سید عاشق علیؒ بن سید شاکر علی شاہؒ
سید عاشق علیؒ بن سید شاکر علی شاہؒ
سادگی، تقویٰ اور روحانی وابستگی
سید عاشق علی ایک سادہ نہایت دین دار شخصیت کے حامل تھے وہ ہمیشہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے جڑے رہے اور ان کی محبت کو اپنی زندگی کا محور بنایا نہایت متقی، پرہیزگار اور نیک سیرت انسان تھے، جو ہر حال میں دیانت، شریعت اور روحانی اصولوں پر قائم رہے۔ آپ سید شاکر علیؒ کے فرزند تھے، اور آپ کے اندر بھی ایک پاکیزہ کردار کی وہ خوبی موجود تھی جو اللہ کی طرف سے ایک عطیہ تھی آپ نے آلِ محمدؐ سے ہونے کے فرض کو بہترین طریقے سے نبھایا اور ہمیشہ ان کی تعلیمات پر کاربند رہے۔ چونکہ آپ حسینی نقوی البخاری سید تھے اور آپ کا شجرہ نسب امام حسین علیہ السلام سے جا ملتا تھا، اس لیے آپ میں بھی سادگی، تواضع، اور روحانی خلوص پایا گیا جو اہلِ بیت کی میراث تھی اس وقت درگاہ صرف ایک بزرگ کی قبر کے طور پر جانی جاتی تھی ممکن ہے کہ سید شاکر علیؒ کے چاہنے والوں نے سید عاشق علی سے روحانی فیض حاصل کرنا شروع کر دیا ہو، مگر اس حوالے سے خاص شواہد موجود نہیں،البتہ یہ بات واضح ہے کہ سید عاشق علی ایک دین دار، سادہ اور نیک سیرت انسان تھے، جو سادات کے دیگر خاندانوں سے بھی قریبی تعلق رکھتے تھے وہ ہمیشہ محبتِ اہلِ بیت، روحانی تعلیمات، اور حق کی جستجو کو عام کرنے کے لیے کوشاں رہے ان کی سیرت میں علمی حکمت، سادگی اور اخلاص جھلکتا تھا وہ صبر و استقامت، چودہ معصومین علیہم السلام کی محبت اور آئمہ اہل البیت سے وابستگی اور پیروی کے ساتھ زندگی بسر کرتے اور ہمیشہ روحانی پاکیزگی کی راہ پر گامزن رہے سید عاشق علی کی وفات کا مقام فیروز آباد ذکر کیا جاتا ہے خاندانی روایت کے مطابق آپ کی تین اہلیہ تھیں سیدہ زکیہ زیدی، سیدہ آمنہ بخاری، اور تیسری کا نام معلوم نہیں ، اسکے باوجود خواتین کے ناموں پر اختلاف ہے مگر آپ کی اولاد صرف دو ہی ثابت ہیں ایک بیٹا سید نفیس علی، اور ایک بیٹی سیدہ، جنہیں نسل میں 'پھوپھی اماں' کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، ان کی زندگی سادگی اور وقار کا نمونہ تھی، اور وہ ہر خاص و عام کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتے تھے ان کی شخصیت اپنے کردار، اخلاق اور اہلِ بیت علیہم السلام سے گہری عقیدت کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
Comments
Post a Comment