تعارف و مقصدِ تحریر
تعارف و مقصدِ تحریر
اس کتاب کی تالیف کا مقصد ساداتِ کرام کے نسب اور ان کی تاریخ کو محفوظ رکھنا ہے یہ کتاب ایک معزز خانوادۂ سادات کی تاریخ ہے تاریخ اکثر ان نفوسِ قدسیہ کو نظرانداز کر دیتی ہے جو اپنی خاموشی، تقویٰ، خدمت، معرفتِ معصومینؑ اور روحانی عظمت میں وہ رفعتیں رکھتے ہیں جو دنیاوی سلطنتوں کے حکمرانوں کو بھی نصیب نہیں ہوتیں، اور یہی پردہ نشینی رفتہ رفتہ ان شناختوں کو دھندلا دیتی ہے جو نسلوں کے لیے نہ صرف فکری چراغ بلکہ روحانی اصل کی پہچان ہوتی ہیں یہ کتاب ایک ایسی ہی نسلِ سادات ممتاز اور مخفی ہستی سید امیر علی شاہ نقوی البخاریؒ اور ان کی اولاد و نسل کی زندگی، وراثت، خدمات، اور نسبی و روحانی تسلسل کو تحریری قالب میں محفوظ کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، ساداتِ حسینی نسبت، چشتیہ و جلالیہ، اثنا عشری عرفانی سلاسل کی روحانی تاثیر، اور اہلِ بیت اطہارؑ سے غیر مشروط محبت کی مجسم تصویر بھی، یہ کتاب ایک طویل، روحانی، علمی، اور نسبی سلسلے کی تاریخ ہے، جو امام علی نقیؑ سے حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ، درگاہِ اُوچ شریف، مخدوم جہانیاںؒ، اور سید جلال الدین حیدرؒ کے ذریعے لاہور اور پھر سید شاکر علی شاہ نقوی البخاریؒ اور سید حفیظ علی شاہ نقوی البخاریؒ، سید محبت علی شاہ نقوی البخاریؒ کے ذریعے فیروز آباد اور بعد ازاں آگرہ میں مقیم رہے اور تقسیمِ ہند کے وقت ہجرت کے بعد حیدرآباد میں اپنی شناخت کے ساتھ نمایاں ہوا یہ تمام تسلسل صرف زبانی بیانیے پر مبنی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے شہروں سے وابستگی رکھنے والے خاندان کئی نسلوں سے جاننے والے خاندان اور خود اس خاندان کے بزرگوں، کچھ پرانے نسخوں، درگاہی خطوط، سجادہ نشینوں کی شہادت، نایاب شجرہ نویسی، مدینۃ الاولیاء اوچ شریف، تاریخِ انوارِ سادات، مرآتِ جلالی جیسے صوفی متون، مغل و صفوی تاریخ اُوچ شریف و سیرتِ سرخ پوش بخاریؒ جیسے مصادر پر تحقیق کی بنیاد پر مدلل کیا گیا ہے کتاب میں بیان کردہ موضوعات جیسے طبی خدمات، صفوی باقیات اور ایرانی صوفی حلقوں سے فکری نسبت، چشتیہ و جلالیہ فیضان، فقہی توازن، اثنا عشری اصولی عرفان، اور سادات کے درمیان وحدتِ فیضان نہ صرف علمی طور پر مضبوط ہیں بلکہ روحانی طور پر گہرے اثر رکھتے ہیں تحریر کسی ایک فقہی مکتب یا مکتبِ فکر کی نمائندگی نہیں کرتی بلکہ اس کا مقصد ساداتِ نقوی البخاری کے اس تسلسل کو محفوظ کرنا ہے جس میں تشیع کی محبت، تصوف کی روحانیت، صوفی و شیعہ اخوت، درگاہی نظام کی گہرائی، اور خدمتِ خلق کا وہ جذبہ شامل ہے جو کبھی مغل دربار، کبھی صفویوں کے مکتوبات، اور کبھی درگاہ اُوچ شریف کی خاموش گواہیوں میں دکھائی دیتا ہے؛ یہی وہ فکری و روحانی وحدت ہے جو اس کتاب کو فقہی اختلافات سے بالا رکھتے ہوئے وحدتِ نسب، وحدتِ فیضان، اور وحدتِ مقصد کا علَمبردار بناتی ہے اگر یہ کتاب کسی ایک قاری کو بھی اپنی نسبت کی طرف پلٹنے پر آمادہ کرے، کسی محقق کو درگاہی تاریخ پر تحقیق کا شوق دے، یا کسی سادہ دل کو اہل بیتؑ کی معرفت کے در تک پہنچا دے، تو یہی اس کا سب سے بڑا انعام ہوگا۔
یہ کتاب اُن نسلوں کے لیے خاص طور پر نسلِ سید نفیس علی کے لیےایک چراغِ راہ ہے جنہوں نے اپنی دینی، نسبی اور روحانی جڑوں کو بھلا دیا، جو مہاجر نسلوں کی طرح نئی زمین پر نئے مقام کے طلبگار تھے، جن کی تاریخ درباری کاغذوں، فقہی اختلافات، اور سیاسی جبر کے بوجھ تلے دب چکی تھی اور جو یہ جانتے ہیں کہ اُن کے آباء کون تھے، اُن کی ولایت کی بنیاد کیا تھی، اُن کی خدمت، شہادت، اور معرفت یہ کتاب نہ صرف اس سوال کا جواب دیتی ہے، بلکہ ایک خاموش مگر درخشندہ ساداتِ خانوادے کی تاریخ، فیضان، قربانی، اور شناخت کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کرنے کی سعیِ مکمل ہے جو اُوچ شریف سے چل کر فیروز آباد، آگرہ، اور پھر ہجرت کے بعد حیدرآباد تک سفر کرتا ہے، اور اپنے دامن میں اہل بیتؑ سےنسبت، پیروی معصومینؑ، صفوی اخلاص، مغل روایات، اور صوفیانہ خامشی کا نور لیے ہر اُس دل پر دستک دیتا ہے جو نسبت کی پہچان، علم کی تلاش، اور روحانیت کی روشنی کا متلاشی ہے اس کتاب میں مستند روایات کے ساتھ ساتھ متعدد اختلافی روایات بھی شامل کی گئی ہیں، تاکہ راویوں نے مصنفین کو جو کچھ لکھوایا یا سنایا، وہ سب محفوظ رہے چاہے ان میں آپس میں تضاد ہی کیوں نہ ہو تاکہ آج کی تاریخ اپنی اصل صورت میں زندہ رہ سکے، واضح رہے کہ یہ اختلافی روایات محض خاندانی راویوں کے بیانات کا مجموعہ ہیں، جبکہ ہماری تحقیق، مصادر اور شواہد کی روشنی میں خاندان کا نسب اور تاریخی تسلسل مکمل طور پر مستند اور تصدیق شدہ ہے جس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔
شجرۂ نسب
حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت عبدالمطلب علیہ السلام تک
حضرت آدم علیہ السلام ← شیث علیہ السلام ← انوش ← قینان ← مہلائیل ← یرد ← اخنوخ (حضرت ادریس علیہ السلام) ← متوشلخ ← لامک ← حضرت نوح علیہ السلام ← سام ← ارفکشاد ← شالخ ← عابر ← فالج ← رعو ← سروج ← ناحور ← تارخ (آزر) ← حضرت ابراہیم علیہ السلام ← حضرت اسمعیل علیہ السلام ← بشیرلی (لقب بیم ۔ طبع) ← سمیر (لقب بشیمین ۔ معظم فی الکل) ← حمران (لقب اسمعیل ذو الاوج) ← الدریا (لقب حجران الطعان) ← صید (لقب اسمعیل ذو الطبع) ← عقبر (لقب ابراہم جابح اشمل) ← عشی (لقب عافی عقبر ابن الجن) ← ماضی (لقب الظرب حالم النار) ← ناخش (لقب علقم) ← جام (لقب علقم) ← طائح (طاب) لقب صیقان ← یدلاف (تلاف) لقب رائمه ← بلداس (محتل) ← حرا (العوام) ← قیدار (دوباشرہ جزمی) ← عزام (عزام) ← عوض (لقب شمر منی) ← مزری (برمز) ← کی (شیبی) (لقب لجمھر) ← زارح (لقب قمر) ← ناحت ← مقصری (مقص) ← مقصری (لقب حسن ۔ زمل) ← ابہام (ایامی) (لقب دوس الفن ۔ احمل الفلق) ← اقتاد (لقب لیامہ) ← عیمر (عامر) لقب نیدوان ذوالا مد به ← ديشان (لقب ازد اریہ) ← عیضنی (لقب مافر) ← ارغہ (رومہ) (لقب عدون) ← شحن (لقب جنود) ← سنجون (تحزن) (لقب تصور) ← بشرلی (لقب بیم ۔ طبع) ← ال ← عدنان ← معد ← نزار ← مضر ← الیاس ← مدرکہ ← خزیمہ ← کنانہ ← نضر ← مالک ← فہر ← غالب ← لؤی ← کعب ← مرہ ← کلاب ← قصی ← عبد مناف ← ہاشم ← (شیبہ) حضرت عبدالمطلب علیہ السلام
حوالہ جات: حضرت آدم علیہ السلام تا حضرت اسماعیل علیہ السلام: القرآن الکریم، تفسیر ابنِ کثیر (قصص الانبیاء)، تاریخ الرسل والملوک از امام طبری، البدایہ والنہایہ از ابنِ کثیر، قصص الانبیاء از ابنِ کثیر۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام تا عدنان روایتی نسب :تاریخ الرسل والملوک از امام طبری، جمہرة انساب العرب از ابنِ حزم اندلسی، انساب العرب از ابن الکلبی، الاکلیل از ابو محمد الہمَدانی، صفۃ جزیرۃ العرب از الہمَدانی، المعارف از ابن قتیبہ دینوری، الاشتقاق از ابن درید۔ عدنان تا حضرت عبدالمطلب علیہ السلام :السیرۃ النبویۃ از ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ از ابن اسحاق (بروایت ابن ہشام)، البدایہ والنہایہ از ابنِ کثیر، انساب الاشراف از البلاذری، الطبقات الکبریٰ از ابن سعد، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبد البر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ از ابن الاثیر، صحیح البخاری (کتاب المناقب)، صحیح مسلم (فضائل النبی ﷺ)۔
Comments
Post a Comment