سید نفیس علی شاہؒ بن سید عاشق علی شاہؒ
سید نفیس علی شاہؒ بن سید عاشق علی شاہؒ
دین اور محبتِ اہلِ بیتؑ کے راہرو
سید نفیس علی، جنہوں نے اپنے آباؤ اجداد کے روحانی ورثے کو نہایت اخلاص کے ساتھ آگے بڑھایا، فیروز آباد میں پیدا ہوئے ان کے والد، سید عاشق علی، اہلِ بیتؑ کی محبت اور بارہ آئمہؑ کی عقیدت کے قائل و عامل تھے، اور اسی عقیدے کی روشنی میں اپنے بیٹے کی تربیت کی، سید نفیس علی کی حیات مختصر مگر باوقار تھی بدقسمتی سے، فرقہ واریت کی بنیاد پر وہ اور ان کی اہلیہ دونوں شہید کر دیے گئے ان کے اس سانحہ کے بعد ان کے کمسن بیٹے سید امجد علی، اور ، سید حفیظ علی، سید محبت علی، یتیم ہو گئے، اور ان کی جان کو بھی شدید خطرہ لاحق ہو گیا، ایسے نازک وقت میں سید نفیس علی کی بہن، جنہیں پھوپھی اماں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے غیر معمولی ہمت اور تدبیر کا مظاہرہ کیا۔ راتوں رات وہ بھتیجوں کو فیروز آباد سے لے کر آگرہ فرار ہوئیں آگرہ پہنچنے پر ان کے پاس نہ ٹھہرنے کا کوئی مناسب ٹھکانہ تھا، نہ کوئی ذریعۂ روزگار ابتدا میں وہ آگرہ کی ایک مشہور درگاہ کے احاطے میں مقیم رہے، جہاں وہ محفوظ بھی تھے اور روحانی سہارا بھی موجود تھا سید امجد علی بن سید نفیس علی کی پانچ بیٹیاں تھیں، جو ہجرت کے بعد خاندان سے الگ کراچی میں آباد رہیں؛ بیٹیوں کے عقد سادات ہی میں کیے گئے، بعد ازاں انہی کی نواسیوں میں سے ایک کا عقد سید حفیظ علی کے پوتے سے ہوا جبکہ باقی بھی اکثر رشتہ داروں ہی میں بیاہی گئیں، اور سید امجد علی، سید نفیس علی کی پہلی زوجہ سے تھے، تاہم فیروزآباد والے حادثے کے موقع پر سید نفیس علی کی وفات کے ذکر میں ان کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا، کچھ عرصے بعد، ان کا رابطہ آگرہ کی ہینگ منڈی میں مقیم چند رشتہ داروں سے ہوا یہ سید حفیظ علی اور سید محبت علی کی نانی کا خاندان جو کہ غیر سادات تھا سے تعلق ہوا یوں وہ وہیں آباد ہو گئے، اور ایک نئے باب کا آغاز ہوا یہ داستان صرف ایک خاندان کی ہجرت، قربانی اور صبر کی نہیں، بلکہ یہ اہلِ بیتؑ کی محبت پر ثابت قدم رہنے والے ایک خانوادے کی حق پرستی اور استقامت کی بھی داستان ہے، جو ظلم کے اندھیروں میں بھی اپنے ایمان کے چراغ کو بجھنے نہیں دیتے۔
Comments
Post a Comment