید امجد علی شاہؒ، سید حفیظ علی شاہؒ اور سید محبت علی شاہؒ تک جاری رہتا ہے۔
یہ تمام بزرگانِ دین، علم و عرفان کے روشن مینار اور تصوف و روحانیت کے علمبردار رہے ہیں۔ ان کی تعلیمات میں محبتِ اہل بیتؑ، ولایتِ علیؑ، اور امامیہ فکر کی جھلک نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے امت میں وحدت، معرفت اور عشقِ محمد و آلِ محمدؐ کو فروغ دیا۔
ان تمام جلیل القدر بزرگوں کی تفصیلی سوانح، کرامات اور روحانی مقامات تصوف، اثنا عشری تشیع، سادات کے انساب، اور دیگر تاریخی و روحانی کتب میں دستیاب ہیں۔
آپ کے زمانے، اُس دور کے پنجاب، سندھ اور اتر پردیش کے اکثر علاقوں کے مذہبی ماحول، اور آپ کی اولاد و نسل میں قائم طریقۂ کار اور دو طرفہ روایتوں سے یہ امر واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا تعلق سلسلۂ ذہبیہ یا سلسلۂ کبرویہ سے تھا تاریخی و نسبی شواہد سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نقوی بخاری سادات کی فکری و روحانی وابستگی ابتدا ہی سے اہلِ بیتِ اطہارؑ، ائمۂ اثنا عشرؑ اور واقعۂ کربلا کے اصولی تصورِ امامت سے گہری رہی ہے اگرچہ مختلف ادوار میں سیاسی دباؤ، سماجی حالات اور فقہی غلبے کے باعث ان میں سے بعض نے خود کو سنی یا صوفی شناخت کے تحت ظاہر کیا، تاہم ان کی داخلی اعتقادی ساخت، اہلِ بیتؑ سے ولائی نسبت، عزاداری، اور امامی فکر سے وابستگی میں بنیادی فرق پیدا نہیں ہوا۔ اختلاف زیادہ تر ظاہری اظہار اور رسومات کی سطح پر رہا، نہ کہ اصولِ اہلِ بیتؑ سے انحراف کی صورت میں۔
خاندانِ ساداتِ سید امیر علی شاہؒ ایک پوشیدہ، روحانی اور نسبی ورثے کا امین ہے جو مغلیہ دور کے آخری عہد کی طبی و روحانی خدمات، تقیہ، تصوف اور اہلِ بیتؑ سے والہانہ محبت کی بنیاد پر نسل در نسل منتقل ہوا سیّد امیر علیؒ مغلیہ سلطنت کے زوال پذیر دور (تقریباً اٹھارویں صدی کے اواخر تا انیسویں صدی کے اوائل) میں ایک شاہی طبیب کے طور پر معروف رہے خاندانی روایت کے مطابق آگرہ میں مہتاب باغ کے قریب ایک قطعۂ زمین سے ان کی نسبت بیان کی جاتی ہے، جہاں بعد کے زمانوں میں کالی سندلی مسجد قائم رہی تاہم تاریخی قرائن کی رو سے زیادہ قرینِ قیاس یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقام بطورِ تولیت، نگرانی یا محدود حقِ تصرف ان سے منسلک رہا ہو، نہ کہ قطعی اور مستقل جاگیر کے طور پر عطا ہوا ہو جبکہ خاندانی روایت میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ سید امیر علیؒ کے تصرف میں دیگر اراضیات بھی تھیں، جن میں سے ایک مقام پر ایک چھوٹی مسجد قائم تھی اس جگہ کی درست تعیین آج ممکن نہیں، تاہم بیانات کے مطابق وہاں غیر معمولی واقعات اور جنّات سے متعلق قصے منسوب کیے جاتے رہے، اور کہا جاتا تھا کہ اس مقام پر صرف اسی خانوادے کے افراد کی آمد کو قبول کیا جاتا تھا۔ ان کے بعد نسل میں سید شاکر علیؒ صوفی بزرگ کے طور پر نمایاں ہوئے، جن کا سلسلۂ ذہبیہ یا سلسلۂ کبرویہ چشتیہ اور جلالیہ سلسلوں کے بزرگوں میں شمار کیا جاتا ہے خاندانی روایات کے مطابق آپ کسی روحانی سلسلے کے خلیفہ بھی رہے آپ نے اہلِ بیت علیہم السلام کی فقہی و اعتقادی روایت کو بنیاد بناتے ہوئے طریقت و تصوف کا راستہ اختیار کیا، مگر اپنے اصولی مکتب سے انحراف نہیں کیا فِیروزآباد میں آپ کی موجودگی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خاندان کا مرکز عملی طور پر وہاں منتقل ہوا آپ کی تعلیمات میں اہلِ بیت اطہارؑ کی نسبت نمایاں تھی، اور آپ کا رجحان اثنا عشری فکر کی طرف بیان کیا جاتا ہے بعض میں ملتا ہے کہ آپ سے روحانی مسائل میں رجوع کیا جاتا تھا اور آپ کے اقوال و افکار میں معرفت و ولایت کی جھلک محسوس کی جاتی تھی۔
سید امیر علیؒ کی زندگی کے بعض پہلو مکمل دستاویزی صورت میں محفوظ نہیں، تاہم نسلی تسلسل، روایت اور زمانی مطابقت کے اعتبار سے ان کی شخصیت ایک ایسے بزرگ طبیب کی صورت میں سامنے آتی ہے جو مغلیہ سلطنت کے آخری دور میں علمی و روحانی خدمات سے وابستہ رہے، اور جن کی نسبت اہلِ بیتؑ سے جڑی ہوئی سمجھی جاتی ہے۔
ان کے بعد خاندان نے فرقہ وارانہ مظالم کی وجہ سے آگرہ، فیروزآباد سے ہجرت کی، جس میں سید محبت علیؒ اور سید حفیظ علیؒ کی جانیں بمشکل بچ سکیں۔ ان کی اولاد سندھ، پاکستان میں آ کر آباد ہوئی چند سال گزرنے کے بعد دونوں بھائیوں نے سلسلۂ قادریہ میں بیعت کی، اور اس بیعتِ تصوف کے ذریعے آپ کا شجرۂ طریقت حضرت شیخُ الاسلام سید عبدالقادر جیلانیؒ غوثِ پاک سے جا ملا، یوں آپ دونوں کی بیعت کا سلسلۂ طریقت انہی تک پہنچتا ہے۔ 1990 کے قریب شجرہ نسب کا ایک حصہ چوری ہو گیا جو کہ سب سے قدیم نسخہ تھا، مگر اس کی چند عربی و فارسی کی تحریریں اور دیگر نقلیں جو اردو میں منتقل ہو چکی تھیں وہ باقی رہیں لیکن سید محبت علی نے 1947 وقت ہجرت ہی اپنے مشاجرات اُوچ شریف میں جمع کروا دیے تھے، جب آپ علاج کے سلسلے میں لاہور گئے تو وہاں بھی نسب کی معلومات لکھوا کر جمع کرائی اور سید نیاز علی کو بتایا کہ ہمارے لوگ یہاں آباد ہیں جن کا علم ان کے بیٹوں کو بھی تھا سید محبت علیؒ کے ہاتھ سے لکھوا کر اُوچ شریف میں جمع کرایا گیا دربارِ کے سجادہ نشین خانوادۂ ساداتِ نقوی البخاری کو پہچان گئے بعد ازاں سید محبت علیؒ کی نسل سے تعلق قائم رہا، اور اُوچ شریف کی قائم روایت کے مطابق بعد میں پیدا ہونے والی نسل کی بھی تصدیق کی جاتی رہی ہے شجرے کی اور ماہرینِ نسب کی تحقیق، خاندان کے تمام بزرگ، سجادہ نشین، اور گواہان، جیسا کہ اُوچ شریف کے قدیم و محفوظ ریکارڈ سے بھی تصدیق ہوتی ہےاور یہی مؤقف نسل در نسل تسلیم کیا جاتا رہا ہے سیّد امیر علی شاہ کے صاحبزادے، سیّد شاکر علی نے تصوف پر بے انتہا بڑھ چڑھ کر کام کیا۔
جبکہ سیّد شکر علی کا تعلق سلسلۂ جلالیہ سے زیادہ تھا، اور بعد میں سلسلۂ چشتیہ سے بھی آپ دونوں سلسلوں سے خلیفہ تھے فیروز آباد میں، مگر آپ کا جھکاؤ سلسلۂ جلالیہ کی طرف زیادہ تھا، جس کی وجہ آپ کے اثنا عشری کے قریب عقائد تھے۔ سیّد نیاز علی ابتدا میں زبانی روایت کے مطابق یہ مانتے تھے کہ ان کا نسب امام جعفر صادق علیہ السلام سے ملتا ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے بچپن میں عربی اور فارسی میں قدیم شجرہ پڑھا تھا، جس میں جلال الدین سرخ پوش بخاری بن علی المیّدی بن جعفر بن محمد بن محمود بن احمد بن عبد اللہ بن علی بن امام جعفر صادق کے نام درج تھے تاہم، ان کے حافظے میں کچھ تفصیلات نہیں تھیں، اور نام کے حوالے سے ان سے ایک جگہ غلطی ہو گئی، حالانکہ دراصل وہ علی بن جعفر ثانی کی نسل سے تھے بعد میں جب شجرے کو دوبارہ کھولا گیا اور نسخے پڑھے گئے تو یہ واضح ہوا کہ اصل میں علی بن جعفر ثانی تھے، اور سیّد جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ درحقیقت نقوی سادات میں سے تھے سیّد نیاز علی نے تسلیم کیا کہ بچپن میں پڑھائی یا بڑھاپے میں حافظے کی کمزوری کی وجہ سے یہ غلط فہمی ہوئی یہ مسئلہ عام طور پر ہندوستان میں آباد بخاری سادات میں پایا گیا، کیونکہ شجرے کی حفاظت، ناموں کی تکرار، زبانی روایت اور تعلیم کی کمی نے غلط فہمیاں جنم دی تھیں۔
ایک نہایت معزز اور معتبر شخصیت خاندان کے نہایت قریبی، حضرت خادم الفقراء و المساکین، مخدوم حامد محمد نوبہار خامس المعروف مخدوم سید سلطان جہانیاں نقوی بخاری سجادہ نشین دربار عالیہ جلالیہ اوچ شریف حضرت سید جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری رحمۃ اللّٰہ علیہ، مورث اعلیٰ سادات نقوی بخاری برصغیر پاک و ہند، اور دربارِ عالیہ جلالیہ کے ماہرُ الانساب و شجرہ نویس اس بات پر متفق ہیں کہ یہ خاندان کا نسب مکمل اور درست ہے جو کہ تقسیمِ ہند کے وقت، ہجرت کرنے والے سادات نے اس کا ریکارڈ جمع کرایا اور تمام خاندان کا ریکارڈ درست ہے، جس کی صرف تصدیق کی گئی ہے چونکہ یہ خاندان چھ سات نسلوں تک ہندوستان میں آباد رہا، اس لیے ہندوستان سے بھی مستند تحقیق اور ریکارڈ حاصل کیا گیا پھر ایک نہایت معزز اور معتبر شخصیت حضرت پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، سیادت مآب، چیف آف ساداتِ ہندوستان، سید ناصرالدین نقوی مودودی ہاشمی چشتی حسنی حسینی، سجادہ نشین آستانہ عالیہ جھالرہ شریف، اجمیر، راجستھان اور ان کے خلیفہ و خادمِ آستانہ، سید غیاث الدین نعیم کے مطابق اس سادات خاندان کا ریکارڈ ہمارے پاس بھی موجود ہے سید محبت علی بن سید نفیس علی بخاری کے بیٹے سید امید علی اور ان کی ایک بہن تک، اور حاجی سید حفیظ علی بن سید نفیس علی بخاری اور ان کے ایک بیٹے سید قمر علی تک کا ریکارڈ اس طرح موجود ہے نیز سید امجد علی کا ریکارڈ بھی موجود ہے اور سب ان میں سے اکثر کا تعلق تشیع سے تھا بعد ازاں پاکستان آ کر بڑے بھائی سید امجد علی ، جن کی والدہ سید نفیس علی کی پہلی بیوی تھیں، اور ان سے صرف سات بیٹیاں پیدا ہوئیں، نہ کہ کوئی بیٹا شجرہ نویسی میں پیدا ہونے والے مسائل اور شبہات کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ تصوف کے غلبے نے نسبی علم و تحقیق کو نظر انداز کر دیا، جس کے نتیجے میں شجرہ نویسی میں الجھاؤ اور ابہام پیدا ہو گئے۔
اگرچہ روایتی بیانات اور خاندان کی زبانی روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا دور ۱۷۰۰ء کے بعد سے ۱۸۵۰ء کے درمیان کا زمانہ ظاہر ہوتا ہے، لیکن بعض ایسے نام اور واقعات بھی ملتے ہیں جو اس سے پہلے کے ادوار سے تعلق رکھتے ہیں اس تضاد کا ایک ممکنہ سبب یہ ہو سکتا ہے کہ بعض روایات درحقیقت کسی بزرگ جد کی زندگی اور کارناموں سے وابستہ ہوں، جنہیں وقت کے ساتھ ساتھ سید امیر علیؒ کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہو ممکن ہے عوامی شعور میں ان کی شخصیت کو دانستہ طور پر پسِ منظر میں رکھا گیا ہو، جبکہ آپ مغل سلطنت کے خاص پوشیدہ کارندوں میں شمار ہوتے تھے، آپ کا عرب سے بھی کوئی خاص تعلق جڑا ہوا تھا، خاص کر کے ایران سے، اس تاریخی گمشدگی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جس دور میں وہ سرگرم تھے، اسی زمانے میں کالی سندلی مسجد اہلُ البیت کے عقائد کے طور پر جانی جاتی تھی، وقت گزرنے کے ساتھ مسجد صوفی روایتوں کے زیرِ اثر آ گئی، اور بالآخر ایک سرکاری ادارے کے کنٹرول میں چلی گئی جن کی تاریخی موجودگی مسجد سے منسلک رہی کیونکہ سید امیر علی کی زندگی بہت زیادہ ہجرتوں میں گزری ہے، آپ کا کسی ایک جگہ مقیم ہوجانا ناممکن سا تھا، یاد رہے کہ یہ سید امیر علی نقوی البخاری ہیں، نہ کہ کوئی سید امیر علی تقسیمِ ہندوستان سے قبل کا کوئی سیاسی رہنما، یہ اکثر لوگ غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
چونکہ سید امیر علیؒ نے ایک پوشیدہ زندگی بسر کی، اس لیے ان کی اولاد کو بھی کئی نسلوں تک مخالفین کا سامنا رہا، جس کے باعث ان کے خانوادے نے وقتاً فوقتاً نقل مکانی کی یہی وجہ ہے کہ بعد کی نسلوں نے اپنی نسبت ظاہر کرتے ہوئے احتیاط برتی یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ صفوی باقیاتی گروہ اور سلطنتِ اودھ کے دارالحکومت لکھنؤ سے ان کے تعلقات تھے روایتاً کہا جاتا ہےایک موقع پر مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی اہلیہ بی بی کاندھاری بیگم کی تدفین کے لیے وہ زمین منتخب کی جہاں ان کی قبر واقع ہے اسی مقام پر شاہ جہاں نے اپنی اہلیہ کو روحانی نسبت بخشنے کی غرض سے ایک مسجد تعمیر کروائی جو آج کالی سندلی مسجد کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس مسجد کی تعمیر 1632ء میں ہوئی، اُس دور میں یہ علاقہ ایک مکمل مغل فوجی چھاؤنی کی حیثیت رکھتا تھا۔ بعد ازاں یہ مسجد اور اس سے متعلقہ زمین سادات بخاری کے اختیار میں آ گئی، ممکنہ طور پر یہ امر اس بنا پر ظاہر کیا جاتا ہے کہ بی بی کاندھاری بیگم ان کی ہم عقیدہ تھیں، جس کے باعث یہ انتظام عمل میں آیا بعد کے ادوار میں اس مسجد کو مغل افواج کی سہولت کے لیے تعمیر شدہ قرار دیا گیا، حالانکہ حقیقت میں یہ زمین سادات کی تھی اور مسجد بھی اسی تاریخی و روحانی تسلسل کا حصہ ہے اسی طرح فیروزآباد میں واقع ایک مسجد بھی اسی خاندان کے اختیار میں رہی، جو ساداتِ نقوی بخاری کی وہاں موجودگی اور مذہبی و سماجی اثر و رسوخ کی واضح مثال ہے۔ اس مسجد سے متعلق وقت کے ساتھ ساتھ جنّات کے معاملات، قصے اور کہانیاں بھی منسوب ہوتی چلی آئی ہیں، جو زیادہ تر عوامی روایات اور مقامی بیانیے کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
1700 سے 1800 کے درمیان صفوی خاندان (جو ایران میں حکومت کر رہا تھا) کا براہ راست ہندوستان میں کوئی خاص اثر و رسوخ نہیں تھا، کیونکہ صفوی سلطنت 1736 میں ختم ہو گئی تھی اور اس کے بعد قاجاری خاندان نے ایران میں حکمرانی شروع کی تاہم، اس دوران صفوی سلطنت کے اثرات اور تعلقات ہندوستان میں مختلف طریقوں سے موجود تھے، خاص طور پر ایرانی شیعہ کمیونٹیز اور صفوی حکومت کے زوال کے بعد ہندوستان میں پناہ گزین ہونے والے ایرانیوں کے ذریعے۔
اس دور میں ہندوستان میں صفوی اثرات و ایرانی گروہ:
1. ایرانی پناہ گزین: صفوی خاندان کے زوال کے بعد، ایران سے بہت سے ایرانیوں نے ہندوستان کا رخ کیا، خاص طور پر وہ ایرانی جنہوں نے اپنی زندگی کو بچانے کے لیے ہندوستان میں پناہ لی ان پناہ گزینوں نے اپنے وطن سے متعلق مذہبی، ثقافتی، اور سیاسی اثرات ہندوستان میں منتقل کیے۔
2. شیعہ کمیونٹیز: ہندوستان میں شیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور صفوی سلطنت کے دور میں ایرانی شیعہ مذہب کو بہت فروغ حاصل ہوا تھا اس دوران ہندوستان میں شیعہ مسلک کے پیروکاروں میں ایرانی اثرات بڑھ گئے تھے۔
3. مغلیہ سلطنت کے ساتھ تعلقات: صفوی سلطنت اور مغلیہ سلطنت کے درمیان مختلف اوقات میں سیاسی، ثقافتی اور تجارتی تعلقات قائم تھے صفوی حکمرانوں نے مغل شہنشاہوں کے ساتھ کئی سفارتی تعلقات قائم کیے، اور دونوں سلطنتوں کے درمیان تعلقات خاص طور پر اور شاہ جہاں کے دور میں مضبوط تھے۔
4. ایرانی فنون اور ثقافت: ایرانی فنون، ادب، اور طرزِ تعمیر کا اثر ہندوستان میں بڑھا ایرانی فنکار، خطاط، معمار اور مفکر ہندوستان آئے اور انہوں نے ہندوستانی ثقافت پر گہرا اثر چھوڑا۔
5. صفوی خاندانی اثرات: ایران سے آنے والے افراد نے ہندوستان میں اپنے خاندانوں کے ذریعے ایرانی ثقافت کو فروغ دیا، اور ان خاندانوں نے ہندوستانی معاشرت میں اپنا ایک مقام بنایا ان میں بہت سے ایرانی خاندان ہندوستانی درباروں کے حصے بن گئے تھے۔
صفوی خاندان کے زوال کے بعد ایران کے اثرات:
• 1736 میں نادر شاہ کی ایران پر حکومت کے آغاز کے ساتھ صفوی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور قاجاری خاندان کی حکومت قائم ہوئی۔
• اس دوران ایران سے آنے والے افراد نے ہندوستان میں اپنا اثر برقرار رکھا، خاص طور پر دہلی، لکھنؤ اور حیدرآباد جیسے بڑے شہروں میں، جہاں شیعہ کمیونٹی کی موجودگی زیادہ تھی۔
ان کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف عرف یا القابات استعمال کیے گئے، مگراصل نام سید امیر علی ہی تھا آگرہ ان کی مستقل سکونت گاہ کے طور پر شناخت کی جاتی ہے، اگرچہ لکھنؤ، سرسری، لاہور اور مرادآباد جیسے شہروں کا اور حیدرآباد دکن وغیرہ جیسے علاقے، جہاں سادات کی اکثریت زیادہ موجود رہی وہاں کے بھی تذکرے موجود ہیں تاہم آپ کی قبرِ اقدس کا اصل مقام قطعی طور پر معلوم نہیں ہو سکا۔ اگرچہ آپ کی دو ازواج کا تعلق آگرہ سے اور ایک کا تعلق لاہور سے ظاہر ہوتا ہے، تاہم اس کتاب میں صرف ایک زوجۂ خاتون سے جاری ہونے والی اولاد کا ذکر کیا جا رہا ہے، کیونکہ دیگر ازواج اور ان کی اولاد کے نام و تفصیلات مستند طور پر محفوظ نہیں رہ سکے۔
ان کے فرزند سید شاکر علیؒ کی زندگی کا زیادہ تر حصہ فیروزآباد سے جڑا دکھائی دیتا ہے خاندانی روایت کے مطابق ان کی والدہ جن کا نام سیدہ مریم زیدی) نام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے( کا تعلق ایک معزز گھرانے سے تھا جو فیروزآباد کے مشہور خاندانوں میں شمار ہوتا تھا یہی سبب ہے کہ سید شاکر علیؒ کی آخری زندگی اسی شہر میں گزری اور وہیں ان کی روحانی خدمات کا دائرہ قائم رہا۔
سید امیر علی کی پوشیدہ خدمات، اُن کی عظیم قربانیوں اور مخلصانہ کاوشوں پر مکتبِ شیعہ اثنا عشریہ، سلسلہ جلالیہ اور سلسلہ چشتیہ کے افراد کو فخر ہونا چاہیے، کہ جنہوں نے ان روحانی شاخوں کو استحکام عطا کرتے ہوئے خود کو تاریخ کے دھندلکوں میں گم کر دیا، اور پھر اُن کی اولاد و نسل نے اس جدوجہد کو جاری و ساری رکھنے کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔
اللّٰہ تبارک و تعالیٰ آپ کو اجرِ عظیم عطا فرمائے، اور جنت الفردوس میں اہلِ بیتؑ کا قرب اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی رفاقت نصیب فرمائے۔ آمین۔
سترہویں صدی کے اواخر اور اٹھارہویں صدی میں جب مغل سلطنت زوال کا شکار ہو چکی تھی اور دربار کی مرکزی قوت خاصی کمزور ہو گئی تھی، اُس پس منظر میں خاندانی روایات یہ بیان کرتی ہیں کہ سید امیر علی اپنے وقت کے ماہر حکیم اور صاحبِ روحانیت شخصیت کے طور پر معروف تھے انہوں نے مغل خاندان کی ایک معزز خاتون کا علاج کیا، تاہم اُس انتشار زدہ اور کمزور انتظامی دور میں انہیں کسی نمایاں سرکاری منصب یا خاص درباری پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔ مزید یہ کہ مقامی سطح پر مسجد اور متعلقہ اراضی کی خدمت و نگرانی میں ان کے خاندان کا کردار بیان کیا جاتا ہے، جسے اسی زوال پذیر عہد میں ایک باوقار مگر محدود اثر کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اب یہ بات وثوق سے کہنا دشوار ہے کہ سید امیر علی نے کس کا علاج کیا تھا، اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سادات اپنے قریبی رشتے داروں یا خاندان کے بزرگوں کے بارے میں بھی بڑھا چڑھا کر بات کرتے ہیں، اور وقت کے ساتھ یہ بیانات کہیں کے کہیں منصوب ہو جاتے ہیں بعض اوقات کسی قریبی خاندان کے بزرگ کے بارے میں جو خصوصیات بیان کی جاتی ہیں وہ دوسرے خاندانوں کے بزرگوں پر بھی اسی فضیلت کے ساتھ نسبت دے دی جاتی ہیں اور کن خدمات کے صلے میں انہیں زمین یا تحائف عطا ہوئے، کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ قدیم تحریری نسخے یا تو گم ہو گئے، یا چوری و ضیاع کا شکار ہوئے، نیز خاندان کے اکثر بزرگ انتقال کر چکے ہیں، اور باقی بزرگوں کی عمر رسیدگی، ضعفِ حافظہ، اور طویل علالت کے باعث بہت سی معلومات زمانے کی گرد میں اوجھل ہو چکی ہیں خاندان میں ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ سید امیر علی یا اُن کے بزرگوں میں سے کسی ایک کو ایک شاہی خاتون کے علاج کے لیے دربار میں طلب کیا گیا روایت کے مطابق علاج کے نتیجے میں شفا حاصل ہوئی، جس پر بطورِ احسان دربار کی منظوری سے ایک قیمتی قطعۂ زمین عطا کیا گیا۔
مغل دربار کے شاہی طبیب اور رازدارانہ معاملات
مغل دور میں شاہی حکیم صرف معالج ہی نہیں بلکہ اندرونی معاملات کے رازدار بھی ہوا کرتے تھے۔ شاہی طبیبوں کو سلطنت میں خاص مقام حاصل تھا اور کئی حکما کو منصبِ امارت تک عطا ہوا۔ اسی طرح بعض حکیم دربار میں امرا کی طرح سج دھج کے ساتھ نظر آتے تھے۔ مغل مصوری میں بعض مناظر میں ایک سربراہ حکیم (سَرمد الاطباء) کو مریض بادشاہ یا شہزادے کا علاج کرتے اور ماتحت حکیموں کو ہدایات دیتے دیکھایا گیا ہے، جو دربار میں ان کے اونچے درجہ کا عکاس ہے۔
شاہی حکیموں کو نہایت اعتماد کے ساتھ زنان خانہ (حرم) تک رسائی حاصل ہوتی تھی لیکن اس میں انتہائی رازداری ملحوظ رکھی جاتی تھی۔ یورپی سیاح منوچی لکھتا ہے کہ جب کسی شاہی خاتون کا علاج کرنا ہوتا تو حکیم کو سر سے کمر تک کپڑے سے ڈھانپ کر حرم میں لے جایا جاتا اور خواجہ سرا ساتھ رہتے، تاکہ نہ حکیم کی نگاہ ادھر اُدھر اٹھے نہ خواتین بے پردہ ہوں۔ اسی طرح بیمار شہزادیوں کے لیے حرم کے اندر الگ بیمارخانہ کا انتظام ہوتا تھا جہاں صرف مخصوص خدام اور حکیم کو اجازت ملتی۔ ان احتیاطوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاہی طبیب سلطنت کے نجی معاملات کے کس قدر امین ہوتے تھے شاہی حکیموں کا قرب بعض اوقات سیاسی سازشوں میں بھی ان کے ملوث ہونے یا کم از کم آگاہ ہونے کا باعث بنتا تھا۔ مثلاً فرانسیسی سیاح توارنیئر 1665ء میں الہ آباد سے گزرا تو اسے بتایا گیا کہ ایک صوبیدار کے مصاحب فارسی حکیم نے اپنی بیوی کو محل کی چھت سے پھینک کر قتل کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ یہ واقعہ حکیم کی ذاتی زندگی کا تھا، لیکن دربار میں چہ مہ گوئیاں ہوئیں کہ کہیں یہ سازش اقتدار تک رسائی کا حصہ تو نہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہی حکیم اپنی حیثیت اور قربت کو کبھی غلط استعمال بھی کر سکتے تھے اور دربار کے انتہائی پوشیدہ معاملات تک رسائی رکھتے تھے۔ مغلیہ تاریخ میں بعض حکیموں کو زہر دینے یا بچانے کے واقعات کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔
روحانی مقام اور علمی تاثیر
سید امیر علیؒ آلِ محمدؐ ہونے کی وجہ سے ایک بلند پایہ روحانی بزرگ بھی تھے ان کے علم و فضل کی تاثیر اور روحانی مقام کی بنیاد ان کے حسب و نسب پر بھی تھی، کیونکہ وہ آلِ محمد ﷺ اور نسبِ حضرت مولا علی علیہ السلام ابن ابی طالب علیہ السلام سے تعلق رکھتے تھے یہی نسبت ان کے روحانی کمالات اور ان کی دعاؤں کی مقبولیت کی بنیاد بنی ان کی زندگی مکمل طور پر دین داری، عبادت اور خدمتِ خلق میں بسر ہوئی وہ دنیاوی جاہ و جلال اور مال و دولت سے بے نیاز ہو کر ایک سادہ مگر بامقصد زندگی گزارتے رہے ان کی طبی مہارت کے ساتھ ساتھ ان کی روحانی تاثیر بھی بے مثال تھی، جس کی بدولت لوگ انہیں ایک ولی اللہ کی حیثیت سے بھی جانتے تھے۔
نسب:
سید امیر علی شاہؒ بن سید حیدر شاہؒ بن سید قطب شاہؒ بن سید کبیر شاہؒ بن سید شرف الدین شاہؒ بن سید شمس الدین شاہؒ بن سید جہانگیر شاہؒ بن سید یار شاہ حیدرؒ بن سید شاہ نظامؒ بن سید زین العابدینؒ بن سید علم الدینؒ بن سید جلال الدین حیدرؒ بن سید صفی الدینؒ بن سید نظام الدینؒ بن سید علیم الدینؒ بن سید جلال الدینؒ بن سید علم الدین بخاریؒ بن سید محمود نر ناصر الدینؒ بن سید جلال الدین حسین المعروف مخدوم جہانیاں جہانگشت رحمۃ اللہ علیہ بن سید سلطان احمد کبیرؒ بن حضرت سخی سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ بن سید قطب کمال بن سید علی المعیدؒ بن سید جعفر ؒبن سید محمد بخاریؒ بن سید محمود ؒبن سید احمد شاہؒ بن سید عبداللہؒ بن سید علی اصغر ؒبن سید جعفر ثانیؒ بن امام علی نقی علیہ السلام بن امام محمد تقی علیہ السلام بن امام علی رضا علیہ السلام بن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام بن امام جعفر صادق علیہ السلام بن امام محمد باقر علیہ السلام بن امام زین العابدین علیہ السلام بن امام حسین علیہ السلام بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ علیہ السلام بن حضرت ابوطالب علیہ السلام بن حضرت عبدالمطلب علیہ السلام
اولاد و نسل
سید امیر علی کے صاحبزادے سید شاکر علی تھے، ان کے صاحبزادے کا نام سید عاشق علی تھا، جن کے فرزند سید نفیس علی شاہ تھے۔ سید نفیس علی شاہ کے تین صاحبزادے تھے: حاجی سید حفیظ علی اور ان کے چھوٹے بھائی سید محبت علی قیامِ پاکستان کے موقع پر ان تینوں بھائیوں نے اپنے اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ پاکستان کی جانب ہجرت کی، اور یوں یہ سلسلۂ نسب برصغیر کے تاریخی تناظر میں ایک نئی جغرافیائی سمت اختیار کر گیا سید امیر علیؒ کی وفات کے حوالے سے تاریخی شواہد واضح نہیں ہیں، سید شاکر علیؒ نے اتر پردیش کے ضلع فیروز آباد کی طرف ہجرت کی کچھ روایات کے مطابق، وہ دینی تبلیغ کے فروغ اور سیاسی کشیدگی سے دور رہنے کے لیے یہاں منتقل ہوئے فیروز آباد انہوں نے اپنا مسکن بنایا اور یہاں تبلیغِ دین، اصلاحِ معاشرہ، اور روحانی و فلاحی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
Comments
Post a Comment